خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی خبر یں تو اکثر آتی ہیں لیکن اس نوجوان لڑکی نے ایسا خوفنا ک قدم اٹھا یا جو کسی بھی لڑکے کے ہوش اڑا دے

خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی خبر یں تو اکثر آتی ہیں لیکن اس نوجوان لڑکی نے ...
خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی خبر یں تو اکثر آتی ہیں لیکن اس نوجوان لڑکی نے ایسا خوفنا ک قدم اٹھا یا جو کسی بھی لڑکے کے ہوش اڑا دے

  

نئی دلی (نیوز ڈیسک) بھارت میں خواتین کے خلاف جنسی جرائم روز کی خبر بن چکے ہیں اور اسی فضا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک نوجوان لڑکی نے اپنے دو ساتھی طالب علموں کی زندگی برباد کردی۔

ایمٹی یونیورسٹی کی طالبہ نے اپنے دو ساتھی طالب علموں پرشانت اور ملیند پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے نشہ آور مشروب پلانے کے بعد اس کے ساتھ زیادتی کی۔ سال 2012ءمیں الزامات لگنے کے بعد دونوں نوجوانوں کو گرفتار کرلیا گیا اور اس دوران انہیں قید و بند کے علاوہ ناقابل بیان سماجی مخالفت، نفرت اور تکالیف کا سامنا بھی کرنا پرا۔ اب عدالت نے تمام حقائق سامنے آنے کے بعد دونوں نوجوانوں کو بے گنا قرار دے دیا ہے جبکہ الزامات لگانے والی لڑکی کے موقف کو سراسر جھوٹی کہانی قرار دے دیا گیا ہے۔

10برس قبل دبئی سے غائب ہونے والی نئی نویلی دلہن کا شوہر گرفتار ،معاملہ اتنا پر اسرار کہ ذہن چکرا جائے

 تفصیلات کے مطابق لڑکی کا طبی معائنہ نہیں کیا گیا تھا، نہ ہی جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کئے گئے تھے اور نہ ہی ڈی این اے ٹیسٹ کئے گئے تھے، لیکن اس کے باوجود پولیس نے نوجوانوں کو مجرم قرار دے دیا تھا۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ لڑکی کے پرشانت نامی نوجوان کے ساتھ تعلقات تھے اور وہ دونوں بخوشی وقت گزارنے کے لئے اکٹھے ہوئے تھے۔ لڑکی نے اپنے ساتھ زیادتی کا جو وقت بتایا تھا اس کے بارے میں موبائل فون کمپنیوں سے معلومات لی گئیں تو معلوم ہوا کہ اس دوران اس نے اپنے والدین اور سہیلی کے ساتھ درجنوں دفعہ فون پر بات کی اور تمام ریکارڈنگ میں کسی پریشانی کا کوئی ذکر نہ تھا۔ عدالت کی طرف سے دونوں نوجوانوں کو بے گناہ قرار دے کر بری کردیا گیا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس