"حکومت ہمیں راستے سے ہٹا کر ایئر فورس کے ریٹائرڈ لوگوں کو لانا چاہتی ہے" پائلٹس کا الزام

"حکومت ہمیں راستے سے ہٹا کر ایئر فورس کے ریٹائرڈ لوگوں کو لانا چاہتی ہے" ...

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزی برائے ہوابازی کی جانب سے 266 پائلٹس کو مشکوک قرار دیے جانے پر پائلٹس نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ سب ایئر فورس کے ریٹائرڈ پائلٹس کو ان کی جگہ لگانے کیلئے کیا جارہا ہے۔

وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے قومی اسمبلی میں پی کے 8303 طیارہ حادثہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان میں 860 میں سے 262 پائلٹس مشکوک ہیں، یہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جگہ ڈمی امیدوار کو بٹھا کر امتحان پاس کروایا، جبکہ 4 پائلٹس ایسے ہیں جن کی تعلیمی اسناد جعلی ہیں۔

بی بی سی کے مطابق پائلٹ بننے کیلئے نہ تو خاص تعلیمی قابلیت کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی امتحان پاس کرنا ہوتا ہے ۔ پاکستان میں پائلٹ کی تربیت کیلئے میٹرک اور انگریزی زبان کی سمجھ بوجھ کافی سمجھی جاتی ہے، امریکہ میں 17 سال کا کوئی بھی معلومات رکھنے والا نوجوان  سٹوڈنٹ پائلٹ بن سکتا ہے۔

سٹوڈنٹ پائلٹ اپنی تربیت مکمل کرنے کے بعد کمرشل پائلٹ جبکہ 1500 گھنٹے کی پروازیں مکمل کرنے کے بعد ایئرلائن ٹرانسپورٹ پائلٹ لائسنس (اے پی ٹی ایل) حاصل کرتے ہیں۔

ڈگری جعلی ہونے کا بین الاقوامی طور پر پائلٹ بننے کے ساتھ کچھ خاص تعلق نہیں ہے ۔ دنیا میں چند ایسے افراد بھی تھے جو بالکل ان پڑھ ہونے کے باوجود طیارے اڑاتے رہے۔ پائلٹ کیلئے ڈگری سے زیادہ عملی تربیت ضروری ہوتی ہے جو وہ اپنی ٹریننگ کے دوران مشینوں اور تھیوری پڑھ کر حاصل کرتا ہے۔

مزید :

قومی -