9800امریکی فوجی اس سال کے آخر تک افغانستان میں رہیں گے ،صدر اوباما

9800امریکی فوجی اس سال کے آخر تک افغانستان میں رہیں گے ،صدر اوباما

 واشنگٹن (اظہر زمان ،بیوروچیف ) امریکی صدر باراک اوباما نے افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ افغانستان میں فوجوں کی تعداد کم نہیں کی جائے گی جبکہ سال 2015 ء کے آخر تک 9 ہزار 800 فوجی افغانستان میں رہیں گے۔امریکی صدر باراک اوباما کا کہنا تھا کہ مستحکم افغانستان خطے کے امن کے لیے بہت ضروری ہے جبکہ امریکہ مستحکم افغانستان کے لیے مدد جاری رکھے گا۔انہوں نے مزید واضح کیا کہ امریکہ افغان فورسز کی تربیت اور معاونت جاری رکھے گا تاکہ افغانستان ایک مستحکم ملک بن کر دنیا کے سامنے آئے۔افغانستان میں ایک لاکھ فوج موجود تھی جو انخلاء کے پروگرام کے تحت اس وقت دس ہزار کے قریب رہ گئی ہے مرحلہ وار کمی کے شیڈول کے تحت موجودہ سال کے آ خر پر تعداد ساڑھے پانچ ہزار ہوئی تھی اور 2016ء کے آ خر میں مزید کم ہو کر یہ تعداد ایک ہزار ہونا تھا ۔تاہم صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کی مخلوط حکومت چاہتی ہے کہ افغانستان میں سکیورٹی کی صورتحال کے پیش نظر فی الحال امریکی فوج کی تعداد کم نہ کی جائے ۔صدر اشرف غنی نے واضح طور پر کہا ہے کہ یہ تاثر غلط ہے کہ افغانی امریکی فوج کا فوری انخلاء چاہتے ہیں ۔ادھر افغانستان سے وابستہ امریکی فوجی کمانڈروں کا تجزیہ بھی یہی ہے کہ میدان جنگ سے باہر نکلنے کے بعد افغان سیکورٹی فورسز کی تربیت کا جو کام امریکی فوجی کررہے ہیں ان کی تعداد کم ہونے سے یہ کام متاثر ہو سکتا ہے افغان لیڈروں نے سوموار کی صبح پینٹا گون کے دورے کے بعد سارا دن کیمپ ڈیوڈ میں امریکہ کے تین وزرا کی قیادت میں امریکی حکام سے بنیادی مذاکرات میں گزارا ۔وزیر خارجہ جان کیری ‘وزیر دفاع آ شٹن کارٹر اور وزیر خزانہ جیکک لیو کے ساتھ انہوں نے جن موضوعات پر سیر حا صل بات چیت کی ان میں سر فہرست سیکیورٹی اور مصالحت کا معاملہ تھا ۔امریکی فوج کی تعداد کم نہ کر نے کی درخواست بھی سیکورٹی معاملے کا ایک حصہ ہے ۔افغانستان میں قیام امن اور سیکورٹی کی فضاء بہتر کر نے کے لئے افغان لیڈروں نے سیکورٹی اور اقتصادی شعبوں میں امریکی امداد کے لئے اپنا ایک منصوبہ پیش کیا ہے جسے یقیناًامریکی حکام کی تائید حاصل ہو جائے گی ۔افغانستان میں طالبات کے ساتھ مصالحت بھی وہاں امن کے قیام کے لئے ضروری ہے اور اس سلسلے میں مبینہ طور پر پاکستان کی مدد لی جارہی ہے اندرورنی رپورٹ یہ ہے لیکن وہ پہلی غلطی دہرانا نہیں چاہتے جب انہوں نے طالبان سے مذاکرات کے لئے افغان انتظامیہ کی بجائے خود پہلی کی تھی اور معاملہ نا کام ہو گیاتھا امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کیمپ ڈیوڈ کے مذاکرات کے بعد واضح طور پر بتایا کہ امریکہ اور افغانستان کے دور طرف تعلقات میں اور لین ترجیح وہاں سکیورٹی اور قیام امن کی صورت حال میں بہتری کے ساتھ ساتھ افغانستان کی اقتصادی ترقی اور خوشحالی ہے اس اظہار سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ افغانستان کی سیکیورٹی اور اقتصادی ترقی کے لئے فراخدلانہ امداد دینے کا ارادہ رکھتا ہے امریکی وزیر خارجہ نے دونوں ملکوں کے درمیان سٹریٹجیک معاہدے کے تحت ایک مشترکہ کمیشن قائم کر نے کا بھی اعلان کیا اور بتایا کہ وہ جلد ہی کابل کا دورہ کر یں گے اور افغان وزیر خارجہ ربانی کے ہمراہ مشترکہ طور پ کمیشن کا اجلاس منعقد کریں گے اس کمیشن کے تحت ان تمام معلامات کا جازہ لیا جائے گا جو افغانستان کی سکیورٹی اور ترقی کے لئے ضروری ہیں وزیر خارجہ نے اس امر پر خوشی کا اظہار کیا کہ افغانستان میں تعلیم اور صحت کی صورت حال میں بھی بہتری آ رہی ہے وہاں سکول جانے والے طلباء کی تعداد نو لاکھ سے بڑھ کر اسی لاکھ ہو چکی ہے جن می 40فیصد طالبات شامل ہیں افغانستان کی سیکوٹری فورسز کے بارے میں امریکی وزیر دفاع کا رٹر نے بتایا کہ 2017ء تک ان کی تعداد ساڑے تین لاکھ سے تجاوز کر جائے گی اور اس طرح افغانستان کا سیکورٹی نظام مزید مستحکم ہوجائے گا بد ھ کے روز کیپٹل بل میں مصروفیت کے بعد افغان لیڈر اقوام متحدہ کے راہنماؤں سے ملنے نیو یارک جائیں گے اس میں ذرا بھی شک نہیں رہا کہ افغان لیڈروں کا پانچ روز ہ امریکی دورہ اپنے مقاصد اور نتائج کے حوالے انتہائی کامیاب رہے گا ۔

مزید : صفحہ اول