پاک فضائیہ کے ہیرو ایم ایم عالم

پاک فضائیہ کے ہیرو ایم ایم عالم
پاک فضائیہ کے ہیرو ایم ایم عالم

  

وہ صرف نام کے عالم نہیں تھے، بلکہ انہوں نے 1965ءکی پاک بھارت جنگ میں فضائیہ کے ہیرو کی حیثیت سے ایک عالم میں داد پائی۔ ایم ایم عالم 18مارچ کو طویل علالت کے بعد 78 سال کی عمر میں کراچی میں انتقال کر گئے۔ 6 جولائی 1935ءکو کلکتہ میں پیدا ہونے والے محمد محمود عالم سے اگست 1984ءکے آخر یا ستمبر کے آغاز میں ”تکبیر“ کی طرف سے انٹرویو کے لئے فلائنگ کلب کراچی میں ایک شام ملاقات ہوئی تھی، پھر ان کا یہ انٹرویو 7ستمبر1984ءکے ”تکبیر“ میں چھپا۔ طاہر مسعود انٹرویو میں میرے معاون تھے، وہ اب کراچی یونیورسٹی کے شعبہ صحافت میں ڈاکٹر طاہر مسعود کی حیثیت سے صحافت کی تعلیم دیتے ہیں۔ جہاں تک مجھے یاد ہے، اس انٹرویو میں ایڈیٹر ”تکبیر“ محمد صلاح الدین اور نصیر احمد سلیمی بھی ہمارے ساتھ موجود تھے۔

مغربی بنگال کا مرکزی شہر کلکتہ ایم ایم عالم کی جائے پیدائش تھا تو مشرقی بنگال کا دارالحکومت ڈھاکہ ان کی تعلیم کا محور بنا۔ انہوںنے گورنمنٹ کالج ڈھاکہ سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد پری کیڈٹ ایئر فورس سکول کوئٹہ سے تربیت حاصل کی اور 1951ءمیں پاک فضائیہ میں شامل ہوئے۔ 1965ءکی جنگ کے دوران وہ اپنے اسکواڈرن کے ساتھ سرگودھا میں تھے۔ انہوں نے 17روزہ پاک بھارت جنگ کے آغاز ہی میں ایک منٹ میں پانچ بھارتی جہازوں کو نشانہ بنا کر ستارئہ جرا¿ت کا اعزاز پایا تھا۔ ایم ایم عالم نے جنگ میں مجموعی طور پرغیر مصدقہ طور پر 11اور مصدقہ طور پر 9بھارتی جہاز گرائے۔

ایم ایم عالم نے ”تکبیر “ کے لئے انٹر ویو کے دوران اصغر خان اور نور خان کی تعریف کرتے ہوئے انہیں نہ صرف پاکستان، بلکہ مسلم دنیا کے بہترین کمانڈر قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ میں عددی برتری کے باوجود ہندوستانی فضائیہ، جس کے پاس دنیا کے بہترین جہاز تھے، پاکستان کی چھوٹی سی فضائیہ کے سامنے بے بس ہو گئی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جنگ میں جذبے اور قوت ایمانی کی ضرورت ہوتی ہے اور مَیں نے جس جہاز سے ایک ہی پرواز میں تن تنہا دشمن کے پانچ جہاز مار گرائے، وہ دس برس پہلے امریکیوں نے کوریا کی جنگ میں استعمال کرنے کے بعد متروک کر دیا تھا ۔جب ایم ایم عالم سے 1984ءمیں ملاقات ہوئی تو انہوں نے باریش چہرے کے ساتھ سر پر ململ کا سفید رومال باندھ رکھا تھا اور پہلی نظر میں پہچاننا مشکل تھا کہ یہ پاک فضائیہ کا دہی ہیرو ہے، جسے ہم نے تصویروں میں دیکھا ہے ۔پھر جب ہمارے لئے چائے آئی تو پتہ چلا کہ وہ نفلی روزے سے ہیں ۔

دوران گفتگو ایم ایم عالم نے اپنی زندگی میں تبدیلیوں کی کہانی سنائی۔ انہوں نے صاف گوئی سے جہاں یہ اعتراف کیا کہ وہ بھی فضائیہ کے دوسرے افسروں کی طرح نہ صرف شراب پیتے تھے، بلکہ بلا نوش تھے، وہیں دبے لفظوں کے ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ پاک فضائیہ کے با اختیار افراد نے اپنے اس ہیرو کے ساتھ کچھ اچھا برتاو¿ نہیں کیا اور وہ زیر عتاب رہ چکے ہیں۔ شاید ان کے ”ناپسندیدہ “ ہونے میں کسی اور وجہ کے ساتھ یہ وجہ بھی رہی ہو کہ انہوں نے شراب ترک کر دی تھی، لیکن در حقیقت یہ قدرت کا فیصلہ اور فیضان تھا کہ کسی غیر مرئی طاقت نے عین جنگ ستمبر سے پہلے جون 1965ءکے دوران ایم ایم عالم کے دل میں اچانک شراب ترک کرنے کی بات ڈالی اور اس اعلان کا حوصلہ دیا کہ آج سے مَیں شراب چھوڑ رہا ہوں اور میری اسکواڈرن کا کوئی افسر بھی اب شراب نہیں پیئے گا۔ شاید یہ اسی ذہنی اور قلبی تبدیلی کا نتیجہ تھا کہ دوران جنگ وہ پاک فضائیہ کے ہیرو بنے اور اپنی قوت ایمانی کے بل پر سرخرو ہوئے۔

جمعہ 22 مارچ کے ”جنگ “کراچی نے ”روٹھا ہوا شاہین اگلے جہاں کوچ کر گیا “کے عنوان سے ایم ایم عالم کی تصویر کے ساتھ کراچی کے ایک صاحب کا مراسلہ شائع کیا، جس میں انہوں نے واقف حال کی حیثیت سے ایم ایم عالم کے انتقال پر اپنے تاثرات بیان کئے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: ”جب یہ جانکا ہ خبر ملی کہ یہ شاہین دلبرداشتہ ہو کر ہم سے روٹھ گیا ہے تو سچی بات تو یہ ہے کہ ایک لمحے کو اطمینان محسوس ہوا، خدا کا شکر ادا کیا کہ اپنے قومی محسن کی سزا ختم ہوئی، انہیں اپنوں کی اذیت سے نجات تو ملی ، ورنہ ہم نے تو کوئی کثر باقی نہیں چھوڑی تھی۔ جو شخصیات پاکستان کے ماتھے کا جھومر ہیں، اُن میں ایم ایم عالم کا نام ”ٹاپ ٹین“ میں آتا ہے ۔ جب ان کے بارے میں کھوجنا شروع کیا تو مایوسی کے علاوہ کچھ نہیں ملا، کیونکہ عالم صاحب گوشہ نشین ہو چکے تھے، لوگوں سے رابطے نہیں رکھتے تھے اور نہ کسی سے ملتے تھے“مراسلہ نگار نے آگے چل کر یہ بھی لکھا ہے: ”پاکستان کا مایہ ناز شاہین اپنوں سے اتنا خفا کیوں تھا؟ مجھے اِن باتوں کو کھوجتے ہوئے ایک عرصہ ہو چلا تھا، تب مجھے ایک ریسرچ پیپر سے اِن کی (فضائیہ سے )علیحدگی کی وجہ سمجھ میں آئی“ آخر میں وہ لکھتے ہیں: ”آج پاکستان کا یہ محب وطن شاہین ہم سے روٹھ کر ایک اور جہاں کوچ کر گیا ہے “۔

ستمبر2000ءکے دوران پاک فوج کے رسالے ”ہلال“ نے، جس کے ایڈیٹر 18برس تک لاہور کے ممتاز صحافی ممتاز اقبال ملک رہے ہیں ،ریٹائرڈ ائیر کموڈور ایم عارف اقبال تمغہ بسالت کا مضمون شائع کیا تھا، جس کی سرخی تھی.... ”عالم کا عالمی ریکارڈ آج 33سال بعد بھی قائم ہے“....ریٹائرڈ ائیر کموڈور نے جنگ ستمبر کے دوران ایم ایم عالم کے ساتھی کی حیثیت سے لکھا تھا کہ ”7ستمبر کے اس نادر لمحے کو مَیں نے بچشم خود دیکھا، جب تاریخ کا ایک نیا باب لکھا جا رہا تھا“....وہ لکھتے ہیں:”جب بھارتی طیاروں کے ایک اور فضائی حملے کی اطلاع ملی تو مجھے ایف 104اور میرے چار دوسرے ساتھیوں کو ایف 86طیاروں کے ساتھ فضا میں پہنچنے کا حکم ملا اور چند منٹ ہی میں ہم حکم کی تعمیل کر چکے تھے اور اپنے ”مہمانوں“ کے ”خیر مقدم“ کے لئے تیار تھے۔ سکواڈرن لیڈر عالم اپنے ونگ مین کے ساتھ ہوائی اڈے کے جنوب مشرق کی جانب چکر لگا رہے تھے، اس سے ذرا آگے مشرق کی سمت دو ایف 86طیارے تھے، جن کی قیادت فلائٹ لیفٹیننٹ بھٹی کر رہے تھے اور مَیں سرگودھا کے ہوائی اڈے کے گرد پندرہ ہزار فٹ کی بلندی پر چکر لگا رہا تھا۔

جب مَیں نے شمال کی جانب دیکھا تو مجھے دشمن کے چارطیارے جنوب مشرق کی سمت جاتے دکھائی دیئے۔ مَیں نے ریڈیو پر اپنے ساتھیوں کو اطلاع دی کہ مَیں نے دشمن کو دیکھ لیا ہے اور اس کے ساتھ ہی مَیں نے دشن کے طیاروں کا تعاقب شروع کر دیا ۔ پھر ایک لمحہ ایسا آیا جب مَیں دشمن کے ایک طیارے کے نزدیک پہنچا تو دیکھا کہ ایف86طیارے، جن میں سے دو عالم کی اور دو بھٹی کی قیادت میں تھے، پہلے ہی بھارتی ہنٹر طیاروں کا پیچھا کر رہے ہیں۔ ہنٹر طیارہ، سیبرطیارے سے زیادہ تیز رفتار ہوتا ہے اور اس کو اپنی فائرنگ کی زد میں لانے کے لئے سیبرطیاروں کو اپنے ایندھن کی بیرونی ٹنکیاں علیحدہ کرنا پڑتی ہیں۔ بھٹی نے اپنی ان بیرونی ٹنکیوں کو علیحدہ کرنا چاہا، لیکن بدقسمتی سے ایک ٹنکی الگ نہ ہو سکی، اس لئے اب عملی طور پر اس کے لئے اپنے اور اپنے شکار کے درمیان فاصلہ طے کرنا نا ممکن ہو گیا تھا، چنانچہ اس نے عقلمندی سے کام لیتے ہوئے عالم کے زیر قیادت دوسرے ایف 86طیاروں کو دشمن سے دو دو ہاتھ کرنے کا موقع دے دیا....اب عالم اور اس کے ونگ مین نے بتدریج دشمن کی طرف بڑھنا شروع کیا۔

اگرچہ ایف 104میں ہوتے ہوئے میرے لئے دشمن کو اپنی فائرنگ کی زد میں لانا کوئی مشکل نہ تھا، تاہم مَیں نے یہی مناسب جانا کہ پہلے عالم کو ہاتھ دکھانے کا موقع دیا جائے“....ایم عارف اقبال لکھتے ہیں: ”اس کے ساتھ ہی مَیں اپنے دل میں اس امر سے ڈر رہا تھا کہ عالم اپنے ایف 86طیارے پر پوری قدرت رکھتے ہیں اور دشمن کو پاک فضاو¿ں میں مداخلت کرنے کی جسارت کا اچھی طرح مزہ چکھانے کے عزم کی بدولت مجھے دشمن سے نبرد آزمائی کا کوئی موقع نہیں دیں گے، پھر تھوڑی ہی دیر بعد میرا یہ اندیشہ حقیقت میں بدلتا نظر آنے لگا۔ میری طرح عالم نے بھی چار بھارتی ہنٹر طیاروں کو دیکھا تھا۔ عالم اس فکر میں تھے کہ انتہائی بائیں سمت والے پہلے طیارے سے اُلجھا جائے، لیکن اچانک انہوں نے بائیں سمت سے ذرا آگے، ایک پانچواں بھارتی ہنٹر دیکھا۔ اب انہوں نے اپنا ارادہ تبدیل کر کے، اپنے حملے کا رخ اس پانچویں طیارے کی جانب کر دیا۔ مشکل سے چند سیکنڈ ہی گزرے ہوں گے کہ مَیں نے دیکھا عالم کے طیارے کی چھ توپوں سے آگ کے شعلے لپکے اور آن کی آن میں وہ بھارتی طیارہ جلتا ہوا زمین کی جانب لڑھک گیا۔ اس کے فوراً بعد ہی عالم نے اپنے طیارے کی توپوں کا رخ دوسرے بھارتی ہنٹر کی جانب پھیر دیا اور چند ہی سیکنڈ بعد دوسرا طیارہ بھی آگ کے ایک گولے صورت میں لڑھکنیاں کھاتا زمین پر جا گرا۔

دو طیاروں سے ہاتھ دھو کر بھارتی طیاروں نے مردہ دلی کے ساتھ دفاعی انداز اختیار کر کے مزاحمت کی کوشش کی، لیکن اس وقت تک عالم ایک تیسرے طیارے کو اپنا نشانہ بنا کر آگ کے ایک گولے میں تبدیل کر چکے تھے،البتہ بھارتی ہوا باز اپنے طیارے کی تباہی سے پہلے، اس میں سے نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔ چند لمحوں کے اندر دشمن کے تین طیاروں کو ٹھکانے لگا نے کے بعد اب عالم باقی دو طیاروں سے دو دو ہاتھ کرنے کے لئے ایک اچھی پوزیشن اختیار کرچکے تھے۔ پھر چند ہی لمحوں کے بعد عالم نے ان طیاروں کو بھی آگ دکھا کر تباہ کر ڈالا، اس سے میں سخت مایوس ہوا ۔ عالم نے میرے ساتھ انصاف نہیں کیا اور تن تنہا پانچوں بھارتی ہنٹروں کو تباہ کر دیا، بلکہ میرے طیارے کی توپیں اپنے ”شکار“ پر آگ اگلنے کے انتظار ہی میں رہیں۔ بھارتی ہوا بازوں نے بھی مجھے مایوس کیا، اگر وہ عالم کے حملے سے بچ نکلنے کی کوشش کرتے تو شاید مجھے بھی ہاتھ دکھانے کا کوئی موقع مل جاتا۔ مَیں نے میٹر پر سرگودھا سے اپنا فاصلہ معلوم کیا۔ مَیں اس وقت 37میل دور تھا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ صرف ایک لڑاکا طیارے کے ہوا باز نے اپنے سے تین گنا زیادہ طاقتور قسم کے پانچ لڑاکا طیاروں کو ایک منٹ سے بھی کم وقت میں تباہ کر ڈالا۔ اس سے نہ صرف پاکستان ائیر فورس، بلکہ فوجی نوعیت کی ہوا بازی کی تاریخ میں ایک درخشاں باب کا اضافہ ہوا۔ اس تاریخی مقابلے کو دیکھنا ایک سعادت سے کم نہیں تھا۔ شکار کی تلاش میں آئے ہوئے یہ بھارتی ہنٹر خود شکار ہو گئے“....میرا خیال ہے کہ ایم ایم عالم کا عالمی ریکارڈ ان کے انتقال تک برقرار رہا، مگر ہمارے ارباب اختیار نے بھی اپنے ہیرو کی ناقدری کا ایک ریکارڈ قائم کیا۔  ٭

مزید :

کالم -