سینیٹ اجلاس: سرکار دوعالم ؐ کے اسم مبارک کیساتھ ”خاتم النبیین ؐ“ لکھنے پڑھنے، بولنے کی قرارداد منظور

سینیٹ اجلاس: سرکار دوعالم ؐ کے اسم مبارک کیساتھ ”خاتم النبیین ؐ“ لکھنے ...

  

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں) قومی اسمبلی کے بعد ایوان بالا(سینٹ) نے بھی نصاب اور دستاویزات میں نبی کریم ؐکے نام (اسم مبارک)کیسا تھ ”خاتم النبیینؐ“ لکھنے کی قراردار متفقہ طورپر منظور کرلی۔ بدھ کو چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت اجلاس میں نصاب و دستاویزات میں نبی کریم ؐکے اسم مبارک کیساتھ ”خاتم النبیینؐ“ لازمی لکھنے،بولے اور پڑھنے کی قراردار جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے پیش کی، جسے ایوان بالا(سینیٹ) نے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔ قرارداد کے متن کے مطابق جہاں کہیں بھی تعلیمی نصاب اور سرکاری سطح پر نبی کریمؐؐ کا اسم مبارک آئے وہاں ”خاتم النبیینؐ“ لکھا اور پڑھا اوربولا جائیگا۔ اس موقع پروزیرمملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے متفقہ طور پر قرارداد منظور کئے جانے پر ایوان بالا کو مبارکباد پیش کی جبکہ چیئرمین سینیٹ نے قرارداد چاروں صوبائی اسمبلیوں کے سپیکرز اور وزرائے اعلیٰ کو بجھوانے کی ہدایت کی۔بعدازاں ایوا ن بالا کے اجلاس میں آئندہ مالی سال 2020-21کے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے پا کستان مسلم لیگ (ن)کی سینیٹر عائشہ رضا فاروق نے کہا بجٹ میں منفی شرح نمو ہے، یہ تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے، ابھی کورونا کے معیشت پر منفی اثرات سامنے آنے ہیں، ملک میں بیروزگاری، مہنگائی، نرخوں میں اضافہ، اشیاکی قلت عروج پر ہے۔ حکومت میں آنے سے قبل بیرون ملک سے سرمایہ کاری لانے سمیت بڑے بڑے دعوے کئے گئے، قوم کیساتھ مذاق کیا گیا۔ حکومت کی کورونا سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی بڑی ناقص ہے، ٹائیگر فورس کے قیام کا فیصلہ واپس لیا جائے، بلدیاتی نمائندوں کو ٹائیگر فورس کی جگہ متحرک کیا جائے۔دریں اثناء بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر رحمن ملک نے کہا زر عی ملک ہونے کے ناطے کسانوں کو بھی مراعات و سبسڈی دینی چاہیے۔ ہمارا بارش کا پانی ضائع ہو جاتاہے، اسے ذخیرہ کرنے کی ضرورت ہے، حکومت کو صحت کے حوالے سے جامع حکمت عملی وضع کرنی چاہیے، بجٹ میں لائیو سٹاک کیلئے کچھ نہیں رکھا گیا۔ کورونا سے جاں بحق شہریوں کے درجات کی بلندی کیلئے ہم سب دعا گو ہیں، دنیا میں کوئی حکومت اس طرح کی وبامیں عوام کو ان کی مرضی پر نہیں چھوڑ دیتی بلکہ حکومتوں کا کام ہوتا ہے کہ عوام سے احتیاطی تدابیر پر عمل کرائیں۔ ہم جس معاشی صورتحال میں پھنس چکے ہیں اس سے نکلنے کا راستہ نہیں نظر آتا۔ حکومت کو لائیو سٹاک رکھنے پر مراعات کا اعلان کرنا چاہیے۔ سی پیک کیلئے اتنے کم فنڈز کیوں مختص کئے گئے۔یہ وقت اتحاد و اتفاق کا ہے، حکومت کو کورونا سے نمٹنے کیلئے کرفیو لگانا پڑے گا، اگست میں یہ وباء عروج پر ہو گی۔بعدازاں و فاقی وزیر صنعت حماد اظہر نے سینٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ فاروق نائیک کی سربراہی میں سینیٹ کمیٹی نے بہترین تجاویز پیش کیں،وفاقی وزیر نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ سینٹ کی قائمہ کمیٹی کی تجاویز پر حکومت سنجیدگی سے غو رکریگی، کہا گیا کورونا سے پہلے بھی معیشت کی بری حالت تھی،جبکہ ایسا نہیں کیونکہ کورونا سے پہلے والے سال کے نو ماہ میں معاشی اعشاریئے انتہائی مثبت تھے،ایف بی آر ریونیو میں 17 فیصد اضافہ تھا،ہمارا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20 ارب سے کم ہو کر 3 ارب رہ چکا تھا،فارن ڈائریکٹ انوسٹمنٹ دگنی تھی، 125 فیصد زیادہ ری فنڈ د ئیے،ایف اے ٹی ایف کے 27 میں سے 14 نکات پورے کیے، ہماری برآمدات میں 20 فیصد اضافہ ہو چکا تھا، وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کورونا کی آفت صرف ہم پر نہیں، پوری دنیا پر آئی،مغرب میں لوگ برداشت کر سکتے ہیں، یہاں غریب لوگ لاک ڈاؤن برداشت نہیں کر سکتے، کوروناوباء کی وجہ سے جی ڈی پی پر چھ فیصد اثر پڑا،یہ صور تحا ل بروقت فیصلوں کا تقاضا کرتی تھی۔ ہم نے 1200 ارب کا معاشی پیکج دیا، ہم نے یہ نہیں دیکھا کہ صحت صوبوں کا معاملہ ہے،وفا ق نے صوبوں کے ہسپتالوں کو براہ راست پی پی ایز دیں،ایک کروڑ 60 لاکھ خاندانوں کو 1200 ہزار روپے دئے۔ 35لاکھ چھوٹے کاروبار کے 3ماہ کے بل حکومت نے ادا کیے،100 ارب کے بلز کو موخر کیا گیا، گندم کی ریکا ر ڈ خریداری کی،مغربی دنیا کے صرف صحت کے بجٹ ہمارے پورے بجٹ سے زیادہ ہوتے ہیں۔خواہشات کو اپنے وسائل کے مطا بق رکھنا پڑتا ہے،1600 ٹیرف لائنز پر کسٹم ڈیوٹیز ختم کیں۔ ہیلتھ بجٹ کو ہم نے دگنا کردیا، 50 ارب کے منصوبے صوبوں کیساتھ پلان کیے،رواں سال ایچ ای سی نے تاریخ کا سب سے زیادہ بجٹ خرچ کیا،اس سال ترقیاتی بجٹ میں سب سے زیادہ حصہ بلوچستان کو ملا، پانچ سو ارب روپے سے زائد کی رقم مئی کے مہینے تک سندھ ٹرانسفر ہوچکی ہے۔ حکو مت چاہے بھی تو صوبوں کے پیسے نہیں روک سکتی،پوائنٹ سکورنگ کیلئے ہمیشہ یہ چیزیں استعمال ہوتی رہی ہیں آگے بھی ہونگی۔ حماد اظہر نے کہاکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے خسارہ ہوا،پچھلی حکومت کی مس ہنڈلنگ کی وجہ پاکستان گرے لسٹ میں گیا،کورونا کے اثرات دنیا کی نسبت پاکستان کی معیشت پر کم اثر پڑا ہے،پی پی ایز کو ہم 75 ارب روپے دئیے ہیں پی پی ایز ایکسپورٹ کر رہے ہیں،دوسو اسی ارب روپے گندم کی خریداری کی گی تاکہ مشکل وقت غذائی بحران پیدا نہ ہو،حکومت مشکل حالات میں ایسا بجٹ لے کر آئی کہ کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا۔

سینیٹ اجلاس

مزید :

پشاورصفحہ آخر -