ہر طرف بے پناہ خا موشی تھی،شمشا ل کی پہلی شام دھیرے دھیرے ڈوب رہی تھی، ہوا خنک لیکن بے آواز تھی

ہر طرف بے پناہ خا موشی تھی،شمشا ل کی پہلی شام دھیرے دھیرے ڈوب رہی تھی، ہوا خنک ...
ہر طرف بے پناہ خا موشی تھی،شمشا ل کی پہلی شام دھیرے دھیرے ڈوب رہی تھی، ہوا خنک لیکن بے آواز تھی

  

مصنف : عمران الحق چوہان 

قسط:111

 میں باہر تھڑے پر کرسی ڈال کر دریا کے رخ بیٹھ گیا۔ ہمارا ہو ٹل ایک اونچے ٹیلے پر تھا۔ نیچے ایک وسیع اور ہم وار میدا ن تھا جو دریا تک پھیلا ہوا تھا۔میدان کے بائیں کونے پر لڑکوں کے ہائی سکول کی عمارت تھی۔ یہاں سے اس کی چار دیواری ، کھلاصحن، برآمدا اورجستی لہریا چھتیں دکھائی دیتی تھیں۔ دریا کے پار بھی خشک، بھورے اور بے گیاہ پہاڑوں کا سلسلہ تھا۔ میرے پیچھے ہو ٹل کے عقب میں گاؤں تھا۔ ہرے بھرے گھنے درختوں کی سیاہ پڑتی ہریاول میں چھپا ہوا۔ 

ہر طرف بے پناہ خا موشی تھی۔ جیسے میں کسی خالی اور بے آباد بستی میں تنہا ہوں۔ یوں جیسے کوئی اسے بنا کر اور یہاں رکھ کر بھول گیا ہو اور اس پر وقت کی بہت سی دھول پڑی ہوئی ہو اور جس سے تنہائی، اداسی اور فرقت کی عجیب سی مہک اٹھتی ہو۔شمشا ل کی پہلی شام دھیرے دھیرے ڈوب رہی تھی۔درختوں میں گھرے چھو ٹے چھو ٹے مکا نوں کی چھتوں پر لگی سیٹلائٹ ڈشیں اور سو لر پینلز دھوپ کی آخری کر نوں سے چمکتے تھے۔سورج پہاڑوں کی طرف کا فی نیچے چلا گیا تھا اور اس کا رنگ ،اندھیرے سے خوف زدہ کسی بچے کی طرح زرد پڑ گیا تھا۔ کسی بھی نئی جگہ کی پہلی شام میں ایک عجیب سا جا دو ہو تا ہے۔ پر دیس میں ہو نے کا احساس، تنہائی کی کیفیت اور ایک نامعلوم اور بے وجہ سی اداسی بن بلائے دبے پاؤں آکر آپ کے پاس بیٹھ جاتی ہے اور بھولی بسری آرزوئیں، دھندلے خواب اور بیتے دنوں کی باتیں یاد دلانے لگتی ہے اور آدمی کا دل بو جھل پتھر کی طرح ایک لا متناہی خلا ءمیں ڈو بتا جا تا ہے۔شمشال کی شام بھی کچھ ایسی ہی اداس تھی۔پورے گاؤں میں سنا ٹا تھا۔ ہوا خنک تھی لیکن وہ بھی بے آواز تھی۔ سامنے بہتا دریا بھی دَم سادھے بہتا تھا۔

 احمد علی اپنے کمرے سے نکلا اور آتے ہی پانی گندہ ہو نے کی شکایت کی،”بھئی یہاں تو پانی بہت گندہ ہے۔“ 

میں نے اسے پانی کچھ دیر رکھ کر استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔ اعظم پچھلے با غیچے سے دو بارہ خوبانیاں چن لا یا اور سب کو ایک ایک خوبانی کا تبرک پیش کیا۔فہد بغیر مخل ہوئے میرے پاس آکر تھڑے پر بیٹھ گیا ۔

" فہد تم کیا کرتے ہو؟“میں نے اس سے پو چھا۔

”میں کراچی میں پڑھتا ہے۔ ادھر چھٹیوں میں گھر آیا ہے۔“

”ادھر بہت خا موشی ہے۔ کیا ادھر ایسا ہی رہتا ہے؟“ میں نے سوال کیا۔

”وہ ادھر موت ہو گیا ہے ناں اس لیے۔“ فہد نے دھیمی آواز میں بتا یا۔ 

”موت؟ کس کا موت؟“ میں نے چونک کر پو چھا۔

فہد نے بتا یا کہ ہا لینڈ اور کوریا کے کوہ پیماؤں کی ایک ٹیم K2 سر کرنے گئی تھی۔”وہاں طوفان میں پھنس کر کچھ لوگ مر گیا تھا۔باقی لوگوں کو بچانے کے واسطے ادھر شمشال سے ٹیم بھیجا تھا۔ وہ ٹیم بھی حا دثے کا شکار ہو گیا۔“

