الیکشن کمیشن کے پاس ارکان اسمبلی کو آزاد ڈکلیئر کرنے کا اختیار نہیں، جسٹس جمال مندوخیل

الیکشن کمیشن کے پاس ارکان اسمبلی کو آزاد ڈکلیئر کرنے کا اختیار نہیں، جسٹس ...
الیکشن کمیشن کے پاس ارکان اسمبلی کو آزاد ڈکلیئر کرنے کا اختیار نہیں، جسٹس جمال مندوخیل

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں سے متعلق اپیلوں پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس تو ارکان اسمبلی کو آزاد ڈکلیئر کرنے کا اختیار نہیں، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ ووٹر کے حق کا تحفظ کرے، حقائق سب کو کھل کر بتانے چاہئیں۔

دوران سماعت وکیل مخدوم علی خان نے عدالت کو بتایا کہ مخصوص نشستیں جمع کروائی گئی لسٹ کے مطابق ہوتی ہے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ جنہوں نے خود کو کاغذات نامزدگی میں تحریک انصاف کا ظاہر کیا، انہیں الیکشن کمیشن نے آزادامیدوار کیسے کہا؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ آزاد امیدواروں نے پہلے تحریک انصاف نظریاتی ظاہرکیا اور پھر کاغذات نامزدگی واپس لےلی۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے کیسے اخذ کیا کہ امیدوار تحریک انصاف کے نہیں بلکہ آزاد ہیں، جسٹس منصورعلی شاہ نے کہاکہ الیکشن کمیشن نے کیسے آزاد امیدوار ظاہر کردیا؟ جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہاکہ اہم سوال ہی یہ ہے، کسی امیدوار کے ساتھ زبردستی نہیں کی جاسکتی کہ نوٹیفیکیشن کے تین روز بعد اگر وہ کوئی اور جماعت میں شامل ہوجائے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کہہ سکتے کہ امیدوار آزاد ہیں یا کسی پارٹی سے ہیں، الیکشن کمیشن نے صرف کاغذات میں امیدوار کی سیاسی جماعت سے وابستگی دیکھنی ہے۔