کراچی

کراچی

پورے ملک کی طرح سندھ کے عوام بھی یوم پاکستان پر ہونے والی مسلح افواج کی شاندار پریڈ اور دفاع کے شعبہ میں برق رفتار ترقی کے مناظر دیکھ کر خوش اور متاثر ہوئے۔اس سال یوم پاکستان پر ہونے والی تقریبات کی ایک بڑی اہمیت یہ بھی ہے کہ چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں بھی ہونے والی تقریبات میں قومی یکجہتی کو فروغ دینے کی شعوری کوششیں نظر آئی ہیں۔ خدا کرے آنے والے یوم پاکستان پر قوم جب یہ تقریب منا رہی ہو۔ توہم پڑوسی ملک بھارت کی سیاسی قیادت کی طرح خوشی و غمی کے تہوار اکٹھے منانے کا سلیقہ سیکھ کر قومی شعور کو اتنا پختہ کر چکے ہوں کہ ہم بحیثیت قوم دنیا کے سامنے اپنا سر فخر سے بلند کر کے کہہ سکیں کہ ہم نے اپنی صفوں سے ’’ہمہ اقسام کے مسلح گروہوں اور ان کے طاقتور سرپرستوں‘‘ کا مکمل طور پر قلع قمع کر دیا ہے۔

ریاست پاکستان کا ہر ادارہ اور اس کا سربراہ آئین پاکستان کے طے کردہ دائرہ کار کے اندر رہ کر کام کرنے کا پابند ہو تب ہی ہم بابائے قوم حضرت قائداعظم ؒ کے تصورات کے مطابق قانون کی حکمرانی کو ہر سطح پر عملاً بالادست تسلیم کرانے میں کامیاب ہو سکیں گے۔

سندھ میں بھی عمومی طور پر حکمران جماعت مسلم لیگ(ن) اور حزب اختلاف کی بڑی جماعت تحریک انصاف کی قیادت کے درمیان جوڈیشل کمیشن کے معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے اس سے یقیناًسیاسی تناؤ میں کمی آئے گی۔ تحریک انصاف ملک کی ایک بڑی سیاسی حقیقت ہے جس کا کوئی ذی شعور انکار نہیں کر سکتا۔ اب دونوں طرف کے ’’زبان درازوں‘‘ اور ’’طبلچیوں‘‘ کو بھی بدلتی ہوئی سیاست کے زمینی حقائق کا ادراک کر کے اپنی ’’بلیم گیم‘‘ کی جنگ بندی کا اعلان کر کے سفر کا آغاز اس سمت کر لینا چاہئے جس سے سیاست میں روا داری اور شائستگی کا کلچر پروان چڑھ سکے تاکہ2013ء کے عام انتخابات میں ہونے والی بے قاعدگیوں کا ازالہ بھی ہو جائے اور مستقبل میں ہر طرح کی دھاندلی سے پاک صاف شفاف آزادانہ غیر جانبدارانہ انتخابات کرانے کی اہمیت و صلاحیت رکھنے والا الیکشن کمشن بھی انتخابی اصلاحات کے جامع پیکیج کے ذریعے حاصل ہو جائے۔ انتخابی اصلاحات کے ذریعہ الیکشن میں اس کے لئے وسائل فراہم کرنے والوں اور سرمایہ کاروں کا سیاست میں داخلہ سختی کے ساتھ بند کرنا پڑے گا، بصورت دیگر دھاندلی کو روکنا ناممکن ہو گا۔

جہاں تک معاملہ ہے کراچی میں آپریشن کا اس کی منظوری تمام جماعتوں نے دی ہوئی ہے۔ ملک کے شمالی علاقوں کی طرح کراچی میں جاری دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف آپریشن پر ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین اور ان کے سیاسی مخالفوں کے ردعمل کو ان کی ترجیحات کے مطابق دیکھنا ہو گا۔ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کا ردعمل بظاہر کتنا بھی شدید نظر آئے۔ بین السطور ان کے ردعمل میں زمینی حقائق کا اعتراف نظر آتا ہے، جبکہ ان کے سیاسی مخالف احتیاط کا دامن چھوڑتے نظر آ رہے ہیں، جو کراچی کے امن کی بحالی کی راہ میں مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے تاحال احتیاط کا دامن پکڑے ہوئے ہیں اور ان غلطیوں سے شعوری طور پر بچنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں جو1992ء میں سندھ میں سیاسی جماعتوں کی صفوں میں پناہ لینے والے ڈاکوؤں اور جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی کے لئے شروع کیا گیا تھا۔1992ء کا آپریشن بھی ایم کیو ایم کی مشاورت سے شروع کیا گیا تھا،مگر جیسے ہی اس وقت کے آرمی چیف جنرل آصف نواز نے میڈیا کے سامنے یہ بیان دیا کہ اگر مسلم لیگ کے کئی دھڑے کام کر سکتے ہیں تو ایم کیو ایم کے ایک سے زائد دھڑے کیوں نہیں کر سکتے؟ جنرل آصف نواز (مرحوم) کے اس بیان نے آپریشن کا تاثر ہی بدل کر رکھ دیا۔ اچھی بات یہ ہے کہ اس بار سول اور خود فوجی قیادت کی طرف سے ایم کیو ایم کے وجود کو ختم کرنے یا الطاف حسین کو قیادت سے ہٹانے کی بات نہیں کی گئی۔البتہ بعض حضرات جو کل ’’قصیدہ گوئی‘‘ میں بھی تاک تھے اور آج ہجو میں ساری حدوں کو پار کرنے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ ان کا معاملہ حضرت علیؓ کے اس قول فیصل کے عین مصداق ہے۔ حضرت علیؓ نے فرمایا تھا کہ ’’جو شخص تمہاری ایسی تعریف کرے جو تم میں نہیں ہے تو یقین جانو وہ تمہاری بُرائی بھی ایسی کرے گا جو تم میں نہیں ہے‘‘۔1992ء میں آپریشن کرنے والوں نے ریاستی جبر کے ذریعے الطاف حسین سے ایم کیو ایم کی قیادت سے دستبردار ہونے کا اعلان کرا دیا تھا اور ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے ارکان سندھ اسمبلی کی اکثریت کو جبر کے ذریعہ سندھ اسمبلی میں سید مظفر علی شاہ کی حکومت میں شامل کرکے اسمبلی میں لا کر بٹھا دیا تھا۔

واضح رہے 1990ء کے عام انتخابات میں سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم کے 24ارکان منتخب ہوئے تھے، ان سارے ارکان نے قومی اسمبلی کے ارکان کے ساتھ 1992ء کا آپریشن شروع ہونے سے کچھ دن پہلے لاہور کے آواری ہوٹل میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں فرداً فرداً یہ حلف اٹھایا تھا کہ اگر وہ الطاف حسین سے غداری کے مرتکب ہوں تو وہ اپنی ماں اور اپنی بہن سے ۔۔۔ مرتکب ہوں گے۔ اس پرہجوم کانفرنس کی روداد لاہور سے شائع ہونے والے تمام اخبارات و جرائد میں اگلے دن شائع ہوئی تھی ایم کیو ایم کے کسی ایک رکن اسمبلی نے بھی اس پریس کانفرنس کی کارروائی سے برائت کا اعلان کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی، مگر ریاستی جبر کے سامنے سب ڈھیر ہو گئے تھے جو ان 24ارکان اسمبلی میں سے 17ارکان اسمبلی سید مظفر علی شاہ کے ساتھ حکومت میں آکر بیٹھ گئے تھے۔ ’’پی او سی‘‘ (پرونشل آپریشن کمیٹی) کے سربراہ تھے جس طرح ستمبر 2013ء سے جاری ایکشن کے کپتان سید قائم علی شاہ ہیں۔

