کراچی کانالہ صاف کرنے کیلئے پیسے نہیں،سندھ حکومت 400 لگژری گاڑیوں کیلئے رقم کیسے خرچ کرسکتی ہے؟،چیف جسٹس پاکستان

کراچی کانالہ صاف کرنے کیلئے پیسے نہیں،سندھ حکومت 400 لگژری گاڑیوں کیلئے رقم ...
کراچی کانالہ صاف کرنے کیلئے پیسے نہیں،سندھ حکومت 400 لگژری گاڑیوں کیلئے رقم کیسے خرچ کرسکتی ہے؟،چیف جسٹس پاکستان

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں کورونا ازخودنوٹس کیس میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزاراحمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ سندھ حکومت 400 لگژری گاڑیوں کیلئے رقم کیسے خرچ کرسکتی ہے؟،یہ گاڑیاں صوبے کے حکمرانوں کیلئے ہیں،ایک گاڑی کی قیمت ایک کروڑ 16 لاکھ ہے،اس طرح کی لگژری گاڑیاں منگوانے کی اجازت نہیں دیں گے،4 ارب کی رقم سپریم کورٹ کے پاس جمع کرائیں،چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ کراچی کانالہ صاف کرنے کیلئے پیسے نہیں،کیادیگرصوبے بھی گاڑیاں منگوارہے ہیں۔

نجی ٹی وی کے مطابق سپریم کورٹ میں کورونا ازخودنوٹس کی سماعت ہوئی ،چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی ،عدالت نے کہاکہ وزیراعظم کہتا ہے ایک صوبے کاوزیراعلیٰ آمرہے،اس کی وضاحت کیاہوگی؟چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ وزیراعظم اوروفاقی حکومت کی اس صوبے میں کوئی رٹ نہیں ہے؟،پٹرول،گندم،چینی کابحران ہے،کوئی بندہ نہیں جواسے دیکھے،اٹارنی جنرل نے کہاکہ پاکستان ایساملک ہے جہاں رمضان میں قیمتیں بڑھ جاتی ہیں،دیگر ممالک میں رمضان کے دوران قیمتیں کم ہوجاتی ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ بیرون ملک سے منگوائی گئی ادویات کیانجی پارٹی کودی گئی ہیں؟،جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ اس صورتحال میں این ڈی ایم اے کی ذمہ داری بڑھ گئی،عدالت نے کہاکہ پہلے بھی یہی ہواپرائیویٹ پارٹیوں نے سامان منگواکرقیمت بڑھائی۔

عدالت نے کہاکہ سندھ حکومت 400 لگژری گاڑیوں کیلئے رقم کیسے خرچ کرسکتی ہے؟،چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ یہ گاڑیاں صوبے کے حکمرانوں کیلئے ہیں، ایک گاڑی کی قیمت ایک کروڑ 16 لاکھ ہے،اس طرح کی لگژری گاڑیاں منگوانے کی اجازت نہیں دیں گے،4 ارب کی رقم سپریم کورٹ کے پاس جمع کرائیں ،چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ کراچی کانالہ صاف کرنے کیلئے پیسے نہیں،کیادیگرصوبے بھی گاڑیاں منگوارہے ہیں۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -