ڈی سی او جس کو دل چاہتا ہے دہشت گرد بنا دیتے ہیں ،لاہور ہائیکورٹ

ڈی سی او جس کو دل چاہتا ہے دہشت گرد بنا دیتے ہیں ،لاہور ہائیکورٹ

 لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان عوامی تحریک کے رہنما افضل رضوی کی نظر بندی کے خلاف دائر درخواست پر ڈی سی او فیصل آباد کو 3 روز میں فیصلہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے قراردیا کہ ڈی سی او حضرات بغیر سوچے سمجھے آرڈر جاری کر دیتے ہیں اوروہ جس کودل چاہتا ہے دہشت گرد بنا دیتے ہیں۔گزشتہ روز عدالت کے روبرودرخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ افضل رضوی کو غیر قانونی طور پر نظر بند کیا گیا ہے، حکومت کئی مرتبہ انہیں امن کی کوششوں پر سرٹیفکیٹس بھی جاری کر چکی ہے، عدالت نے ڈی سی او نورالامین مینگل سے استفسار کیا کہ انہوں نے نظر بندی کے یہ احکامات کیسے جاری کر دیئے؟جس پر ڈی سی او نے بتایا کہ خفیہ اداروں کی معلومات پر نظر بندی کے احکامات جاری کئے گئے، عدالت نے کہا کہ خفیہ اداروں کی رپورٹ پر ڈی سی او نے اپنا دماغ استعمال کرنا ہوتا ہے لیکن یہاں بغیر سوچے سمجھے نظر بندی کے احکامات جاری کئے جارہے ہیں اورجس کو دل چاہتا ہے دہشت گرد بنا دیتے ہیں،فاضل جج نے ڈی سی او کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے وہ واپس بلوچستان جانا چاہتے ہیں۔عدالت نے نظر بندی پر تین روز میں فیصلہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے مزیدسماعت30مارچ تک ملتوی کر دی۔ دماغ استعمال

مزید : صفحہ آخر