ملک ہمہ اقسام کے دہشت گردوں اور ان کے طاقت ور سرپرستوں کے خلاف آپریشن میں ناکامی کا متحمل ہو سکتا ہے اور نہ ہی اس بار ماضی کی غلطی دہرانے کی گنجائش آپریشن کرنے والوں کے پاس ہے اور نہ ہی ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین اور ان کے زیر کمان کام کرنے والوں کے پاس ہے۔ دونوں میں سے جس نے ماضی کی غلطی دہرائی، وہ ملک کے دشمنوں کا کام آسان کرے گا، آپریشن کا ہدف جب تک ہمہ اقسام کے مسلح گروہ اور ان کے طاقت ور سرپرست رہیں گے۔ تب تک رائے عامہ کی اکثریت مسلح گروہوں اور جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی کرنے والوں کی حامی رہے گی۔ اہداف بدلے تو منظر بھی بدلتا نظر آئے گا۔

کراچی میں آپریشن کے ساتھ ساتھ ترقیاتی منصوبوں پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ یوں تو اب ملک بھر میں اقتدار میں رہنے والی سیاسی جماعتوں نے ریاسی مشینری میں اپنے اپنے ذاتی وفاداروں کی فوج ظفر موج بھرتی کرنے کو اپنا پیدائشی حق سمجھ رکھا ہے، مگر صوبہ سندھ وہ بدقسمت صوبہ ہے، جہاں نمائندگی کی دعویدار دونوں جماعتوں نے سرکاری ملازمت میں بھرتی کا واحد معیار اپنی اپنی ذاتی وفاداری بنا رکھا ہے۔جس سے اہل اور وسائل سے محروم نوجوانوں کے لئے سرکاری ملازمتوں کے داخلے بالکل بند ہو چکے ہیں۔آپریشن کرنے والوں کو اس کی جلد از جلد اصلاح کی طرف بھی توجہ دینا ہوگی۔ سندھ میں دونوں جماعتوں کا دامن اس حوالے سے داغ دار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لیاری گینگ وار کے جرائم پیشہ عناصر پکڑے جائیں یا ایم کیو ایم کی صفوں میں پناہ لینے والے جرائم پیشہ عناصر اور ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں ملوث عناصر پکڑے جائیں، وہ نکلتے ہیں سرکاری اداروں کے ملازم۔ حال ہی میں سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے الزام میں رینجرز نے جو ملزم پکڑے ہیں ان کے بارے میں بھی یہی کہا جا رہا ہے کہ وہ مختلف سرکاری محکموں کے گھوسٹ ملازم ہیں۔ صوبائی حکومت کے ترجمان صوبائی وزیر اطلاعات آئے روز ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے گھوسٹ ملازمین کے بارے میں میڈیا کو آگاہ کرتے رہتے ہیں، مگر پیپلزپارٹی کا دامن بھی گھوسٹ ملازمین کے حوالہ سے پاک صاف نہیں ہے۔ سندھ حکومت میں گھوسٹ ملازمین کی تعداد ہزاروں میں ہے ، جس کا تدارک ضروری ہے آپریشن کی کامیابی کے لئے ناگزیر ہے کہ میرٹ کے ذریعے شہری، دیہی کوٹہ کے مطابق سیاسی دباؤ سے آزاد بھرتی کا صاف شفاف نظام بحال کیا جائے۔ تاکہ اہل اور وسائل سے محروم نوجوانوں میں امید کی شمع روشن ہو سکے، سرکاری ملازمتوں میں میرٹ کی بنیاد پر منصفانہ بھرتی کے ساتھ ساتھ وفاق کی طرف سے اعلان کردہ کراچی کے ترقیاتی منصوبوں پر کام کا آغاز بھی ہونا چاہئے۔

مزید : ایڈیشن 1