جنوبی کوریا میں آٹھ سالہ بچی کوتشدد کر کے موت کے گھاٹ اٰتارنے والی ماں کو سزا مل گئی

جنوبی کوریا میں آٹھ سالہ بچی کوتشدد کر کے موت کے گھاٹ اٰتارنے والی ماں کو ...
جنوبی کوریا میں آٹھ سالہ بچی کوتشدد کر کے موت کے گھاٹ اٰتارنے والی ماں کو سزا مل گئی

  

سیول (رضا شاہ) کوریا کی انچن عدالت نے آٹھ سالہ بچی کی سگی ماں اور سوتیلے باپ کو بچی کے قتل کے الزام میں تیس تیس سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ استغاثہ نے فرد جرم میں لکھا کہ سگی ماں اور سوتیلے باپ نے کبھی بچی کو صحیح طریقے سے کھانا بھی نہیں کھلایا تھا اور بچی کی غلطی پر نہ صرف اسے مارا جاتا تھا بلکہ اسے اپنا پاخانہ کھانے پر بھی مجبور کیا جاتا تھا۔ بچی کی سگی ماں جس کی عمر 28 سال بتائی جاتی ہے نے 2015 میں پہلے خاوند سے علیحدگی اختیار کر کے 27 سالہ نوجوان سے شادی کی اور اب نئے خاوند میں سے اس نے ایک بچے کو بھی جنم دیا ہے۔ موت کے وقت بچی کے چہرے بازوو¿ں اور ٹانگوں سمیت پورے جسم پر چوٹوں کے نشان تھے اور وہ اتنی کمزور تھی کے واضح محسوس ہوتا تھا کہ بچی کو غذائیت کی کمی بھی شدت سے تھی۔ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ 2018 سے لے کر بچی کی موت تک اس کی سگی ماں اور اس کا سوتیلا باپ ا±س کو تشدد کا شکار بناتے رہے۔ استغاثہ نے فرد جرم میں بتایا کہ بچی کو دو دو دن بغیر کھانے اور پینے کی کوئی چیز دیے بغیر رکھا جاتا تھا اسی وجہ سے آٹھ سالہ بچی کی موت کے وقت اس کا وزن صرف 15 کلو گرام تھا۔

مزید :

بین الاقوامی -