ہاتھی درآمد کرنے کیلئے وفاق سے این او سی جاری نہ کرنے کیخلاف جواب طلب

ہاتھی درآمد کرنے کیلئے وفاق سے این او سی جاری نہ کرنے کیخلاف جواب طلب

  

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاور ہائیکورٹ نے زمبابوے سے ہاتھی درآمد کرنے کے لئے وفاق کی جانب سے این او سی جاری نہ کرنے کے خلاف دائر درخواست پر ادارہ ماحولیات سے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا عدالت نے قرار دیا ہے کہ متعلقہ کمیٹی مسئلے کو وزارت کے ساتھ اٹھائے، درخواست گزار کے جو تحفظات ہیں ان کو جلد دور کریں کسی کی کوتاہی سامنے آئی تو پھر ان پر بھاری جرمانہ کے ساتھ ان میں سے کسی کی نوکری بھی جاسکتی ہے کیس کی سماعت جسٹس قیصر رشید اور جسٹس نعیم انور پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی ٹھیکیدارحنیف خان کی جانب سے دائر کیس کی سماعت شروع ہوئی تو ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سکندرحیات شاہ،ڈپٹی اٹارنی جنرل اور ڈپٹی ڈائریکٹر پشاور چڑیا گھر اشتیاق اللہ عدلت میں پیش ہوئے جسٹس قیصر رشید نے چڑیا گھر کے ڈپٹی ڈائریکٹر سے استفسار کیا کہ کیا ہاتھی کے لئے یہاں کا ماحول سازگار ہے ہاتھی یہاں لایا گیا اور وہ مر گیا تو پھر کیا ہوگا پہلے بھی پشاور زو میں ضرافہ اور چیتا ہلاک ہوئے ہیں کیا ہاتھی کیلئے یہاں کا موسم سازگار ہے جس پر ڈپٹی ڈائریکٹر چڑیا گھر نے عدالت کو بتایا کہ انٹرنیشل کمیٹی کا کوئی اعتراض نہیں، یہ ڈاکومنٹس فراہم نہیں کررہے اس وقت یہاں اور زمبابوے کا موسم ایک جیسا ہے وفاقی ادارے نے چڑیا گھر کا وزٹ ہی نہیں کیا یہ صرف پوسٹ آفس کا کام کررہے ہیں انٹرنیشنل ایمنل سائٹیز کمیٹی خود نہیں آتی ان کو یہاں کی کمیٹی نے رپورٹ پیش کرنا ہوتا ہے انٹرنیشنل سٹینڈرز کے مطابق ہاتھی کے لئے پانچ ہزار سکوئیرفٹ جگہ درگار ہوتی ہے پشاور چڑیا گھر میں ہم نے 16ہزار سکوئیر فٹ جگہ بنائی ہے جوعالمی معیار کے مطابق ہے جسٹس قیصر رشید نے کہا کہ اگر اپ لوگوں نے تمام انتظامات کئے ہیں تو پھر وفاق کی جانب سے این او سی جاری کیوں نہیں کررہی، متعلقہ ٹھیکدار نے دو ہاتھی خرید کر بل بھی حکومت کو دے دیئے ہیں مگر اب متعلقہ ادارے تاخیری حربے استعمال کررہی ہیں وہ اپنی ڈیوٹی کیوں نہیں کررہے اگر یہ بات سامنے ائی کہ حکومتی ادارے اس تاخیر کے زمہ دار ہیں تو ملوث افراد کو نہ صرف بھاری جرمانہ کیا جائے گا بلکہ اس کی نوکری بھی جا سکتی ہے فاضل بینچ نے متعلقہ کمیٹی کو مسئلہ وزارت کے ساتھ اٹھانے، درخواست گزار کے تحفظات کو جلد دور کرنے اور کمیٹی میں ایڈیشنل ڈائریکٹر پشاور چڑیا گھر کو شامل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ادارہ ماحولیات سے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا عدلت نے کیس کی سماعت 8 جولائی تک کیلئے ملتوی کردی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -