زرتاج گل کورونا کی مضحکہ خیزتعریف سے قبل کیا کچھ کہتی رہیں اور آج کل ان کی کونسی میمز ہٹ ہیں؟ تفصیلات آپ بھی جانئے

زرتاج گل کورونا کی مضحکہ خیزتعریف سے قبل کیا کچھ کہتی رہیں اور آج کل ان کی ...
زرتاج گل کورونا کی مضحکہ خیزتعریف سے قبل کیا کچھ کہتی رہیں اور آج کل ان کی کونسی میمز ہٹ ہیں؟ تفصیلات آپ بھی جانئے

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) ان دنوں وفاقی وزیر ماحولیات پاکستان کے سرکاری ٹی وی پر بیٹھ کر کورونا کی، کی گئی تعریف کی وجہ سے سوشل میڈیا صارفین کے نشانے پرہیں اور اب سینئر صحافی ارشاد بھٹی نے بھی اس پرروشنی ڈالی ہے اور ماضی میں ان کی طرف سے دیئے گئے متنازعہ بیانات اور سوشل میڈیا  پر ہٹ ہونیوالی چند میمز بھی گنوادی ہیں۔

روزنامہ جنگ میں انہوں نے لکھا کہ "محکمہ ماحولیاتی تبدیلی کی وزیر زرتاج گل کے پھر چرچے، وہی زرتاج گل جنہوں نے ایک بار کہا تھا کہ اس بار پاکستان میں اتنی زیادہ جو بارشیں اور برفباری ہوئی، اس کا کریڈٹ عمران خان کو جاتا ہے، مطلب یہ کپتان کی برکتیں کہ بارشیں اور برفباری ہوئی۔

یہ بھی زرتاج گل ہی جنہوں نے کپتان کی تعریف کرتے ہوئے کہا، ہمارے وزیراعظم کی کیا بات، عین بحران میں جس انداز سے وہ چل کر آتے ہیں، جو ان کی کِلر سمائل (قاتل مسکراہٹ) سے ہم اپنی پریشانیاں بھول جاتے ہیں۔ یہ بھی زرتاج گل ہی جنہوں نے فرمایا، کورونا نے اِن ڈائریکٹ میری وزارت کو بہت فائدہ پہنچایا۔

یہ بھی زرتاج گل ہی جنہوں نے کہا، ماسک ضرور پہننا چاہیے مگر ان لوگوں کو جن کو کورونا وائرس لگ چکا ہو، یہ بھی زرتاج گل جنہوں نے قوم کو آگاہ کیا کہ ڈینگی کی طرح اب کورونا وائرس ہر سال آیا کرے گا، اس بار زرتاج گل کی کورونا تعریف کے چرچے، کورونا کی ایسی تعریف کی کہ خود کورونا بھی شرما گیا بلکہ ابھی تک شرمایا شرمایا پھر رہا، زرتاج گل نے کہا، کووڈ 19کا مطلب ہے کہ اس کے 19پوائنٹس ہیں، جو کسی بھی ملک میں کسی بھی طرح اپلائی ہو سکتے ہیں"۔

ارشاد بھٹی کے بقول "اب کورونا کی اس تعریف کے بعد سوشل میڈیا پر یار لوگوں نے زرتاج گل کے نام سے ایسے ایسے لطیفے گھڑ دیے کہ خدا کی پناہ، جیسے، ٭امانت چن، جیکی چن اور ندیم افضل چن آپس میں کزن ہیں، زرتاج گل ٭سینیٹ میں اگر ٹائی لگا کر جائیں تو اسے سینیٹائزر کہتے ہیں، زرتاج گل ٭گاڑیوں کے ڈینٹ نکالنے والوں کو ڈینٹسٹ کہتے ہیں، زرتاج گل ٭انسٹاگرام میں 19گرام ہوتے ہیں، زرتاج گل ٭1122کا مطلب ہے کہ مریضوں کو ایمبولینس میں ایک ایک یا دو دو کرکے اسپتال لا یا جائے، زرتاج گل

٭ریڈیو سننے والوں کو ریڈیالوجسٹ کہتے ہیں، زرتاج گل ٭سائیکل چلانے والوں کو سائیکالوجسٹ کہتے ہیں، زرتاج گل۔ خیر یہ تو گپ شپ، میرا یہ ماننا کہ سرداروں، جاگیرداروں کو ہرانے والی زرتاج گل باکمال مقرر، سیاسی مخالفین کو منہ توڑ جواب دینے والی، باقی ہم سب انسان، کسی کی زبان بھی اِدھر اُدھر ہو سکتی ہے۔

بات کہاں سے کہاں نکل گئی، بتا رہا تھا، آج کل کوئی لطیفہ بھی سناؤ، یار لوگ اسے جھٹ سے حکومت یا اپوزیشن سے ملا دیتے ہیں، ابھی پچھلی اتوار کو شیخو سے ملنے گیا، آدھا کلو یخنی پی کر، ماسک ٹھوڑی پر ٹکائے سگار پیتے شیخو کو باتوں باتوں میں جب یہ لطیفہ سنایا کہ جب چار پٹھان جنازہ اٹھائے تیزی تیزی میں قبروں کے اوپر چلنے لگے تو کسی نے کہا، بھائی کچھ خیال کرو، نیچے قبریں، مردے ہیں، ایک پٹھان بولا، ہم نے اوپر کون سا ورلڈ کپ اٹھایا ہوا ہے۔ یہ سن کر شیخو تلخ لہجے میں بولا، شرم کرو، کبھی تو کپتان کی بدتعریفی سے پرہیز کر لیا کرو۔

میں نے کہا، محترم، اس لطیفے میں کپتان کہاں سے آگیا، شیخو بولا، مجھے بچہ سمجھتے ہو، ورلڈ کپ کس نے جیتا تھا، تم نے اس لطیفے میں یہ بتایا کہ جس نے ورلڈ کپ اٹھایا، اب وہ تبدیلی کا مردہ اٹھائے پھر رہا، میں نے کہا، میرے بھائی، لطیفے کو کہاں سے کہاں ملا دیا، اس ’دور اندیشی‘ پر مبارکباد قبول کریں، مگر یقین کرو، جو کچھ آپ فرما رہے، میرے وہم و گمان میں بھی نہیں"۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -