لاک ڈاؤن کے دوران لوڈشیڈنگ کس بات کی ہورہی ہے،چیف جسٹس پاکستان

لاک ڈاؤن کے دوران لوڈشیڈنگ کس بات کی ہورہی ہے،چیف جسٹس پاکستان
لاک ڈاؤن کے دوران لوڈشیڈنگ کس بات کی ہورہی ہے،چیف جسٹس پاکستان

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)کورونا ازخودنوٹس کیس میں چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ لاک ڈاؤن کے دوران لوڈشیڈنگ کس بات کی ہورہی ہے،لوگوں کو 18 گھنٹے بجلی نہیں دیں گے وہ بات کیوں سنیں گے، ہرشہری کوبنیادی سہولتیں ملنی چاہئیں،حکومت اپناپلان دے۔

نجی ٹی وی کے مطابق سپریم کورٹ میں کورونا ازخودنوٹس کیس کی سماعت ہوئی ،چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی، چیف جسٹس گلزاراحمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ لاک ڈاؤن کے دوران لوڈشیڈنگ کس بات کی ہورہی ہے،لوگوں کو 18 گھنٹے بجلی نہیں دیں گے وہ بات کیوں سنیں گے۔

چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ حکومت نے عوام کےساتھ اپنا معاہدہ توڑدیا،آئین کامعاہدہ ٹوٹے بڑاعرصہ ہوچکا،عدالت نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ حکومت سے ہدایات لے کربتائیں کیاکرناہے؟،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ہرشہری کوبنیادی سہولتیں ملنی چاہئیں،حکومت اپناپلان دے۔

چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ ملک میں کوروناوباچل رہی ہے،اٹارنی جنرل نے کہاکہ کورونا سے نمٹنے کیلئے قانون کامسودہ بن گیا،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ٹڈی دل خاتمے کیلئے ہمارے 3 جہازکھڑے ہیں،کیاہمارے پاس سپرے والے جہازچلانے کیلئے پائلٹ نہیں؟ لگتاہے جب بھوک لگی توگندم بونے چل نکلے،حکومت کوٹڈی دل سے نمٹنے کیلئے ہروقت تیاررہناچاہئے۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -