پشاور

پشاور

بابا گل سے

پشاور سے ملحق خیبر ایجنسی میں دہشت گردوں کے خلاف فوجی کاروائی میں تیزی پید ا ہوئی فضائیہ کی مسلسل بمباری کے نتیجے میں ڈیڑھ سو سے زائد شدت پسند ہلاک ہوئے یہ کارروائیاں آپریشن خیبر ٹو کے نام سے وادی تیراہ میں کی جاری ہیں جس کا شمار انتہائی دشوار گزار اورناقابل رسائی علاقوں میں ہوتا ہے یہ وادی طویل عرصہ سے شدت پسندوں کاگڑھ رہا ہے وادی تیراہ سے کرم ایجنسی اورکزئی ایجنسی اورافغانستان کے لئے محفوظ راستے نکلتے ہیں آئی ایس پی آر نے مبینہ طور پر وادی تیراہ کی بمباری میں تحریک طالبان کے امیر ملا فضل اللہ کی ہلاکت کا بھی دعوی کیا ہے اور بعض اطلاعات کے مطابق ملا فضل اللہ کی نعش کی تصاویر بھی حاصل کی گئی ہیں تاہم گورنر خیبر پختونخوا سردار مہتاب احمد خان نے میڈیا سے غیر رسمی بات چیت میں کہا کہ ملافضل اللہ کی ہلاکت کے بارے ابھی مزید تصدیق کی ضرورت ہے گورنر نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ طالبان تیراہ میں دوبارہ اکٹھے ہورہے ہیں اور فورسز کی کارروائیوں میں مزاحمت بھی کررہے ہیں ،جبکہ آئی ایس پی آر نے اسی روز یہ دعویٰ کیا کہ فورسز نے وادی تیراہ میں درہ مستول پاس اور سنڈاپال کا کنٹرول حاصل کر کے دہشت گردوں کی نقل و حمل کے راستے کاٹ دیئے فورسز کی طرف سے مستول اور سنڈا پال پر قبضے کی اطلاعات آپریشن خیبر ٹو کی سب سے اہم کامیابی اور پیش رفت ہے۔ مذکورہ دونوں مقامات افغانستان کے علاوہ کرم ایجنسی اور اورکزئی ایجنسی آمدرفت کے لئے جنکشن کے حیثیت رکھتے ہیں ماضی میں ان علاقوں کا کنٹرول حاصل کرنے کے لئے طالبان کے مختلف دھڑئے بھی ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار رہے ماضی میں یہ مقامات دہشت گردوں کے جس دھڑے کے کنٹرول میں ہوئے اسی دھڑے کو طاقتور اور بالادست تسلیم کیا جاتا اور علاقے میں اِسی کاراج ہوتا اب ان مقامات کا کنٹرول پاکستان آرمی نے حاصل کر لیا تو یہ ایک خوش آئند اور اطمینان بخش پیش رفت ہے اب یہ توقع کرنا چاہئے کہ دہشت گردوں کی ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں نقل و حمل کا سلسلہ رُک گیا ہے، جس کے دہشت گردی کے واقعات پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور دہشت گردوں کو ہراس جگہ پر محصور کر دیا جائے گا جہاں وہ اب موجود ہیں آپریشن خیبر ٹو کے دوران اب تک 10 سے زائد فوجی جوانوں نے جام شہادت نوش کیا، جبکہ اس سے کئی گنا زیادہ اہلکار زخمی ہوچکے ہیں،مگر اس کے باوجود پا ک آرمی کے جوان پورئے جوش وجذبے اور ولولے کے ساتھ مسلسل آگے کی طرف بڑھ رہے پاک فوج کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف نے بھی انہی حالات کے تناظر میں پشاور کا دورہ کیا جہاں کو ر کمانڈر پشاور نے سپہ سالار کو آپریشن خیبر ٹو کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اور فوج کی کامیابیوں سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر آرمی چیف نے اپنے مختصر خطاب میں اپنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی اور پاک فوج ہرجگہ دہشت گردوں کا تعاقب کرے گی یہاں تک کہ شہریوں میں بھی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کیا جائے گا آرمی چیف کے بیان کا آخری جملہ خیبرپختونخوا کی عوام خواہشوں کا ترجمان ہے۔

خیبرپختونخوا خصوصاً پشاور کے عوام مسلسل مطالبہ کرنے آرہے ہیں کہ آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج کو شہروں کے اندر اپریشن کرنے کا اختیار دیا جائے، کیونکہ اس حقیقت کو جھٹلانا ممکن نہیں رہا کہ کراچی وزیرستان اورخیبر ایجنسی میں فیصلہ کن آپریشن کے نتیجے میں دہشت گردوں کی ایک بڑی تعداد شہروں میں اپنے سہولت کاروں اور حامیوں کے پاس روپوش ہو چکی ہے، جو موقع ملتے ہی شہروں میں کوئی نہ کوئی سنگین واردات کر بیٹھتے ہیں۔

اسامہ بن لادن کی گرفتاری میں مدد دینے والے زیر حراست ڈاکٹر شکیل آفریدی کے وکیل سمیع اللہ آفریدی ایڈووکیٹ کو بھی دہشت گردوں نے نشانہ بنایا، جس کی وجہ سے ان کی موت ہو گئی سمیع اللہ آفریدی کے المناک قتل نے وکلاء سمیت شہریوں کو بھی خوف و تشویش میں مبتلا کر دیا ڈاکٹر شکیل آفریدی کی وکالت کرنے کی پاداش میں سمیع اللہ ایڈووکیٹ کو قتل کی دھمکیاں مل چکی تھیں حالات کی سنگینی کا اندازہ لگانے کے بعد وہ مختصر عرصہ کے لئے ملک سے باہر چلے گئے اور تین ماہ کے بعد چند روز پیشتر ہی وہ واپس آئے اور اِسی حادثے کا شکار ہو گئے جس کا انہیں خوف لاحق تھا سمیع ا ﷲ کے قتل کے خلاف پشاور ہائی کورٹ بار کی کال پر صوبے بھر کے وکلاء نے شدید احتجاج کیا اور تین روز گزرنے کے بعد خاموش ہوگئے اس دوران دہشت گردوں یکہ توت پولیس سٹیشن کی حدود میں مسلم لیگ (ن) کے مقامی رہنما سردار خان مومند سے بھتہ کا مطالبہ کیا جا رہا تھا اور ایک ماہ قبل ان کے گھر کے سامنے بم دھماکہ بھی کیا گیا پشاور کی پولیس نفری کی کمی کے باعث شہریوں کو فول پروف سیکیورٹی دینے سے قاصر ہے پشاور میں ایک کروڑ سے زائد آبادی کے لئے کم سے کم 25ہزار پولیس اہلکاروں کی ضرورت ہے، مگر بدقسمتی سے اس وقت حاضر اور موجودہ اہلکاروں کی تعداد صرف 1983ء ہے، جو آٹے میں نمک کے برابر ہے جبکہ ٹرینگ ،اسلحہ اور وسائل کے مقابلے میں دہشت گرد ہماری پولیس سے کئی گنا زیادہ بہتر ہیں، مگر اس کے باوجود صوبائی و وفاقی حکومتیں دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں پویس کو فرنٹ لائن بنا رہی ہیں، جو کہ دراصل پولیس کی جنگ نہیں ہے بہرحال پشاور سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں کامیاب آپریشن مسلسل جاری ہے، جبکہ وہاں سے بھاگے ہوئے دہشت گردوں کی پشاور اور دیگر شہروں میں کارروائیاں بھی پورے ا عتماد کے ساتھ جاری ہیں دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائیوں اور ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی متضاد خبروں کے دوران آرمی ببلک سکول کے 142 شہداء کے حوالقین کو تمغہ شہادت سمیت سول اعزاز سے نوازا گیا اس سلسلے میں 23مارچ کی شام گورنر ہاؤس پشاور میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا، جس میں 122 طلبہ اور 20 اُستانیوں اساتذہ کو شجاعت کے تمغے دیئے گئے ان اعزازات کا مطالبہ کم و بیش ہر سیاسی پارٹی نے کیا تھا۔ دوسری طرف پشاور کے اہم سرکاری سکولوں کو بھی شہداء کے نام سے منسوب کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے اور کئی سکولوں کو شہداء کے نام سے منسوب کر کے بڑے بڑے بورڈ لگا دیئے گئے ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1