23مارچ 2015ء کی پریڈ: چند تاثرات!

23مارچ 2015ء کی پریڈ: چند تاثرات!
23مارچ 2015ء کی پریڈ: چند تاثرات!

  

راقم السطور فوجی ملازمت کے دوران 1985ء سے لے کر 1999ء تک کاب لائنز (Cobb Lines) راولپنڈی میں رہائش پذیر رہا۔ یہ 14برس راجہ رام چندر جی کابن باس نہیں تھے، بلکہ یہ کاب لائنز جسے مقامی زبان میں ڈھوک چوہدریاں کہا جاتا تھا اور بعد میں نجانے کس وجہ سے ذیشان کالونی کا نام دیا گیا، راولپنڈی کی گنجان ترین آبادیوں میں شمار ہوتی تھی۔ میرے گھر سے دفتر (GHQ)کا فاصلہ دو میل سے زیادہ نہ تھا۔ گھر سے نکلتے ہی احساس ہوتا تھا کہ گویا ہم ایک نہایت محفوظ (Heavily Guarded) ملٹری گیریژن میں رہ رہے ہیں۔۔۔ چند قدم کے فاصلے پر پریذیڈنٹ باڈی گارڈ کی یونٹ تھی۔ صحت مند گھوڑوں اور چاق و چوبند فوجی شہ سواروں کی ٹپاٹپ ایک معمول تھی۔ پھر ایک بڑی ایم ٹی بٹالین (44مکینیکل ٹرانسپورٹ بٹالین) بٹالین، سگنل کمیونی کمیشن آرگنائزیشن ،(SCO)، کئی رجمنٹوں کے آفیسرز میس، ملٹری ہسپتال، آئی ایس پی آر ڈائریکٹوریٹ اور پھر جی ایچ کیو۔۔۔ لگتا تھا یہ سب ادارے ایک دوسرے سے الگ ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے پیوست ہیں۔

ان 14برسوں میں 23مارچ کی پریڈ بھی بارہا(اسلام آباد میں) منعقد ہوئی اور مجھے ان میں بیشتر کو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ ان میں حصہ لینے والی یونٹوں کی ایک تعداد اس کاب لائنز کے گردونواح میں ہر سال فروری کی کسی تاریخ کو آکر مقیم ہو جاتی تھی اور ریہرسلوں کا دور شروع ہو جاتا تھا۔ راولپنڈی اسلام آباد میں مارچ کا آخری عشرہ بارشوں کے لئے بدنام تھا۔کسی اور دن بارشیں ہوں نہ ہوں 23مارچ یا اس کے آگے پیچھے ضرور ہوتی تھیں اور لگاتار ہوتی تھیں جو شرکائے پریڈ کی تیاریوں اور پریکٹس وغیرہ کے دورانیوں میں مخل ہوتی تھیں۔ نامزد شرکائے پریڈ (آفیسر اور جوان) دعائیں مانگتے تھے کہ کم از کم 21سے 23مارچ تک کے تین دن ’’خشک‘‘ رہیں کہ ان میں فل ڈریس ریہرسل اور اصل پریڈ ہوا کرتی تھی۔۔۔ اس تناظر میں 2015ء کی 23مارچ کی اس پریڈ کے بارے میں میرا پہلا تاثر یہ ہے کہ اس بار اللہ کریم نے اپنا خاص فضل کیا اور 23مارچ کو مطلع اتنا صاف تھا کہ حاضرین و ناظرین کے سروں پر دھوپ سے بچنے کے لئے رنگ برنگی چھتریوں کی خاصی بڑی تعداد دیکھی جا سکتی تھی۔

دوسرا تاثر حفظِ مراتب کی پاسداری دیکھنے کا ملا۔ فوج میں اکٹھے چلتے پھرتے یا کھڑا ہوتے وقت دستور یہ ہے کہ سینئر دائیں طرف ہوتا ہے اور جونیئر بائیں طرف۔ ناظرین نے دیکھا ہوگا کہ صدر مملکت، وزیراعظم کے دائیں طرف اور وزیردفاع، آرمی چیف کے دائیں طرف کھڑے رہے۔

تیسرا تاثر پریڈ کی عمومی فضا پر طاری ایک پُروقار تقدس تھا۔ بینڈ کی وہ گھن گرج اور بلند آہنگی جو گزشتہ پریڈوں کا طرۂ امتیاز سمجھی جاتی تھی، وہ غائب تھی۔ پریڈ کے دوران جب بھی مارچ پاسٹ کے لمحات آئے، موسیقی کی دھن کومل سروں میں سنائی دی۔ ماضی ء قریب میں پاکستان کو جن خودکش حملوں سے گزرنا پڑا، ان کی غم انگیز یادوں کا تقاضا تھا کہ بینڈ باجے کو اونچے سروں کی سرحدوں میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی جائے۔

چوتھا تاثر بلا تخصیصِ رینک،باوردی فوجیوں کی جسمانی اور ذہنی چابکدستی کا وہ مظاہرہ تھا جو بار بار دیکھنے کو ملا۔۔۔ پریڈ کمانڈر بریگیڈیئر خرم سرفراز خان (27بلوچ) کی دراز قامتی، متناسب سراپا اور ورڈز آف کمانڈ کی ڈلیوری دیدنی اور شنیدنی تھی جو ناظرین اور حاضرین کا لہو گرمانے کے لئے کافی تھی۔۔۔ پھر ایس ایس جی کے جی او سی میجر جنرل عابد رفیق خود پیرا جمپنگ سکواڈ میں شامل تھے اور سب سے آخر میں اپنے رنگارنگ چھاتے کے ساتھ انہوں نے جب لینڈ کیا تو یوں لگا کہ وہ جرنیل نہں کوئی نیم لفٹین ہیں۔۔۔ اور ائر چیف مارشل سہیل امان نے ایف۔16میں جب صدر کو سلامی دی تو وہ لمحہ بھی دیدنی تھا۔

کسی سپاہ کولیڈ (Lead) کرنے کا تقاضا یہ ہے کہ فوجی مقولے کے مطابق اس کو سامنے سے (From the Front) لیڈ کیا جائے۔یہی وجہ ہے کہ جب کسی سروس(آرمی، نیوی، ائر فورس) کے سربراہ کا انتخاب کیا جاتا ہے تو اس کے امیدوار کے بایو ڈاٹا کا بنگاہِ غائر مطالعہ کیا جاتا ہے کہ اس آفیسر نے کس کس عسکری جمعیت کو اور جمعیت کی کس کس برادری کو کمانڈ کیا ہے۔ تینوں سروسوں کے چیفس کا تعلق آپریشنل اور کمبٹ شعبوں سے ہونا چاہیے۔ ہماری ائر فورس میں ایف۔16 وہ طیارہ ہے جسے باقی طیاروں پر ہمہ جہتی برتری اور فوقیت حاصل ہے۔ اس طیارے کو اڑانا اور اس میں فضائی کرتب (Acrobatics)کا مظاہرہ کرنا ہر ہماشا کا کام نہیں۔ جسمانی اور ذہنی طور پر اسے نہایت مستعد اور چاق و چوبند ہونا پڑتا ہے۔یہی حال پاک بحریہ (یا دنیا کی کسی بھی بحریہ) کا ہے۔ اس کے سربراہ کا انتخاب کرتے ہوئے بھی یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس نے بحریہ کے کس کس بالائے آب یا زیر آب جہاز کو کمانڈ کیا ہے ۔ اسی طرح پاک آرمی میں اگرچہ انجینئرز اور سگنلز کو بھی لڑاکا شعبوں میں شمار کیا جاتا ہے، لیکن سروس چیف کے انتخاب میں صرف تین آرمز (Arms) کو مدِ نگاہ رکھا جاتا ہے۔ یعنی آرمر، انفنٹری اور آرٹلری۔آج تک پاکستان کے جتنے بھی آرمی چیفس بنے ان کا تعلق انہی شعبوں سے تھا۔

پانچواں تاثر نئے ہتھیاروں کی نمائش تھی۔ ٹینک، آرٹلری، اے پی سی اور میزائل وغیرہ تو گزشہ پریڈوں میں بھی دکھائے جاتے رہے۔ لیکن اس بار بغیر پائلٹ جہازوں (UAVs) کو نہ صرف دکھایا گیا بلکہ ان کی پرواز کو بھی پریڈ گراؤنڈ کی فضاؤں میں لائیو انداز میں کور (Cover) کیا گیا۔ بالخصوص پاکستان کا پہلا مسلح ڈرون ’’براق‘‘ جس کا حال ہی میں ٹلہ رینجز (جہلم) پر تجربہ کیا گیااس کا فلوٹ پر ساکن اور فضا میں محوِپرواز منظر ناظرین کے لئے حد درجہ حوصلہ افزا تھا۔ مَیں نے چند روز پہلے جب اسی براق ڈرون پر کالم لکھا تھا تو عرض کیا تھا کہ یہ مستقبل کا ایک نہایت کارگر فضائی ہتھیار ہے۔ دنیا کی کم افواج نے اپنے ہاں مسلح ڈرونوں کا تجربہ کیا ہے۔ پاکستان اس اعتبار سے خوش قسمت ہے کہ اس کے کئی ہتھیار، حالات کے جبر کی پیداوار ہیں۔ان میں ہمارا جوہری پروگرام بھی شامل ہیں۔ دراصل ہر نیا ہتھیار حالات کے جبر ہی کے باعث ایجاد ہوتا ہے۔۔۔ یہ ایک وسیع موضوع ہے۔ اس پر کسی الگ کالم میں بحث کرنے کی ضرورت ہے۔

چھٹا تاثر صدر مملکت کی وہ تقریر ہے جو گزشتہ سویلین صدور کے مقابلے میں مختصر، ٹُو ڈی پوائنٹ اور دلوں کو گرما دینے والی تھی۔ ماضی میں جتنے بھی سویلین صدور پاکستان کو ملے ان میں ذوالفقار علی بھٹو، چودھری فضل الٰہی، غلام اسحاق خان، فاروق لغاری، جسٹس رفیق تارڑ کو یاد کیجئے۔یہ سب اپنے اپنے زمانوں میں افواج پاکستان کے سپریم کمانڈر تھے۔23مارچ جیسی تقاریب میں ان کو بھی تقریروں کے مواقع ملے لیکن مَیں صدر ممنون حسین کو ان سب پر اس لئے فوقیت دیتا ہوں کہ ان کو سیاست یا ریاست کی حکمرانی کا کوئی پیشگی تجربہ نہ تھا۔ بھٹو صاحب اور فضل الٰہی سیاستدان تھے۔ غلام اسحاق خان اور فاروق لغاری بیورو کریٹ تھے۔ رفیق تارڑ صاحب کا تعلق عدلیہ سے تھا لیکن ممنون حسین شائد پہلے صدر ہیں جن کو اس قسم کے گورننس والے یا ریاستی اداروں کی سربراہی والے اداروں کا کوئی تجربہ نہیں۔ لیکن ان کی تقریر ایسی نپی تلی تھی کہ وہ اپنے تمام پیشرو صدور پر بازی لے گئے۔ ایک تو انہوں نے زیادہ لمبی چوڑی تقریر نہیں جھاڑی۔ عوامی الفاظ اور عوامی لب و لہجہ تھا جو وقار اور اعتماد سے سرشار تھا۔ انہوں نے پہلے تو یہ کہہ کر حاضرین کے دل جیتے کہ وہ جلد وزیرستان (اور دوسرے وہ علاقے کہ جو دہشت گردی کی گرد میں اٹے ہوئے ہیں) میں جا کر اپنے سربکف بیٹوں کو سینے سے لگائیں گے جو اپنے آج کو قوم کے کل پر قربان کررہے ہیں۔ وہ ایسے جواں ہمت ہیں جن کا ذکر حالی نے ان الفاظ میں کیا ہے:

وہ تھکتے ہیں اور چین پاتی ہے دنیا

کماتے ہیں وہ اور کھاتی ہے دنیا

صدر کی تقریر کا دوسرا خوش آئند پہلو وہ خوش خبری تھی جس کی مبارکباد انہوں نے قوم کو دی۔یہ خوشخبری پاکستان کی سمندری حدود میں 150سمندری میل کا وہ اضافہ تھا جس کا اعلان اقوام متحدہ نے پانچ روز پہلے (20مارچ کو) کیا۔۔۔ یہ کیسی خوش خبری تھی، اس سے پاکستان کو کیا کیا فوائد حاصل ہوں گے اور قوم کو مبارکباد دینے کی کیا ضرورت تھی یہ تمام بسیط اور وضاحت طلب پہلو ہیں، انشاء اللہ اگلے کالم میں ان پر بات کریں گے۔

ساتواں تاثر پریڈ میں باوردی خواتین کی بھرپور شرکت تھی۔ گرلز گائیڈز اور فوج کے دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والی کثیر التعداد بارودی خواتین کا مارچ پاسٹ ایک روح پرور منظر تھا۔ یہ منظر ان دہشت گردانہ ذہنیت کے حامل قدامت پرست مذہبی عناصر کے منہ پر ایک تھپڑ بھی تھا جو خواتین کے سکولوں اور کالجوں کو ماضی میں نذرآتش کرتے رہے اور جن کی مذموم کارروائیوں کی کوکھ سے ملالہ یوسف زئیوں نے جنم لیا۔۔۔ الحمد للہ۔۔۔ اور پریڈ کے آخر میں سکول کی بچیوں اور بچوں نے جس والہانہ انداز میں قومی نغمے الاپے وہ 16دسمبر 2014ء کے سانحے کے پس منظر میں قوم کی نوجوان نسل کا ابھرتا ہوا ایک نیاجذبہء جرات و شجاعت تھا۔۔۔ ثم الحمد اللہ

آٹھواں تاثر مہمان خصوصی کا انتخاب تھا۔26جنوری 2015ء کو بھارت کے یوم جمہوریہ پر امریکی صدر کی آمد اور اپنی اہلیہ سمیت شرکت پر کئی بھارتی مبصروں کو میڈیا پر آکر یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ پاکستان 23مارچ کی اپنی پریڈ میں چینی صدر کو دعوت دے کر گویا بھارت کی جوابی نقالی کرے گا۔ وہ چاہتے تھے کہ دونوں تقاریب کا موازنہ، دنیا کی دو بڑی طاقتوں کی حریفانہ کشمکش کا مظہر بنا کر پیش کیا جائے۔۔۔لیکن پاکستان نے اپنے صدر مملکت کو مہمان خصوصی بنا کر بھارتی میڈیا کا جو منہ بند کیا ہے اس پر غالب کا یہ چھوٹا سا مصرعہ مکتفی ہونا چاہئیے!

شرم تم کو مگر نہیں آتی

نواں تاثر پریڈ کے انتظام و انصرام کے ذمہ داروں کو خراج تحسین پیش کرنے سے متعلق ہے۔ ایک ملٹری پریڈ کو ملٹری انداز اور ملٹری نظام الاقات کے مطابق کنڈکٹ کرنا ایک ایسا مشکل کام ہوتا ہے کہ اس کا اندازہ کم حاصرین و ناظرین کو ہوگا اور تو اور پریڈ پر رواں تبصرہ کرنے والے حضرات و خواتین کی ریہرسل اور ان کی طرزِ ادا پر بھی بے ساختہ داد دینے کو جی چاہتا ہے۔ اردو کے اشعار کی درست قرات اور مختلف مناظر پر رننگ کمنٹری کرنا اور صوتی نشیب و فراز کا لحاظ رکھنا کارے دارد ہے۔ انگریزی اور اردو کے علاوہ بعض جگہ علاقائی زبانوں (پشتو، سندھی، بلوچی، پنجابی) کو کمنٹری کا حصہ بنانا بھی منتظمینِ پریڈ کا ایک بڑا قابل تحسین کارنامہ ہے جس پر آئی ایس پی آر کے متعلقہ شعبوں کو مبارک باد دیتا ہوں۔

قارئین گرامی! میرا دسواں اور آخری تاثر بڑا عجیب و غریب سا لگے۔۔۔ نجانے میرے ذہن میں یہ خیال کیوں آ رہاہے کہ اس قسم کی تقریباتی پریڈیں جہاں ایک طرف اہلِ وطن کے دلوں کو گرماتی اور ان کے جذبوں کو رعنائی عطا کرتی ہیں وہاں ان میں ایک نادیدہ اور پوشیدہ خطرہ بھی مستور ہوتا ہے۔۔۔ اس پرکسی اور کالم میں عرض کرنے کی کوشش کروں گا!

مزید : کالم