مستحق لوگوں اور مسافروں کی سہولت کیلئے صوبے میں مزید لنگر خانے بھی قائم کئے جائیں گے: محمود خان

مستحق لوگوں اور مسافروں کی سہولت کیلئے صوبے میں مزید لنگر خانے بھی قائم کئے ...

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان سے وزیراعظم پاکستان کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے بدھ کے روز اُن کے دفتر میں ملاقات کی اور صوبے میں کورونا وباء کی وجہ سے متاثر ہونے والے مستحق افراد کو نقد امدادی رقوم کی تقسیم کے علاوہ مسافروں اور دیگر مستحق افراد کو مفت خوراک کی فراہمی کے لنگر خانوں کے انتظام و انصرام سے متعلق اُمور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں احساس پروگرام کے تحت مالی امداد کے لئے زیادہ سے زیادہ مستحق آبادی کو پروگرا م میں شامل کرنے کے لئے نیا سروے کرنے میں اتفاق کرتے ہوئے اس سلسلے میں جلد ہی ورک پلان تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ڈاکٹر کاظم نیاز بھی اس موقع پر موجود تھے۔ کورونا کی موجودہ صورتحال کی وجہ سے صوبے کے متاثرہ مستحق خاندانوں کو احساس پروگرام کے تحت ریلیف پیکج کی مد میں نقد رقوم کی تقسیم کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں اس ریلیف پیکج کی تقسیم انتہائی شفاف اور منظم انداز میں ہوئی ہے اور صرف مطلوبہ معیار پر پورا اُترنے والے مستحق خاندان ہی اس پیکج سے مستفید ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ڈاکٹر ثانیہ نشتر اور اس کی پوری ٹیم نے کورونا ریلیف پیکج کی تقسیم کے عمل کو کامیاب بنانے کے لئے جس انداز میں کام کیا ہے وہ قابل ستائش ہے۔ وزیراعلیٰ نے اس سلسلے میں چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا، اس کی ٹیم اور تمام اضلاع کی انتظامیہ کے کردار کی بھی تعریف کی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے صوبے میں احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کو کامیاب بنانے میں صوبائی حکومت کے تعاون اور اشتراک کار کو مثالی قرار دیتے ہوئے کہاکہ وہ آئندہ بھی اس طرح کے تعاون اور اشتراک کار کی اُمید رکھتی ہیں۔دریں اثناء وزیراعلیٰ نے معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے ہمراہ پشاور میں سیلانی لنگر خانے کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے صوبے میں مسافروں سمیت دیگر مستحق افراد کو مفت خوراک کی فراہمی کے لئے لنگر خانوں کے قیام کو وزیراعظم پاکستان کا ایک غریب پرور اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ کورونا وباء کیوجہ سے صوبے میں لنگر خانوں کے معاملات سست روی کا شکار ہو گئے لیکن چونکہ ہم نے اس وبا ء کے ساتھ رہنا ہے۔ اس لئے لنگر خانوں کو اب مزید فعال بنایا جائیگا۔ صوبے میں اس وقت گیارہ لنگر خانے قائم ہیں اور مزید لنگر خانے بھی قائم کئے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے اس سلسلے میں سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کے منتظمین کا بھی شکریہ ادا کیا۔ بعد ازاں وزیراعلیٰ محمود خان اور معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول سٹی نمبر 1 میں قائم احساس کیش ڈیلیوری پوائنٹ کا بھی دورہ کیااور وہاں پر کیش کی تقسیم کار کے کاموں کا جائزہ لیا۔

پشاور(سٹاف رپورٹر) پشاور انسٹیٹوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) کی نو تعمیر شدہ عمارت کو فی الوقت کورونا سے متاثرہ مریضوں کے علاج کیلئے استعمال میں لانے کا فیصلہ کیا گیاہے اور مذکورہ ہسپتال کوفور ی طور پر فعال بنانے کیلئے محکمہ صحت کو درکار طبی عملے کی دستیابی کو یقینی بنانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ فیصلہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت صوبائی ٹاسک فورس برائے انسداد کورونا کے ایک اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں پی آئی سی کو کورونا مریضوں کیلئے فوری طور پر فعال بنانے کیلئے واک ان انٹرویو کے ذریعے ڈاکٹرز اور دیگر عملے کی بھرتی کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔اسی طرح محکمہ مواصلات، پی ٹی سی ایل اور پیسکو کو بھی فوری طور پر عمارت میں یوٹیلیٹی کنکشنز کو بروقت یقینی بنانے کیلئے اقدامات کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا، وزیرمحنت شوکت یوسفزئی، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات اجمل وزیر، چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز،ایڈیشنل چیف سیکرٹری شکیل قادر، کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود،انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس کو کورونا کی تازہ ترین صورتحال، سمارٹ لاک ڈاؤن پر عمل درآمد، کورونا کے مریضوں کیلئے سرکاری ہسپتالوں کی استعداد کار کو بڑھانے کے سلسلے میں اب تک کی پیشرفت اور دیگر مختلف اُمور پر تفصیلی بریفینگ دی گئی۔ اجلاس میں سمارٹ لاک ڈاؤن کو مزید موثر بنانے اور بازاروں میں ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کیلئے انتظامیہ کو مناسب اقدامات اُٹھانے کی بھی ہدایت کی گئی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ مارکیٹوں میں ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنانے کیلئے متعلقہ تاجر تنظیموں کے ساتھ بات چیت کی جائے جس کے بعد جن مارکیٹوں میں ایس او پیز کی خلاف ورزی ہو رہی ہو اُن کو فوری طور پر بند کر دیا جائے۔ اجلاس میں آنے والی عید الضحیٰ اور محرم الحرام کے دوران کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر قابل عمل حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا اوراس مقصد کیلئے سیکرٹری داخلہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔ عید قربان کیلئے جانوروں کی خریدو فروخت کیلئے جگہ جگہ مویشی منڈیوں کی بجائے مخصوص ایس او پیز کے تحت منتخب مقامات پر ہی مویشی منڈیاں قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سرکاری ہسپتالوں میں کورونا مریضوں کیلئے آئی سی یو اور ایچ ڈی یو بیڈز کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے۔ 31 مئی 2020 کو صوبے کے سرکاری ہسپتالوں میں آئی سی یو بیڈز کی تعداد 121 تھی جس میں 24 جون تک مزید49 بیڈز کا اضافہ کیا گیا ہے جبکہ 31 جولائی تک آئی سی یو بیڈز کی تعداد 330 تک بڑھا دی جائے گی۔آئی سی یو بیڈز کی یو ٹیلائزیشن کی شرح 66 فیصد ہے۔ اسی طرح ایچ ڈی یو بیڈز کی استعداد 490 سے بڑھا کر696 کر دی گئی ہے۔ 31 جولائی تک ایچ ڈی یو بیڈز کی مجموعی استعداد 1644 تک لے جانے کا پروگرام ہے۔ صوبے میں دستیاب ایچ ڈی یو بیڈز کی یوٹیلائزیشن کی شرح 50 فیصد ہے۔ صوبے کے تدریسی ہسپتالوں میں ٹیسٹنگ لیبارٹریز کو ہفتہ بھر چوبیس گھنٹے چلانے کی ہدایت بھی کی جا چکی ہے۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر مرکزی کنٹرول روم کو دیگر تمام ہسپتالوں سے مربوط کرنے اور ہسپتالوں کے فوکل پرسنز مقرر کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ مختلف ہسپتالوں میں مختص آئی سی یو اور ایچ ڈی یو بیڈز کا بروقت اور بہتر استعمال ممکن ہو سکے۔ اس اقدام سے کسی ایک ہسپتال پر بوجھ بھی نہیں پڑے گا اور مریضوں کو تکلیف بھی نہیں ہو گی۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے تعاو ن سے آئندہ ماہ جولائی کے اختتام تک صوبے کے تین ہسپتالوں پشاور انسٹیٹوٹ آف کارڈیالوجی، ویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال رجڑ چارسدہ، ویمن اینڈ چلڈرن بلاک ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد میں 450 اضافیبیڈز کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی۔جولائی کے وسط تک پشاور انسٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں 40 آئی سی یو بیڈز، 110 ایچ ڈی یو بیڈز اور 100 آئسولیشن بیڈز قائم کئے جائیں گے۔ پشاور کے دو تدریسی ہسپتالوں ایل آر ایچ اور کے ٹی ایچ کورونا کے مریضوں کیلئے کافی بیڈز دستیاب ہیں۔ صوبے میں کورونا ٹیسٹنگ کی مجموعی استعداد ساڑھے تین ہزار یومیہ سے تجاوز کر گئی ہے، سندھ کے بعد فی ملین آباد ی کے مقابل سب سے زیادہ کورونا ٹیسٹنگ کی جارہی ہے۔

مزید :

صفحہ اول -