 فہد نے اوپر پہا ڑوں کی طرف دیکھتے ہو ئے کہا۔ ”میرا کزن جہان بیگ بھی اس ٹیم میں تھا۔ وہ انہیں ریسکیو کرتا ہوا مر گیا ہے۔اب سارا لوگ جہان بیگ کے گھر ہے۔ اس واسطے اتنا خاموشی ہے۔“ 

”اوہ، بہت افسوس ہوا۔ اس کی موت کی اطلاع کون لایا ہے؟“ میں نے پوچھا۔

”وہ ادھر سے تھو رایا( Thuraya:صحیح تلفظ ”ثریا“ ہے۔ عام لوگ عربی اور انگریزی تلفظ سے ناواقفیت کی بنا پر اسے تھورایا پڑھتے ہیں۔) کے ذریعے بتا یا ہے۔“

چین کی شمال مشرقی سرحد کے ساتھ لگ بھگ 200 گھروں پر مشتمل یہ وادی اپنے کوہ پیماؤں کے لیے سارے گلگت بلتستان میں ممتاز اور ساری دنیا میں مشہور ہے۔ رحمت اللہ بیگ، رجب شاہ اور مہربان شاہ جیسے عظیم لوگوں کے علاوہ ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والی پاکستان کی پہلی خا تون کوہ پیما ثمینہ خیال بیگ بھی شمشال ہی سے ہے۔ لیکن جب میں وہاں مو ت کی اداسی میںڈوبی ایک شام گزار رہا تھا تب ثمینہ نے یہ کارنامہ نہیں کیا تھا۔

 ان تین چار گاؤں میںصدیوں سے آباد شاید سب ہی لوگ ایک دوسرے کے رشتے، ناتے دار ہیں۔ اس لیے چاروں گاؤں کے لوگ جہان بیگ کی بیوی اور 3بچوں کو پرسا دینے اس کے گھر گئے ہوئے تھے۔ 

شام کے ساتھ ہوا کافی ٹھنڈی ہو گئی تھی۔ تھکاوٹ یاٹھنڈے یخ برفیلے چشموںکو پیدل عبور کرنے کی وجہ سے میری ٹا نگوں میں درد محسوس ہو رہاتھا۔ میں نے فہد سے رات کے کھانے کا پوچھا لیکن وہ کچھ وا ضح نہ بتا سکا۔ اسے صرف دال، ساگ اور انڈا جیسے بنیادی الفاظ آتے تھے۔ اس لیے معا ملہ اس کے بڑے بھائی یحییٰ کی جہان بیگ کے ہاں سے واپسی تک مؤخر کردیا گیا ۔ ہوا تیز ہو گئی تھی۔ نیچے میدان میں سیاہ پڑتی سرمئی شام میں 3 شوخ رنگ چمکتے تھے۔ سرخ، پیلا اور گلابی رنگ۔جو گرز پہنے 3 لڑکیاں پلا سٹک کے کین کمر پر اٹھائے دریا کی طرف جارہی تھیں۔ ہوا سے اڑتے ان کے دوپٹوں کے رنگ دھندلے پڑتے خاکی منظر کو رنگین بنا رہے تھے اور وادی میں پھیلے موت کے غم سے کالی پڑتی شام میں زندگی پھو نکتے تھے۔ یہاں ابھی تک بجلی اور پانی جیسی بنیادی ضروریات آسانی سے فراہم نہیں تھیں۔

فہد اپنے بڑے بھائی کے ساتھ لو ٹا تو رات ہو نے لگی تھی۔ یحییٰ 25 سال کا پست قامت نو جوان تھا۔ دونوں نے سر پر کوہ پیماؤں اور کان کَنوں والی ہیڈ لائٹس پہن رکھی تھیں، جو اس وقت روشن تھیں اور آپ کو ان کے سامنے سر جھکا کر بات کرنے پر مجبور کرتی تھیں کیوں کہ ان کی طرف مونھ کرتے ہی تجلی سے آنکھیں چندھیا جاتی تھیں۔ میں نے نہایت سعادت مندی سے اپنے اور ان کے قدموں کی طرف دیکھتے ہوئے یا دائیں بائیں بغلیں جھا نکتے ہوئے، کمرے کے کرائے اور رات کے کھانے کے معا ملات طے کیے۔ 

آلو اور آملیٹ ایسے کھانے ہیں جنہیں خراب کرنا کسی عام آدمی کے بس کی بات نہیں ہے۔ میں نے رات کے کھانے میں آلو پکانے کے لیے کہا۔ ۔۔۔۔ گھنٹے بھر میں یحییٰ نے آکر کھانا تیار ہونے کی اطلاع دی۔ (جاری ہے )

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

کتابیں -ہنزہ کے رات دن -