قومی کرکٹرز کے کورونا ٹیسٹ کے نتائج کا معاملہ، پی سی بی نے اہم فیصلہ کر لیا

قومی کرکٹرز کے کورونا ٹیسٹ کے نتائج کا معاملہ، پی سی بی نے اہم فیصلہ کر لیا
قومی کرکٹرز کے کورونا ٹیسٹ کے نتائج کا معاملہ، پی سی بی نے اہم فیصلہ کر لیا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے دورہ انگلینڈ کیلئے منتخب کردہ قومی سکواڈ کے ان 10 کھلاڑیوں کے کورونا ٹیسٹ دوبارہ کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے جن کی رپورٹس مثبت آئی تھیں۔

تفصیلات کے مطابق پی سی بی نے کراچی، لاہور، پشاور اور راولپنڈی میں کھلاڑیوں اور ٹیم مینجمنٹ میں شامل مجموعی طور پر 35 افراد کے کورونا ٹیسٹ کئے تھے اور پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ قومی ٹیم کے تین کھلاڑیوں کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے ہیں جس کے بعد منگل کے روز مزید 7 کھلاڑیوں کے کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کی تصدیق کی گئی تھی۔

پی سی بی کے مطابق فخر زمان، عمران خان سینئر، کاشف بھٹی، محمد حفیظ، محمد حسنین، محمد رضوان، وہاب ریاض، حیدر علی، شاداب خان اور حارث رﺅف کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے تھے اور پھر اس کے بعد آل راﺅنڈر محمد حفیظ کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کا اعلان بھی کیا گیا تھا لیکن یہ معاملہ اس وقت معمہ بن گیا جس محمد حفیظ نے نجی لیبارٹری سے ٹیسٹ کروایا اور رپورٹ منفی آئی۔

محمد حفیظ نے پی سی بی کی جانب سے کرایا جانے والا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد ذاتی طور پر اپنا اور اپنے اہل خانہ کا نجی لیبارٹری سے ٹیسٹ کروانے کا فیصلہ کیا اور پھر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اس کی رپورٹ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یہ منفی آئی ہے اور ان کے اہل خانہ کی رپورٹس بھی منفی ہیں۔

پی سی بی حکام اگرچہ محمد حفیظ کی جانب سے نجی لیبارٹری سے کروائے گئے ٹیسٹ کی رپورٹس سوشل میڈیا پر شیئر کرنے پر نالاں ہیں لیکن اس کیساتھ ہی انہوں نے ان تمام کھلاڑیوں کے دوبارہ کورونا ٹیسٹ کروانے کا فیصلہ بھی کر لیا ہے جن کی گزشتہ ٹیسٹ میں رپورٹس مثبت آئی تھیں۔

ذرائع کے مطابق پی سی بی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) وسیم خان نے محمد حفیظ سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے اس معاملے پر ناراضگی کا اظہار بھی کیا اور کہا کہ ان کے اس اقدام سے پاکستان کے ٹیسٹنگ کے نظام پر بھی انگلیاں اٹھ رہی ہیں تاہم جواب میں محمد حفیظ نے موقف اختیار کیا کہ وہ کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد خاصے دباﺅ میں تھے اور اس وجہ سے ہی انہوں نے نجی لیبارٹری سے ٹیسٹ کروایا۔

آل راﺅنڈر محمد حفیظ کا مزید کہنا تھا کہ میں اس بات کا یقین کرنا چاہتا تھا کہ میں اور میرے اہل خانہ بالکل محفوظ ہیں جبکہ نجی لیباٹری سے ٹیسٹ کی رپورٹ ملنے کے بعد پی سی بی کے ایک افسر سے رابطہ بھی کیا لیکن ان کی جانب سے مناسب جواب نہ ملنے کے بعد ہی رپورٹ سوشل میڈیا پر شیئر کی۔

مزید :

کھیل -