کسی ادارے کا اعلیٰ عہدے دار قائدانہ صلاحیتوں کا مالک ہو گا تو ادارہ اوپر سے نیچے تک ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائےگا

 کسی ادارے کا اعلیٰ عہدے دار قائدانہ صلاحیتوں کا مالک ہو گا تو ادارہ اوپر سے ...
 کسی ادارے کا اعلیٰ عہدے دار قائدانہ صلاحیتوں کا مالک ہو گا تو ادارہ اوپر سے نیچے تک ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائےگا

  

مصنف:ڈاکٹر ڈیوڈ جوزف شیوارڈز

قسط:105

ہر سال کئی ادارے اور کارپوریشین بنتی ہیں اور دوبارہ ابھرتی ہیں، لیکن کیسے؟ کیونکہ جن کارپوریشنوں، کلبوں، یونینوں وغیرہ کے اعلیٰ عہدے دار بدلتے ہیں تو ان اداروں میں بھی اتار چڑھاﺅ آتا ہے۔ اگر کسی ادارے کا اعلیٰ عہدے دار قائدانہ صلاحیتوں کا مالک ہو گا تو ادارہ اوپر سے نیچے تک ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائےگا۔ یہ کام اوپر سے نیچے کو ہوتا ہے نیچے سے اوپر کو نہیں۔ اعلیٰ عہدے دار اپنی قائدانہ سوچ سے سب کچھ بدل دیتا ہے۔

اس بات کو یاد رکھیں:

جب آپ کسی گروہ کی قیادت سنبھالتے ہیں تو گروہ کے تمام افراد فوراً اپنے آپ کو آپ کے قائم کردہ معیار کے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔ یہ کیفیت چند ہفتوں تک تو برقرار رہتی ہے کیونکہ آپ کے گروہ کے لوگ آپ کی ہر حرکت کا جائزہ لیتے ہیں۔ پھر وہ دیکھتے ہیں کہ انہیں کتنی ڈھیل مل سکتی ہے؟ آپ ان سے کیسے کام لینا چاہتے ہیں وغیرہ وغیرہ؟

ایک دفعہ وہ آپ کے کام کو جان جائیں گے تو وہ اسی کے مطابق عمل کریں گے۔

درج ذیل قطعہ اگرچہ قدیم ہے لیکن بالکل درست مثال ہے:

یہ دنیا کیسی ہو جائے گی!

اگر اس دنیا میں ہر کوئی۔

مجھ جیسا ہو جائے!!

اس میں اگر کچھ اس طرح تبدیلی کر لی جائے کہ دنیا کی جگہ ادارے کا نام رکھ لیا جائے۔

یہ ادارہ کیسا ہو گا!

اگر اس ادارے میںہر کوئی مجھ جیسا ہو جائے!!

بالکل اسی طرح اپنے آپ سے پوچھیے کہ وہ کلب کیسا ہو جائے گا؟ وہ معاشرہ کیسا ہو جائے گا؟ وہ سکول کیسا ہو جائے گا؟ وہ مذہبی ادارہ کیسا ہو جائے گا؟ جس میں ہر کوئی مجھ جیسا ہوگا!!

آپ کا سوچنا، گفتگو کرنا، کام کرنا اور رہنا سہنا بالکل ایسا ہونا چاہیے جیسا کہ آپ اپنے ماتحتوں کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ بھی بالکل ایسا ہی کرنا شروع کر دیں گے جیسا آپ کریں گے۔ کچھ عرصے بعد آپ کے ماتحت بالکل جیسے وہ آپ کی کاربن کاپی ہوں۔

کیا میں ایک ترقی پسند سوچ رکھتا ہوں؟

اس فہرست سے موازنہ کریں:

-Aکیا میں اپنے کام کے حوالے سے ترقی پسند ہوں؟

-1کیا میرا موجودہ کام ٹھیک ہے، اس کو میں مزید بہتر کیسے کر سکتا ہوں؟

-2کیا میں اپنے ادارے، اس میں کام کرنے والے لوگوں، اور اس ادارے میں تیار ہونے والی اشیاءکی تعریف کرتا ہوں؟

-3کیا مقدار اور صلاحیت کے حوالے سے چھ ماہ پہلے کی نسبت میرا ذاتی معیار بڑھا ہے؟

-4کیا میں اپنے ماتحتوں اور اپنے ساتھ کام کرنے والوں کے لیے کوئی شاندار مثال بن رہا ہوں؟

-B کیا میں اپنے خاندان کے حوالے سے ترقی پسند ہوں؟

-1کیا میرا خاندان 3سے 6 ماہ پہلے کی نسبت زیادہ خوش ہے؟

-2کیا میں اپنے خاندان کے معیار زندگی کو بہتر کرنے والے منصوبے کی پابندی کر رہا ہوں؟

-3کیا میرا خاندان گھر سے باہر کی پرجوش سرگرمیوں میں حصہ لیتا ہے؟

-4کیا میں اپنے بچوں کے لیے مثالی ترقی پسند ہوں جو ان کو ترقی پسند بننے میں مدد دے؟

-Cکیا میں خود کے بارے میں ترقی پسند ہوں؟

-1کیا میں دیانتداری سے کہہ سکتا ہوں کہ میں 3سے 6ماہ پہلے کی نسبت زیادہ باوقار ہوں؟

-2کیا میں ذاتی بہتری کا لائحہ عمل منظم کر رہا ہوں کہ جو دوسروں کے لیے مجھے زیادہ اہم بنا دے؟

-3کیا میں آنے والے 5برسوں کے لیے کوئی ہدف رکھتا ہوں؟

-4جس ادارے یا گروپ سے میرا تعلق ہے کیا وہ مجھ سے خوش ہے؟

-D کیا میں اپنے محلے کے حوالے سے ترقی پسند ہوں؟

-1کیامیں نے پچھلے 3سے 6 ماہ میں اپنے محلے کی بہتری کے لیے کیا ہے؟ (پڑوسی، سکول، مسجد وغیرہ)

-2کیا میں نے محلے میں ہونے والے کام کی تعریف یا اس پر تنقید یا پھر شکایت وغیرہ کی ہے؟

-3کیا میں نے اپنے محلے میں کسی بڑے کام کے لیے رہنمائی کی ہے؟

-4کیا میں اچھے پڑوسیوں اور ساتھیوں سے اچھے تعلقات رکھتا ہوں؟

قائدانہ اصول نمبر4۔ کچھ دیر کے لیے اپنی اعلیٰ سوچ کی طاقت سے اپنے لیے مشورہ کریں۔

عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ لیڈر لوگ بہت مصروف لوگ ہوتے ہیں کیونکہ انہیں بڑے بڑے کام کرنا ہوتے ہیں۔ اگر ہم قریب سے ان کی زندگی کو دیکھیں تومعلوم ہو گا ایسے لوگ اپنی مصروفیت سے وقت نکال کر بالکل تنہائی میں کچھ وقت سوچ بچار میں گزارتے ہیں۔( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم “ نے شائع کی ہے ( جُملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -