حج منسوخ نہ کرنے کا فیصلہ امتِ مسلمہ کے جذبات کی ترجمانی "پیغام پاکستان" کو قانونی شکل دی جائے،ملک میں سے بڑی آواز بلند ہو گئی

حج منسوخ نہ کرنے کا فیصلہ امتِ مسلمہ کے جذبات کی ترجمانی "پیغام پاکستان" کو ...
حج منسوخ نہ کرنے کا فیصلہ امتِ مسلمہ کے جذبات کی ترجمانی

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سعودی عرب کی حکومت کی طرف سے حج منسوخ نہ کرنے کا فیصلہ امت مسلمہ کے جذبات کی ترجمانی ہے،نفلی حج اور نفلی قربانی کرنے کا ارادہ رکھنے والے پیسے مستحقین میں تقسیم کر دیں،ملک میں انتہا پسندی ، دہشت گردی اور فرقہ وارانہ تشدد پھیلانے کی سازشیں کی جا رہی ہیں،اصحابؓ رسولﷺ و اہل بیتؓ  ایمان کا جزو ہیں کسی کو بھی ان کی توہین و تنقیص نہیں کرنے دیں گے، پیغام پاکستان کو قانونی شکل دی جائے، پیغام پاکستان تمام مکاتب فکر کی مشترکہ دستاویز ہے،اسلامی ممالک میں بیرونی مداخلتوں سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں،سعودی عرب پر میزائل حملوں کی مذمت کرتے ہیں،؂لیبیا کا مسئلہ مذاکرات سے حل کیاجانا چاہیے،اسلامی تعاون تنظیم کشمیر اور فلسطین پر فعال کردار ادا کرے،دنیا ہندوستان اور اسرائیل کے ظلم کو روکنے کیلئے فوری کردار ادا کرے۔

یہ بات چیئرمین پاکستان علماء کونسل اور صدر دارالافتاء پاکستان حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے مختلف مکاتب فکر کے علماء و مشائخ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ، ان کے ہمراہ مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری ، مولانا نعمان حاشر ، مولانا طاہر عقیل اعوان ، مولانا اسید الرحمن سعید، مولانا ابو بکر صابری ، مولانا مفتی حفیظ الرحمن ، مولانا قاسم قاسمی ، مولانا نائب خان ، مولانا شہباز احمد ، مولانا گلستان ، مولانا محمد شفیع قاسمی ، مولانا محمد اشفاق پتافی ، صاحبزادہ حافظ محمد ثاقب اور دیگر علماء و مشائخ موجود تھے ۔ رہنمائوں نے کہا کہ ملک بھر کے مفتیان عظام علماء کرام و مشائخ عظام نے فتویٰ دیا ہے کہ نفلی قربانی اور نفلی حج ادا کرنے کا ارادہ رکھنے والے اپنی رقم مستحقین میں تقسیم کر دیں کیونکہ کرونا کی وبا کی وجہ سے بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے اور غریب اور متوسط طبقہ متاثر ہوا ہے لہذا انسانیت کی موجودہ حالات میں خدمت اہم فریضہ ہے جس کی طرف توجہ دینی چاہیے ، انہوں نے کہا کہ جو افراد اس سال صاحب نصاب ہوئے وہ حج کا ارادہ رکھتے تھے اگر وہ بھی اپنی رقم مستحقین میں تقسیم کر دیں اور اگر آئندہ سال وہ صاحب نصاب نہ رہے تو ان پر حج فرض نہ ہو گا کیونکہ اس سال کرونا کی وبا کی وجہ سے ان پر حج فرض ہی نہیں ہوااور حج فرض ہونے کیلئے مال کے ساتھ صحت اور راستہ کا امن بھی لازم ہے جو موجودہ حالات میں ممکن نظر نہیں آتا۔ رہنمائوں نے سعودی عرب کی حکومت کی طرف سے حج کو منسوخ نہ کرنے اور محدود کرنے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کی حکومت نے مسلمانوں کے جذبات کا احساس کیا ہے جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں۔ حج کو محدود کرنا شریعت اسلامیہ کے مطابق ہے اور سعودی عرب کا حج محدود کرنے کا مقصد مسلمانوں کی صحت اور سلامتی کے تناظر میں ہے۔ رہنمائوں نے سعودی عرب پر مسلسل حوثی باغیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کا امن اور سلامتی امت مسلمہ کو بہت عزیز ہے ۔ پاکستانی قوم حکومت واضح کر چکی ہے کہ سعودی عرب کا امن ، سلامتی اور استحکام پاکستان کا امن ، سلامتی اور استحکام ہے۔ سعودی عرب امت مسلمہ کی وحدت اور اتحاد کا مرکز ہے ، پاکستان سعودی عرب کی عوام اور حکومت کو مکمل تعاون کا یقین دلاتا ہے ۔ ارض حرمین شریفین کی سلامتی و استحکام دفاع کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا ۔ ایک سوال کے جواب میں حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ لیبیا کی صورتحال خراب ہو رہی ہے ، اسلامی تعاون تنظیم کو امت مسلمہ کے تمام مسائل پر فعال کردار ادا کرنا ہے ، اسلامی تعاون تنظیم کا مؤقف فلسطین اور کشمیر پر قابل ستائش ہے لیکن عملی اقدامات کی ضرورت ہے ، لیبیا کی صورتحال پر مصر ، سعودی عرب کی امن کی کوششیں مثبت سمت قدم ہے ، ترکی اور عرب ممالک کے درمیان تصادم امت مسلمہ کو مزید کمزور کرے گا ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کا عالم اسلام میں بہت احترام ہے اگر عرب ممالک اور ترکی کی قیادت لیبیا کی صورتحال پر چاہئیں تو پاکستان اہم کردار ادا کر سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عرب ممالک اور اسلامی ممالک کی تباہی بیرونی مداخلتوں کی وجہ سے ہو رہی ہے ، شام ، عراق ، لیبیا، یمن کی صورتحال سامنے ہے ۔ لیبیا کی صورتحال مزید خراب ہوئی تو انتہا پسند اور دہشت گرد قوتوں کو تقویت ملے گی اور مصر کی سلامتی کو بھی خطرات لاحق ہوں گے لہذا عرب لیگ ، اسلامی تعاون تنظیم اور اقوام متحدہ کو فوری طور پر اس کا حل تلاش کرنا چاہیے ۔رہنمائوں نے ممتاز علمی اور روحانی شخصیات حضرت مولانا عزیز الرحمن ہزاروی اور مفتی محمد نعیم کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عالم اسلام ان چند ہفتوں میں عظیم علمی اور روحانی شخصیات سے محروم ہوا ہے ۔ پوری امت کو اجتماعی توبہ اور رجوع الی اللہ کی ضرورت ہے۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -