کتنے پائلٹس نے اپنی جگہ کسی اور کے امتحان دینے کا اعتراف کرلیا؟ وفاقی وزیر ہوا بازی کا ایسا دعویٰ کہ یقین کرنا مشکل

کتنے پائلٹس نے اپنی جگہ کسی اور کے امتحان دینے کا اعتراف کرلیا؟ وفاقی وزیر ...
کتنے پائلٹس نے اپنی جگہ کسی اور کے امتحان دینے کا اعتراف کرلیا؟ وفاقی وزیر ہوا بازی کا ایسا دعویٰ کہ یقین کرنا مشکل

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیر ہوابازی غلام سرور نے طیارہ حادثے سے متعلق کہا کہ شوکاز کے بعد اسکروٹنی میں کئی پائلٹس کی ڈگریاں جعلی نکلی تھیں، 262 پائلٹس کے مشکوک لائسنس یقیناًتشویشناک ہے۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور نے کہا کہ کل سے ایسے مشکوک لائسنس والے پائلٹس جہاز نہیں اڑائیں گے، مشکوک لائسنس والے پائلٹس کی فلائنگ روکنے کی ہدایت کی ہے۔

غلام سرور کا کہنا تھا کہ طیارہ حادثے سے متعلق مکمل رپورٹ ابھی نہیں آئی لیکن تحقیقاتی رپورٹ انشااللہ رواں سال ہی آجائے گی اور تحقیقاتی کمیٹی میں عالمی ماہرین بھی شامل تھے۔وزیراعظم کے نوٹس میں معاملہ لائے انہوں نے کہا انکوائری ہونی چاہیے، وزیراعظم نے کہا کہ ایسے لوگوں کو نکالیں اور سزائیں بھی دیں، سی اے اے آج ایسے پائلٹس کو گراو¿نڈ کرنے پر ہی کام کررہا تھا۔

غلام سرور خان نے بتایا کہ وزیراعظم نے کہا ایسے پائلٹس کو فوری گراو¿نڈ کریں اور ہدایت کی ایسے لوگوں سے طیارے نہ اڑوائے جائیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایسےلوگ ہماری نظرمیں ہیں جن کے گریبانوں پر ہاتھ ڈالا جائے گا، 9 پائلٹس نے اعتراف بھی کیا کہ ہماری جگہ کسی اور نے امتحان دیا۔

وفاقی وزیر ہوابازی نے کہا کہ ماضی میں ایسے معاملات پر کسی نے توجہ نہیں دی، بھوجا اور ایئربلیو حادثات میں بھی پائلٹس کی کوتاہی سامنے آئی، جن افراد نے معاملات کو نظر انداز کیا ان کیخلاف بھی کارروائی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پائلٹس کی گفتگو سنی ہے جواب رپورٹ کا حصہ ہے، مکمل رپورٹ پیش کریں گے تو ایوان کو گفتگو سے بھی آگاہ کریں گے، کوشش کررہے ہیں رواں سال ہی مکمل انکوائری رپورٹ پیش کریں اور ساتھ سفارشات بھی پیش کریں۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -