طیارہ حادثہ، ایدھی سرد خانے میں موجود لاش نمبر 112 کی بالآخر شناخت ہوگئی، لاہور میں قبر کشائی کے بعد کراچی میں دوبارہ تدفین

طیارہ حادثہ، ایدھی سرد خانے میں موجود لاش نمبر 112 کی بالآخر شناخت ہوگئی، ...
طیارہ حادثہ، ایدھی سرد خانے میں موجود لاش نمبر 112 کی بالآخر شناخت ہوگئی، لاہور میں قبر کشائی کے بعد کراچی میں دوبارہ تدفین

  

لاہور، کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور سے کراچی جانیوالے بدقسمت طیارے کے حادثے کو تقریباً ایک ماہ گزر گیا ہے اور ایسے میں شہداء کے ورثاء کو جسد خاکی حاصل کرنے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور ایسے ہی خاندانوں کی کہانی اب سامنے آئی ہے جن کے پیاروں کے جسد خاکی حاصل ہونا جوئے شیر لانے کے مترادف قرار پایا ، یہاں تک کہ جسد خاکی غلط لواحقین کے حوالے کیے گئے جنہوں نے تدفین بھی کردی تاہم دوبارہ قبرکشائی کرکے جسد خاکی اصل لواحقین کے حوالے کیے گئے ۔ 

انڈیپنڈنٹ اردو کے مطابق دو خاندانوں  کے پیاروں کی لاشیں ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج غلط آنے کے باعث تبدیل ہوگئیں تھیں، تین ہفتے قبل تک حادثے میں ہلاک ہونے والے صرف ایک ہی شخص کی لاش  کراچی کے چھیپا سرد خانے میں موجود تھی لیکن وہ لاش فضاء کے شوہر کی نہیں تھی، فضا خان کے مطابق اس دوران انہوں نے لاہور میں اپنے شوپر کی کمپنی کے کئی افراد سے پوچھ گچھ کی کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ شاید مجتبیٰ ہوائی جہاز میں سوار ہی نہیں تھے مگر پی آئی اے نے جب انہیں لاہور ایئر پورٹ کی سی سی ٹی وی فوٹیج دکھائی تو اس میں یہ واضح دیکھا جاسکتا تھا کہ مجتبیٰ نے پرواز بورڈ کی۔اس تصدیق کے بعد فضا اور ان کے اہل خانہ نے تمام اداروں اور دیگر لواحقین سے مدد کی اپیل کی جس پر کراچی یونیورسٹی کی فرانزک لیب نے ایک بار پھر مجتبیٰ کے والد کا ڈی این اے سیمپل لیا۔فضا کا کہنا تھا کہ پنجاب فرانزک لیب کی ڈی این اے ٹیسٹ رپورٹ کے تحت چھیپا سرد خانے کی لاش نمبر 112 ان کے شوہر احمد مجتبیٰ خان کی ہے، مگر کئی روز قبل وہ لاش لاہور کے ایک خاندان نے پی آئی اے کے سٹیورڈ عبدالقیوم کی لاش سمجھ کر لاہور کے قبرستان میں دفنا دی تھی۔

اس سلسلے میں عبدالقیوم  کی اہلیہ فرح کا کہنا تھا کہ انہوں نے کراچی یونیورسٹی کی فرانزک لیب کے ڈی این اے ٹیسٹ نتائج کی بنا پر چھیپا سرد خانے سے لاش نمبر 112 وصول کی تھی اور تمام آخری رسومات کے ساتھ اسے دفنا بھی دیا تھا، ابتدائی طورپر انہوں نے اپنے شوہر کی قبر کشائی کرنے سے انکار کردیا تھا لیکن پی آئی اے کے بھر پور اصرار پر انہوں نے چند روز قبل ہی اس کی اجازت دی،گذشتہ رات ایک ماہ کی جدوجہد کے بعد فضا اور ان کے اہل خانہ نے آخر کار احمد مجتبیٰ کی لاش کو آخری رسومات کے ساتھ کراچی کے ماڈل ٹاؤن قبرستان میں دفنا دیا۔

رپورٹ کے مطابق  فضا کا کہنا تھا کہ میں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ مجتبیٰ مجھے ایسے چھوڑ کر جائیں گے اور مجھے ان کی لاش حاصل کرنے کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانی پڑیں گی،مجھے ڈر تھا کہ اگر میں اپنے شوہر کی لاش دفنا نہیں پائی تو اپنے بچوں کو کیا جواب دوں گی۔ میں کسی کو قصور وار نہیں ٹھراتی مگر یہ ضروری نہیں تھا کہ اس عمل کو اتنا تکلیف دہ بنایا جائے ۔

دوسری جانب سٹیورڈ عبدالقیوم کے اہل خانہ نے بھی لاہور سے کراچی آکر چھیپا سرد خانے سے ان کی لاش وصول کی اور گذشتہ روز اسی مقام پر عبدالقیوم کی تدفین کی گئی جہاں پہلے مجتبیٰ کی لاش غلط ٹیسٹ رپورٹ کے باعث دفنائی گئی تھی۔

غلط لاش غلط خاندان کے پاس پہنچ جانے کے بعد پی آئی اے نے اس معاملے پر ایکشن لیا جس کے تحت مجتبیٰ اور سٹیورڈ عبدالقیوم کے اہل خانہ سے ان کے ڈی این سیمپلز دوبارہ لیے گئے اور اس حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد کے ڈی این اے سے دوبارہ میچ کیے گئی، ایک ہفتے کے دوران مکمل جانچ کے بعد فضا خان کا یہ دعویٰ سچ ثابت ہوا کہ لاش نمبر 112 ہی ان کے شوہر احمد مجتبیٰ کی لاش ہے۔

سٹیورڈ عبدالقیوم کی اہلیہ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ نتائج واضح ہو جانے کے بعد مجتبیٰ کی اہلیہ فضا نے ان سے رابطہ کیا تھا لیکن اس حوالے سے انہوں نے فضا کو یہ پیشکش کی تھی کہ مجتبیٰ کی لاش کیونکہ لاہور کے قبرستان میں دفن ہوچکی ہے اس لیے قبر کشائی نہ کروائی جائے اور چھیپا سرد خانے میں موجود ان کی شوہر کی لاش کو یا تو کراچی میں ہی دفن کردیا جائے یا پھر لاہور میں البتہ فضا کے مطابق ان کی خواہش تھی کہ لاہور میں قبر کشائی ہو، ان کے شوہر کی لاش کراچی لائی جائے اور ان کی تدفین بھی یہیں کی جائے تاکہ ان کے بچے بڑے ہو کر اپنے والد کی قبر پر فاتحہ پڑھ سکیں۔

رپورٹ کے مطابق اس سلسلے میں دو روز قبل کراچی میں جوڈیشل میجسٹریٹ کے سامنے دونوں اہل خانہ کے افراد نے ایفیڈیوڈ پر دستخط کیے جس کے تحت یہ طے پایا کہ دونوں مرحومین احمد مجتبیٰ خان اور سٹیورڈ عبدالقیوم کی لاشیں ان کے اہل خانہ کے حوالے کی جائیں گی۔ اس کے بعد گذشتہ رات حادثے کے ایک ماہ کے بعد دونوں کو ان کے اپنے اپنے شہروں میں دفن کردیا گیا۔

مزید :

قومی -