بلندی پر کھانے کا ذائقہ بدلا ہوا محسوس ہونے کی وجہ ایک پائلٹ نے بتادی

بلندی پر کھانے کا ذائقہ بدلا ہوا محسوس ہونے کی وجہ ایک پائلٹ نے بتادی
بلندی پر کھانے کا ذائقہ بدلا ہوا محسوس ہونے کی وجہ ایک پائلٹ نے بتادی
سورس: Twitter/@bushePilot

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) فضائی سفر کرنے والے لوگ جانتے ہوں گے کہ ہزاروں فٹ کی بلندی پر سفر کرتے ہوئے مسافروں کے ذائقے کی حس بدل جاتی ہے اور انہیں کھانے کا ذائقہ مختلف لگتا ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ برطانوی فضائی کمپنی ’لوگن ایئر‘ کے ایک پائلٹ نے اس سوال کا جواب دے دیا ہے۔ 

دی سن کے مطابق جیمز بشی نامی اس پائلٹ نے کہا ہے کہ اتنی بلندی پر خشک اور سرد ہوا اور ہوا کے دباﺅ میں تبدیلی کی وجہ سے ہمارے منہ میں ذائقے کے خلیے مختلف طریقے سے کام کرنا شروع کر دیتے ہیں۔جیمز بشی نے بتایا کہ ”ذائقے کے خلیوں کی حساسیت میں تبدیلی آنے سے مسافروں کو کھانے میں نمک اور مسالہ جات وغیرہ کم محسوس ہوتے ہیں۔ اس لیے مسافروں کے لیے جو کھانا بنایا جاتا ہے ان میں معمول کی نسبت زیادہ مسالہ جات استعمال کیے جاتے ہیں۔ “

رپورٹ کے مطابق ماہرین قبل ازیں بتا چکے ہیں کہ ہزاروں فٹ کی بلندی پر پہنچ کر لوگوں کی میٹھے اور نمکین میں امتیاز کرنے کی صلاحیت 30فیصد کم ہو جاتی ہے۔ بلندی پر جہاز کے اندر نمی میں کمی کے باعث ناک خشک ہو جاتی ہے جس سے ذائقے کی حس کمزور ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فضائی سفر کے دوران لوگوں کو کھانے کا ذائقہ مختلف لگنا شروع ہو جاتا ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -