”مجھے سینٹرل کنٹریکٹ سے باہر ہونے کا اتنا دکھ نہیں جتنا۔۔۔“ فاسٹ باؤلر جنید خان قومی کرکٹرز کے کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد اپنا نام زیر غور آنے پر پھٹ پڑے

”مجھے سینٹرل کنٹریکٹ سے باہر ہونے کا اتنا دکھ نہیں جتنا۔۔۔“ فاسٹ باؤلر جنید ...
”مجھے سینٹرل کنٹریکٹ سے باہر ہونے کا اتنا دکھ نہیں جتنا۔۔۔“ فاسٹ باؤلر جنید خان قومی کرکٹرز کے کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد اپنا نام زیر غور آنے پر پھٹ پڑے

  

پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ باؤلر جنید خان نے کہا ہے کہ سینٹرل کنٹریکٹ سے باہر ہونے سے زیادہ دکھ اس بات کا ہے کہ دورہ انگلینڈ کیلئے 29 کھلاڑیوں کا اعلان ہوا تو اس میں میرا نام شامل نہیں تھا۔

تفصیلات کے مطابق جنید خان نے کہا کہ اگر دورہ انگلینڈ کیلئے سلیکشن کارکردگی کی بنیاد پر کی گئی ہے تو میرا ریکارڈ سب سے اچھا ہے اور سکواڈ میں شامل تمام کھلاڑیوں میں سب سے زیادہ کاؤنٹی کرکٹ میں کھیلا ہوں۔ انگلینڈ میں میری پرفارمنس کا جائزہ لیا جائے تو مجھے ٹیم کا حصہ ہونا چاہیے تھا لیکن اس صورتحال میں بھی مایوس نہیں ہوں، پہلے سے زیادہ محنت کروں گا اور کوشش کروں گا کہ سلیکشن کمیٹی کے دل جیت سکوں۔

جنید خان نے کہا کہ انگلینڈ میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے نئے قوانین سے ریورس سوئنگ کرنے والے فاسٹ باؤلرز کو مشکلات پیش آئیں گی اور انہیں وکٹیں لینے کیلئے کافی زور لگانا پڑے گا۔ بال پر تھوک نہیں لگے گا اور شائن نہیں ہو گا تو ہر باؤلر کیلئے حریف بلے باز کو آؤٹ کرنا چیلنج ہوگا۔ پاکستان کے پاس شاہین آفریدی اور نسیم شاہ جیسے نوجوان باؤلرز کا ہونا بہت خوشی کی بات ہے کیونکہ جونیئرز کے ساتھ سینئرز کا کمبی نیشن ہوتو نئے لڑکوں کو سیکھنے کا بہت موقع ملتا ہے۔

جنید خان کا کہنا تھا کہ جونیئرز کی موجودگی سے سینئرز پر بھی کارکردگی دکھانے کا دباؤ ہوتا ہے اور مسلسل موقع نہ ملنے کے بعد جب چانس ملتا ہے تو کھلاڑی پر دباؤ ہوتا ہے جس کی وجہ سے کرکٹر اپنی نیچرل گیم نہیں کھیل پاتا اور میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ گاؤں میں اپنی ایک چھوٹی سی اکیڈمی ہے، جہاں ٹریننگ کر لیتا ہوں، خود کو فٹ رکھا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر ٹیم کو دستیاب ہوسکوں۔

مزید :

کھیل -