بجٹ کے اثرات آنا شروع ہو گئے ،گھی اور تیل کی قیمتوں میں اتنا اضافہ کہ شہریوں کی چیخیں نکل جائیں 

بجٹ کے اثرات آنا شروع ہو گئے ،گھی اور تیل کی قیمتوں میں اتنا اضافہ کہ شہریوں ...
بجٹ کے اثرات آنا شروع ہو گئے ،گھی اور تیل کی قیمتوں میں اتنا اضافہ کہ شہریوں کی چیخیں نکل جائیں 

  

 اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)بجلی، گیس اور پٹرولیم کے بعد شہری خوردنی تیل اور گھی کی قیمتوں میں بڑے اضافے کے لیے تیار ہو جائیں، یکم جولائی سے گھی اور خوردنی تیل کی قیمتوں میں 13 سے 18 روپے فی کلو اضافہ ہوجائے گا۔

نجی ٹی وی کے مطابق گھی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ فنانس بل 2021-22 ءمیں نئے ٹیکسز کا نفاذ ہے،اس حوالے سے پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کو پیشگی آگاہ کردیا ہے کہ قیمتیں بڑھیں گی۔ ایسوسی ایشن کی جانب سے خط کے متن میں کہا گیا کہ اگر ٹیکسز واپس نہ لیے گئے تو پھر یکم جولائی سے گھی اور تیل 13 سے 18 روپے تک مہنگا ہوجائے گا جس سے عام طبقہ متاثر ہوگا۔پاکستان وناسپتی ایسوسی ایشن کی جانب سے یہ معاملہ خزانہ کمیٹی میں بھی اٹھایا گیا تھاکمیٹی نے پی وی ایم اے کو وزارت خزانہ کے حکام سے معاملات حل کرنے کی ہدایت دی تھی تاہم پی وی ایم اے کی سیکریٹری خزانہ سے ملاقات بھی بے نتیجہ ثابت ہوئی جس کے بعد ایسوسی ایشن کی جانب سے خط وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کو لکھا گیا ہے۔

دوسری جانب آئل ٹینکرزکی ہڑتال کےباعث مختلف شہروں میں پٹرول بحران کاخدشہ پیداہوگیاہے، مطالبات کی عدم منظوری پر آل پاکستان آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن نے ملک گیر ہڑتال کر دی، جس کے بعد ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل معطل ہوگئی ہے۔ہڑتال کے باعث ملک میں ایک بار پھر پٹرول بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہوگیا ہے جبکہ دوسری جانب آئل ٹینکرز اونرز ایسوسی ایشن نے ہڑتال سے لاتعلقی کا اعلان کیاہے۔

آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن نے نے بتایاکہ حکومت سے مطالبات کی منظوری کیلئے وقت مانگا تھا لیکن حکومت نے مطالبات مانے اورنہ ہی ملنے کا وقت دیا۔ اس لئے موجودہ حالات میں کاروبار کرنے سے قاصر ہیں۔

مزید :

بزنس -علاقائی -اسلام آباد -