بھارتی سپریم کورٹ نے سوشل میڈیا کو کھلی چھٹی دے دی ،حکومت کو بڑا دھچکا

بھارتی سپریم کورٹ نے سوشل میڈیا کو کھلی چھٹی دے دی ،حکومت کو بڑا دھچکا
بھارتی سپریم کورٹ نے سوشل میڈیا کو کھلی چھٹی دے دی ،حکومت کو بڑا دھچکا

  

نئی دلی (نیوز ڈیسک) بھارتی حکام کی طرف سے آن لائن اظہار رائے کی آزادی کا حق استعمال کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کے پے درپے واقعات کے بعد بھارتی سپریم کورٹ نے متنازعہ قانون کا ہی خاتمہ کردیا ہے، جس کے بعد حکومت پریشان ہوگئی ہے اور عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفع 66 (A) کا غلط استعمال کرتے ہوئے حکام نے سیاستدانوں اور حکومتی شخصیات کے خلاف بات کرنے والے متعدد افراد کو حراست میں لیا اور ان کے ساتھ قابل اعتراض سلوک کیا۔ سال2012ءمیں جب دو خواتین نے شیوسینا کے سربراہ بال ٹھاکرے کی وفات پر ممبئی شہر کو بند کرنے کے خلاف انٹرنیٹ پر احتجاج کیا تو انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ اسی طرح مغربی بنگال کے ایک پروفیسر کو وزیراعلیٰ ممتا بینرجی کا ایک کارٹون پوسٹ کرنے پر گرفتار کرلیا گیا تھا۔

مزیدپڑھیں:بھارت میں اپنے بچوں کو پا س کروانے کیلئے والدین بندر بن گئے 

 عوام کی طرف سے کئے جانے والے اظہار رائے گلا گھونٹنے کے لئے بھارتی حکام نے اسی نوعیت کے متعدد اقدامات کئے جن کے بعد قانون کی طالبہ شریا سنگھال نے اس قانون کو عدالت میں چیلنج کردیا۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ قانون غیر آئینی ہے اور عدالت اسے ختم کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتی۔ عوام کی طرف سے اس فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا گیا ہے جبکہ حکومت اور ریاستی حکام اس پر کافی ناخوش نظر آرہے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی