حرام اشیاء فروخت کرنیوالوں کیخلاف سخت کارروائی کرینگے،جسٹس (ر) خلیل الرحمن

حرام اشیاء فروخت کرنیوالوں کیخلاف سخت کارروائی کرینگے،جسٹس (ر) خلیل الرحمن

لاہور(انٹرویو: صبغت اللہ چودھری، تصاویر: عمر شریف) چیئرمین پنجاب حلال فوڈ اتھارٹی جسٹس (ر) خلیل الرحمن نے کہا ہے کہ پاکستان حلال ڈویلپمنٹ ایکٹ کا مسودہ تیار کر لیا گیا جو اسمبلی سے منظوری کے بعد نافذ کر دیا جائے گاجس کے تحت حرام اشیاء بیچنے والوں کو ایک سال قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکے گا، نمائندہ ’’پاکستان‘‘ سے خصوصی انٹرویو کے دوران جسٹس (ر) خلیل الرحمن کا کہنا تھا کہ حرام اشیاء بیچنے والے مافیاز کی گرفت کیلئے قانون ہی موجود نہیں ہے، جون سے پہلے پاکستان حلال ڈویلپمنٹ ایکٹ نافذ ہو جائے گا،انہوں نے کہا کہ ٹاؤنوں کے مذبحہ خانوں کیلئے شریعہ قوانین بنا دیئے ہیں جبکہ جانور ذبح کرنے والے قصابوں کی استعداد کے مطابق انہیں لائسنس جاری کئے جائیں گے،ان کا کہنا تھا کہ مارکیٹ میں بکنے والی تمام اشیاء کی تصدیق کیلئے سافٹ ویئر ڈیزائن کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ چار ممالک کے ماہرین سے مل کر حلال فورم بنایا ہے جو الیکٹرانک کوڈ کے ذریعے 2 ہزار آئٹمز کا تجزیہ کر چکا ہے ،جسٹس (ر) خلیل الرحمن نے کہا کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی اور انڈسٹریز ڈیپارٹمنٹ کو تیار اشیاء پر اجزائے ترکیبی کا لیبل نہ لگانے والی کمپنیوں کیخلاف کارروائی کی درخواست کر دی۔انہوں نے کہا کہ وفاق کی سطح پر قانون بننے کے باوجود 18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو بھی اس حوالے سے قانون سازی کرناپڑے گی حلال ڈویلپمنٹ ایکٹ کا مسودہ بھی پنجاب حلال فوڈ اتھارٹی نے بنایا ہے جس کی منظوری کے بعد صوبائی سطح پر بھی قانون بنا کر اسمبلی سے پاس کروا یا جائے گا،ان کا کہنا تھا کہ غیر مسلم ممالک حلال ریسرچ پر اربوں روپیہ خرچ کر رہے ہیں پاکستان کو بھی حلال انڈسٹری کے پوٹینشل سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک سمیت ترقی یافتہ دنیا میں گزشتہ 2 دہائیوں سے حلال قوانین متعارف کروائے جا چکے ہیں تاہم ہمارے ہاں اس کا آئیڈیا بڑی دیر سے دیا گیا۔اب وفاقی حکومت کی بہت کوششوں کے بعد۔ انہوں نے کہا کہ حلال فوڈ انڈسٹری میں بے پناہ پوٹینشل موجود ہے اور دنیا کے غیر مسلم ممالک اس صنعت سے فائدہ اٹھانے کیلئے حلال ریسرچ پراربوں روپے کے فنڈز خرچ کر رہے ہیں او آئی سی ممالک نے سیمیک(ایس ایم آئی آئی سی) کے نام سے حلال اشیاء کی سٹینڈرڈائزیشن کی ہے جسے پیش نظر رکھتے ہوئے پنجاب حلال فوڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے رہنما اصول وضع کر دیئے ہیں اور اس سلسلے میں تمام متعلقہ محکموں کو گائیڈ لائنز دے دی ہیں، قصابوں کی کیپسٹی بلڈنگ کی جائے گی اور حلال ڈویلپمنٹ قانون کے نفاذ کے بعد مذبح خانوں کی لائسنسنگ کی جائے گی جن کیلئے پی ایچ ڈے اے کا لائسنس یافتہ ہونا لازمی ہوگا۔انہوں نے کہا کہ مارکیٹ میں فروخت ہونیوالی اشیاء پر ریسرچ کے ذریعے چار ملکوں کے مشترکہ فورم نے 2 ہزار فوڈ آئٹمز کے فارمولے مشکوک قرار دیئے ہیں جن کی روشنی میں آئندہ 6 ماہ کے اندر ایک خصوصی سافٹ ویئر ڈیزائن کیا جا رہا ہے جس پر ایس ایم ایس کے ذریعے صارفین ایسی اشیاء کی تصدیق کر سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ تھائی لینڈ جیسا ملک جہاں مسلمانوں کی تعداد صرف 7 فیصد ہے وہ حلال مصنوعات پر خطیر سرمایہ خرچ کر رہا ہے پاکستان کو بھی حلال انڈسٹری کے پوٹیشنل سے فائدہ اٹھانے کیلئے اقدامات کرنا ہونگے۔ پی ایچ ڈی اے نے حال ہی میں ایکسپو سنٹر میں حلال مصنوعات کی تشہیر اور لوگوں کو آگہی دینے کیلئے نمائش کا انعقاد کیا جو نہایت کامیاب رہی اور پوری دنیا کے ممالک نے اس میں حصہ لیا۔ جسٹس (ر) خلیل الرحمن خان نے کہا کہ اڑھائی سال کی قلیل مدت میں حلال مصنوعات کے حوالے سے کافی کام کیا ہے اور پوری دنیا میں اس اتھارٹی کی پہچان ہو گئی ہے، آئندہ ماہ شکاگو میں ہونیوالی حلال کانفرنس میں شرکت کا دعوت نامہ ملا ہے جبکہ دبئی میں ہونیوالی حلال کانفرنس کے ایک سیشن کو چیئر کرنے کا اعزاز بھی ملے گا اس کے علاوہ فلپائن، آسٹریلیا اور تھائی لینڈ کی کانفرنسز میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی جائیگی۔چیئرمین پنجاب حلال فوڈ اتھارٹی کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر پاکستان کی حلال مصنوعات کے حوالے سے کاوشوں کو پذیرائی ملی ہے جس کا کریڈٹ موجودہ حکومت کو جاتا ہے۔

مزید : صفحہ آخر