حقیقی تبدیلی اور مسائل کا حل اسلامی نظام میں ہی ہے: سراج الحق

حقیقی تبدیلی اور مسائل کا حل اسلامی نظام میں ہی ہے: سراج الحق

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے ممتاز عالم دین مفتی محمد نعیم کے صاحبزادے مفتی نعمان نعیم سے جامعہ بنوریہ عالمیہ میں ملاقات کی اور ان کے والد کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ مرحوم کے لیے مغفرت اور لواحقین و پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔ اس موقع پر جماعت اسلامی سندھ کے نائب امیر ممتاز حسین سہتو، کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن، سیکریٹری کراچی عبد الوہاب، ڈپٹی سیکریٹری عبد الرزاق خان، ضلع غربی کے امیر محمد اسحاق خان، نائب امیر فضل احد، سیکریٹری اطلاعات کراچی زاہد عسکری، ملک نعیم اور دیگر بھی موجود تھے۔ بعد ازاں سینیٹر سراج الحق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مفتی محمد نعیم عالم اسلام کے عظیم سپوت اور جید عالم دین تھے،ان کی قائم کردہ درس گاہ رشدو ہدایت کا مرکز ہے۔ پوری دنیا میں اس درس گاہ کے طلبہ دین کا کام کررہے ہیں جو ان کے لیے صدقہ جاریہ ہیں،مفتی نعمان ہمارے بھتیجے ہیں جماعت اسلامی کی پوری تائید ان کے ساتھ شامل ہیں ہم آنے والے وقتوں میں ان کے ساتھ ہوں گے۔مرحوم نے پوری زندگی وحدت امت اور اسلامی نظام کے لیے کام کیا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں قوم کے لیے یہی پیغام ہے کہ انقلاب اور حقیقی تبدیلی صرف اسلام کے عادلانہ و منصفانہ نظام کے قیام سے ہی ممکن ہے اور اسلامی نظام ہی ملک و قوم کے مسائل کا حل ہے۔ سینیٹر سراج الحق نے ملک کے حالات اور کراچی کی صورتحال کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت بھی گزشتہ حکومتوں کا تسلسل ہے، حکومت عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہوگئی ہے،پی ٹی آئی کے وزرا کا اعتراف ہے کہ ہم ناکام ہوگئے ہیں۔حکمران خود کہہ رہے ہیں کہ ہمارے پاس پانچ چھ مہینے باقی ہیں،کراچی پاکستان کا سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہے یہاں لوڈ شیڈنگ ہونا باعث شرم ہے۔ شہریوں کو بھاری بل بھیجے جارہے ہیں اور بجلی غائب ہے، کراچی پاکستان کو 75فیصد ٹیکس دے رہا اس کے باوجود شہری فٹ پاتھ پر سونے پر مجبور ہیں۔عوام کو پینے کا صاف پانی اور ٹرانسپورٹ سمیت دیگر سہولیات میسر نہیں ہیں، اسپتالوں کا بہت برا حال ہے، مریضوں کے لیے وینٹی لیٹرز موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وباء کے باعث حکومت نے مدارس اور اسکول بند کیے لیکن ان کو کھولنے کے لیے کوئی لائحہ عمل نہیں دیاجا رہا ہے۔تعلیمی اداروں اور مدارس کے اساتذہ کو کئی ماہ سے تنخواہیں نہیں دی جا سکیں ہیں۔ حکومت کورونا کے لیے جمع شدہ 12 سو ارب روپے میں سے دینی مدارس اور اسکولوں کے لیے بھی ریلیف پیکیج کا اعلان کرے تا کہ اساتذہ کو تنخواہیں دی جاسکیں۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن بھی اپنے پرانے گرداب میں پھنسی ہوئی ہے حقیقی اپوزیشن وہی کرسکتا ہے جس کے پاس ویژن ہو۔علاوہ ازیں سینیٹر سراج الحق نے ممتاز ذاکر و عالم دین علامہ طالب جوہری کے انتقال پر ان کی رہائش گاہ پر اہل خانہ اور دیگر افراد سے ملاقات کی اور مرحوم کے انتقال پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ سراج الحق نے طالب جوہری کی دینی و علمی خدمات پر ان کو خراج تحسین پیش کیا۔ مرحوم کے لیے مغفرت اور لواحقین و پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔ اس موقع پر جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی، کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن، سیکریٹری کراچی عبد الوہاب، ضلع گلبرگ کے امیر فاروق نعمت اللہ، سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری و دیگر بھی موجود تھے۔

مزید :

صفحہ اول -