کسی امیدوار کو اختیار ہی نہیں وہ ایک پارٹی کا ڈیکلریشن دےکر دوسری میں چلا جائے، جسٹس جمال مندوخیل

کسی امیدوار کو اختیار ہی نہیں وہ ایک پارٹی کا ڈیکلریشن دےکر دوسری میں چلا ...
کسی امیدوار کو اختیار ہی نہیں وہ ایک پارٹی کا ڈیکلریشن دےکر دوسری میں چلا جائے، جسٹس جمال مندوخیل

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں سے متعلق اپیلوں پر جسٹس یحییٰ  آفریدی نے ریمارکس دیئے کہ ایک پارٹی سے وابستگی کا ڈیکلریشن جمع کرانے والے بعد میں دوسری جماعت میں چلے گئے، اب ان امیدواروں کے بعد والے فیصلے کو دیکھا جانا ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ کسی امیدوار کو اختیار ہی نہیں وہ ایک پارٹی کا ڈیکلیریشن دے کر دوسری میں چلا جائے، میری نظر میں اس بات پر امیدوار نااہل بھی ہو سکتا ہے۔

دوران سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آئینی ادارے الیکشن کمیشن نے ان لوگوں کو 2 فروری کے روز آزاد ڈیکلئیر کر دیا تھا، اس کے بعد ان امیدواروں کے پاس اور کوئی چوائس نہیں تھی، جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس مندوخیل نے سوالات اٹھائے، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ مسئلہ مگر الیکشن کمیشن کے دو فروری کے آرڈر سے پیدا ہوا ہے، الیکشن کمیشن نے اس عدالت کے انتخابی نشان والے فیصلے کی غلط تشریح کی تھی، اس بات پر نتائج لوگ کیوں بھگتیں؟