یمن ،حوثیوں نے زخمی یمنی ریاض کے بجائے تہران بھیج دیے

یمن ،حوثیوں نے زخمی یمنی ریاض کے بجائے تہران بھیج دیے

 دبئی ( آن لائن )یمن کے اقتدار پر قابض اہل تشیع مسلک کے ایران نواز حوثی گروپ نے گذشتہ جمعہ کے روز صنعاء کی مساجد میں ہونے والے دھماکوں کے زخمیوں کو سعودی عرب میں علاج کے لیے بھجوانے کے بجائے انہیں ایران بھیج دیا ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران بھجوائے گئے زخمیوں کے ہمراہ یمنی میڈیکل مشن کے صدر عبدالوھاب سعد نے بتایا کہ حوثیوں نے سعودی عرب کی جانب سے صنعاء4 میں دہشت گردی کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کے علاج کی پیش کش ٹھکراتے ہوئے زخمیوں کو علاج کے لیے ایران بھیجا ہے۔ادھر ایرانی خبر رساں اداروں نے بھی یمن سے لائے گئے زخمیوں کے علاج کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ حال ہی میں صنعاء میں مساجد میں سلسلہ وارخود کش حملوں کے نتیجے میں زخمی ہونے والے 52 افراد کو تہران لایا گیا ہے جہاں ان کا علاج پاسداران انقلاب کے زیرانتظام ’’بقی اللہ ‘‘ اسپتال میں علاج جاری ہے۔ڈاکٹرسعد نے بتایا کہ ایران کے بعد صنعاء کے زخمیوں کی بڑی تعداد سلطنت عمان لے جائی گئی ہے جہاں پہنچائے گئے زخمیوں کی تعداد 40 بتائی جاتی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق سوموار کو بھی صنعاء میں زخمی ہونے والے چھ افراد کو تہران لایا گیا۔ادھر ایرانی میڈیکل مشن کے سربراہ سلیمان حیدری نے اپنے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ان کے ملک کے 24ٹن ادویات یمن پہنچائی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک چھ رکنی ٹیم جو صنعاء میں کام کررہی تھی زخمیوں کے ساتھ دوبارہ تہران واپس آگئی ہے۔یاد رہے کہ پچھلے جمعہ کو صنعاء میں تین جامع مساجد میں ہونے والے سلسلہ وار دھماکوں اور خود کش حملوں کے نتیجے میں 142 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔ ان حملوں کی ذمہ داری دولت اسلامی ’داعش‘ سے وابستہ ایک گروپ نے قبول کی تھی۔ دھماکوں کے فوری بعد ایران کے وزیر برائے عرب و افریقی امور حسین عبداللھیان نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کے ملک نے صنعاء میں زخمیوں کے ہنگامی علاج کے لیے میڈیکل ٹیم اور ادویات کی بھاری مقدار یمن روانہ کردی ہیں۔

مزید : عالمی منظر