ایگزیکٹو کا کام ہے اسے اپنا کام کرنے دیں،کیا ہم بطور جج عوام کے سامنے اس بحران کے ذمے دار ہیں یا ایگزیکٹو؟ ،اسلام آبادہائیکورٹ، پٹرول ذخیرہ اندوزی میں ملوث کمپنیوں کےخلاف کارروائی کیس کا فیصلہ محفوظ

ایگزیکٹو کا کام ہے اسے اپنا کام کرنے دیں،کیا ہم بطور جج عوام کے سامنے اس ...
ایگزیکٹو کا کام ہے اسے اپنا کام کرنے دیں،کیا ہم بطور جج عوام کے سامنے اس بحران کے ذمے دار ہیں یا ایگزیکٹو؟ ،اسلام آبادہائیکورٹ، پٹرول ذخیرہ اندوزی میں ملوث کمپنیوں کےخلاف کارروائی کیس کا فیصلہ محفوظ

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آبادہائیکورٹ نے پٹرول ذخیرہ اندوزی میں ملوث کمپنیوں کےخلاف کارروائی کیس کافیصلہ محفوظ کرلیا،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ وزارت ایگزیکٹو کا حصہ ہے قانون میں کہیں پابندی تو نہیں ہے کہ وہ انکوائری نہ کریں،ہمیں آپ کمیٹی میں کیوں لانا چاہتے ہیں؟ ایگزیکٹو کا کام ہے اسے اپنا کام کرنے دیں،کیا ہم بطور جج عوام کے سامنے اس بحران کے ذمے دار ہیں یا ایگزیکٹو؟ ۔

میڈیارپورٹس کے مطابق پٹرول ذخیرہ اندوزی میں ملوث کمپنیوں کےخلاف کارروائی کے کیس پر سماعت ہوئی،چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی،وکیل آئل کمپنی نے کہاکہ کمیشن آف انکوائری ایکٹ کے تحت انکوائری کمیشن نہیں بنا،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ شوگر ملز کے خلاف کمیشن نہ بنتا تب بھی ایگزیکٹو انکوائری کر سکتی ہے، کیا آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ ایگزیکٹو اس طرح کوئی انکوائری نہیں کر سکتی؟۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہاکہ وزارت ایگزیکٹو کا حصہ ہے قانون میں کہیں پابندی تو نہیں ہے کہ وہ انکوائری نہ کریں،ہمیں آپ کمیٹی میں کیوں لانا چاہتے ہیں؟ ایگزیکٹو کا کام ہے اسے اپنا کام کرنے دیں،کیا ہم بطور جج عوام کے سامنے اس بحران کے ذمے دار ہیں یا ایگزیکٹو؟ ۔

وکیل آئل کمپنی نے کہاکہ وزیراعظم کہہ رہے ہیں ان کے لائسنس کینسل کرکے پکڑ لو، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ وزیراعظم ایگزیکٹو ہیں وہ کہہ سکتے ہیں،

چیف جسٹس نے وکیل عابدساقی سے استفسارکیا کہ کیا آپکی کمپنی کے خلاف کوئی ایکشن ہوا ہے؟،وکیل آئل کمپنی نے کہاکہ آئین شفاف ٹرائل کی ضمانت دیتا ہے جو ہمیں نہیں مل رہی،قانون کے تحت فیول کرائسز مینجمنٹ کمیٹی کے پاس کوئی اختیار نہیں،وکیل عابد ساقی نے کہاکہ ہمارے کیس کا انکوائری کمیشن ایکٹ 2017 کے ساتھ کوئی تعلق نہیں،قوانین کےمطابق ہی متعلقہ ادارے کارروائی کرسکتے ہیں اس سے ہٹ کرنہیں۔

چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسارکیا کہ آپ کس اتھارٹی کے تحت یہ کارروائی کر رہے ہیں؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ ریگولیٹر کی موجودگی میں بھی ایگزیکٹو کو کارروائی کا اختیار ہے،عدالت نے فریقین کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -