بناہے شاہ کامصاحب پھرے ہے اتراتا....!

بناہے شاہ کامصاحب پھرے ہے اتراتا....!
بناہے شاہ کامصاحب پھرے ہے اتراتا....!
کیپشن: jaam sajad hussain

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مرزااسد اﷲخان غالب ایک صوفی منش طبیعت کے مالک تاحال عظیم شاعر مانے جاتے ہیں۔دنیاکے کونے کونے میں اُن کی محبت میں مدہوش دیوانے موجود ہیں۔ مرزاغالب کی بیگم انتہائی نیک، پارسااور صابر خاتون تھیں ۔
غالب اپنے نام کی طرح ابھی تک ہرعہد پر غالب ہے۔جہاں اُن کی شاعری کاطوطی بولتاہے، وہاں اُن کی شخصیت کے درخشاں پہلودیگرشعرائے کرام کی زندگیوں کے لئے نمونہ رہے ہیں ۔شاعری کے رموز کے ساتھ ساتھ غالب میں حُسن ظرافت بلاکی تھی ، اور کبھی کبھی یہ پہلووہ اپنی نیک بیگم کاغم غلط کرنے کے لئے بھی استعمال کیاکرتے تھے ایک باربیگم کے چہرے پرناراضی کے تاثرات دیکھے تو گویاہوئے :
دِکھا کے جُنبش ِ لب ہی تمام کرہم کو
نہ دے جو بوسہ تو منہ سے کہیں کلام تو کر
یہ بات درست ہے کہ وہ چھیڑخانی میں دوستوں کو شادی نہ کرنے کامشورہ دیتے ،بلکہ جب ایک باراُنہیں جوا کھیلنے کے الزام میں جیل بھیج دیاگیاتو ساتھ والی بیرک میں کسی نوجوان کے رونے کی آواز آئی تو اُنہوں نے داروغہ سے پوچھاکہ یہ کون ہے جو روئے جارہاہے؟ تو جواب ملاکہ ایک نوجوان ہے جو مسلسل روئے جارہاہے۔ مرزاغالب اُٹھ کراُس نوجوان کے پاس چلے گئے، پوچھامیاں کیوں روتے ہو؟ جواب ملا: ”تین مہینے کی قیدہوگئی ،آج میری شادی تھی اور مجھے پولیس نے پکڑلیاہے“۔ تو مرزاصاحب مسکرائے او ر کہا: ”میاں شکرکرو عمرقید سے بچ گئے ، یہاں سے تو چھوٹ ہی جاﺅ گے، لیکن وہاں پکڑے جاتے تو ساری عمر قید میں گزرتی “۔
کم ہی لوگوں کو پتاہے کہ مرزاغالب اور اُن کی بیگم اپنے بچوں کی جلد وفات پربہت غمگین رہتے تھے، کیونکہ مرزاکی اولاد کم عمری میں وفات پاجاتی۔کچھ لوگوں کاکہناہے کہ ایک باراُنہوں نے ایک لے پالک بچے کوپالاتو اُس کی بھی کم سنی میں موت ہوگئی ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ بچوں سے بہت پیارکرتے تھے ۔پچھلے دنوں مرزا غالب کی زندگی پربنی کیفی عظمی اور گلزار کی فلم ”غالب “ دیکھی۔ کسی شاعرکی زندگی پربنی یہ کمال فلم ہے ، خاص طورپربرصغیراور ہندوستان کے پیرائے میں دیکھی جائے تو آج تک ایسی تخلیق علامہ اقبالؒ پرنہیں کی جاسکی۔یوں لگتاہے کہ گلزاراور کیفی نے بحرِ بے کراں کو کوزے میں بند کرنے کی اپنے تئیں کمال کوشش کی ہے۔ غالب کی پیدائش سے لے کراُن کی وفات تک ایک مکمل عہد سمودیاگیاہے۔ ہرایکٹ ، ہرسین، ہرکردارجیتاجاگتا اور زندگی سے بھرپوردکھائی دیتاہے۔فلم کے ہرکردارنے اپنے کردارکاحق اداکیاہے۔ غالب بچپن سے ہی بلوریاں کھیلنے کے شوقین پائے جاتے ہیں، سنِ بلوغت کوکیاپہنچے کہ فارسی ، اردومیں شعراور شطرنج کھیلنے میں ماہرثابت ہوئے ۔بیگم صاحبہ نیک سیرت تھیں جو مرزاکے ہرعمل پر صبرکرجاتیں، پہلے تو دربارِ بہادرشاہ ظفرمیں استادابراہیم المعروف ذوق اور اُن کے ہمنواﺅں نے غالب کے پاﺅں نہ ٹکنے دیئے ، اور جب ٹکے تو پھرٹکتے ہی چلے گئے کہ ایامِ اسیری میں بہادرشاہ ظفر نے حکام کو ”التجا“ کی کہ اُن کی ذاتی خواہش ہے کہ مرزاغالب کو رہاکردیاجائے۔ محل میں داخل ہونابھی قابلِ ذکرواقعہ ہے ۔مرزاغالب بازارمیں بیٹھے اپنے جوتے ٹھیک کرارہے تھے کہ ذوق پالکی میں گزرے جس پرغالب نے برجستہ جملہ کس دیاکہ
بناہے شاہ کامصاحب پھرے ہے اتراتا
بادشاہ کو خبرکی گئی ، محل میں مشاعرہ رکھ دیاگیااور غالب کو ایک بارپھررسواکرنے کی منصوبہ بندی کرلی گئی۔ بہادرشاہ ظفرکے کہنے پرجب بات کھل گئی تو غالب نے اعتراف کرلیاکہ یہ جملہ انہوں نے ضروربولاتھا،لیکن یہ اُن کی نئی غزل کے مقطع کامصرع اولیٰ ہے۔ بادشاہ کے اصرارپروہ بولے :
بناہے شاہ کامصاحب پھرے ہے اتراتا
وگرنہ شہر میں غالب کی آبروکیاہے
ظاہرہے ذوق سے برداشت نہ ہواتو بول اُٹھے: ”اگرمقطع اتناخوبصورت ہے تو پوری غزل کیاہوگی“؟ یہی وہ غزل تھی، جس نے مرزاغالب کو دلی کے دل میں آباد کردیااور بشمول ذوق ہرزبانِ خاص و عام کے ”غالب ، غالب “ کہاجانے لگا۔ یوں تو غالب کی حاجی میاں میرسے بہت بنتی تھی اور مفتی صاحب بھی اُن کے غمگساروں میں تھے ، بلکہ حکیم مومن خان مومن بھی اُن سے خاص عقیدت رکھتے تھے لیکن جو پیار، محبت اور زندگی جینے کاقرینہ مرزاغالب کو اپنی بیگم سے ملا، ایسی بیگمات شاید کسی کسی کے نصیب میں ہوتی ہیں۔ ٭

مزید :

کالم -