ستار طاہر۔۔۔۔۔۔ مزدور نثرنگار

ستار طاہر۔۔۔۔۔۔ مزدور نثرنگار

قارئین! ذرا دیکھئے ، قدرت نے ستار طاہر کے ساتھ کیسا مذاق کیا کہ وہ یکم مئی 1940ء یعنی مزدوروں کے عالمی دن پیدا ہوئے۔ پھر وہ ساری عمر قلم کی مزدوری کرتے رہے۔

جس طرح حضرتِ احسان دانش کو مزدور شاعر کہا جاتا ہے اسی طرح ستار طاہر کو مزدور نثر نگار کہا جاسکتا ہے۔ ایک عام آدمی جب مزدوری کرتا ہے تو وہ اپنے پسینے کی قیمت وصول کرتا ہے لیکن ایک شاعر یا نثر نگار جب مزدوری کرتا ہے تو وہ خونِ جگر بیچتا ہے لیکن ہمیشہ اس کی آدھی قیمت وصول کرتا ہے۔ ادب کے سرمایہ دار اس کا اتنا استحصال کرتے ہیں کہ وہ ساری عمر کورے کاغذ پر اپنے خون جگر کی روشنائی بکھیرنے پر مجبور رہتاہے۔ بس ذرا کہیں سے اشارہ ہوا اور اس نے اپنے قلم کا بیلچہ سنبھال لیا۔ ستار طاہر ہمارے ایسے ہی نثر نگار تھے جو ہر روز ایک نیا کنواں کھودتے اور اپنی پیاس بجھاتے۔ وہ اپنی شیریں کے لئے ہر روز ایک نئی نہر کھود کر اس کے محل تک لے جاتے اور خود ہمیشہ پیاسے رہے۔

25مارچ کو ان کی بائیسویں برسی ہے۔وہ 1993ء میں حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے تھے۔ انہوں نے اتنا لکھا ،اتنا لکھاکہ خود انہیں بھی اپنی کتابوں کی صحیح تعداد یاد نہ تھی۔ان کی بیش تر کتابیں ان کے اپنے نام کے ساتھ چھپیں۔ کچھ قلمی ناموں سے اور کچھ ان کے ان مہربانوں کے ناموں کے ساتھ چھپیں جنہوں نے ان کا خونِ جگر نہایت سستے داموں خرید لیا تھا۔ ان کی تصانیف کی تعداد تقریباً250ہے لیکن ان کی بیش تر کتابیں آج نایاب ہیں اور اگر کہیں دستیاب ہیں تو شائد ان کے گھر والوں کو بھی نہیں معلوم ہوگا۔کیونکہ اگر انہیں پتا چل گیا کہ کوئی پبلشر ان کی کتابیں چھاپ رہا ہے تو وہ رائلٹی کی صورت میں اپنا حق ضرور طلب کریں گے۔ پچھلے دنوں نیشنل بک فاؤنڈیشن کے ایک افسر نے مجھ سے رابطہ کیا اور ستار طاہر کی بیگم صاحبہ کا فون نمبر مانگا۔ اتفاق دیکھئے کہ مرحوم کا بیٹا عدیل طاہر ان دنوں روزنامہ پاکستان میں سب ایڈیٹر ہے چنانچہ مجھے ان کی والدہ کا نمبر مل گیا جو میں نے نیشنل بک فاؤنڈیشن والوں کو دے دیا۔ عدیل نے بتایا کہ فاؤنڈیشن نے ان کے والد گرامی کی ایک کتاب کا نیا ایڈیشن چھاپا ہے اور اس کی رائلٹی ادا کرنے کے لئے انہوں نے رابطہ کیا تھا۔ میرا خیال ہے کہ اب تک بیگم ستار طاہر کو رائلٹی مل چکی ہو گی ورنہ وہ مجھ سے فون پر شکوہ ضرور کرتیں۔ نیشنل بک فاؤنڈیشن ہمارے دوسرے سرکاری اداروں جیسا ہی ایک ادارہ ہے، یہاں بھی ویسی ہی خامیاں دکھائی دیتی ہیں جیسی دوسرے محکموں میں نظر آتی ہیں، لیکن کبھی کبھی کسی ایک شخص لے آنے سے یہ خامیاں کم بھی ہو جاتی ہیں اسلام آباد میں ڈاکٹر انعام الحق جاوید این بی ایف کے کپتان ہیں۔ یہ افسر اگر چاہیں تو ستار طاہر کی بہت سی کتابیں پھر سے چھپ سکتی ہیں اور جہالت کے اندھیروں میں روشنی بکھر سکتی ہے۔ ممکن ہے کہ اس طرح ہمارے مزدور نثر نگار کے اہلِ خانہ کے کچھ مسائل بھی حل ہو جائیں۔ چلئے آپ کے سیاسی نظریات، ستار طاہر مرحوم سے الگ ہیں تو ان کی سیاسی کتابیں مت چھاپئے ان کی بچوں کے لئے لکھی ہوئی اور مرتب اور ترجمہ کی گئی کتابیں ہی چھاپ دیجئے۔ ان کی کتابوں کے موضوعات مستقل اہمیت کے حامل ہیں ذرا چند ایک کتابوں کے عنوانات آپ ملاحظہ کر لیجئے: ’’اپنا قائداعظم ایک‘‘، ’’دنیا کی سو عظیم کتابیں‘‘، ’’ایک عالم ہے ثناء خواں آپؐ کا‘‘ ،’’تعزیت نامے‘‘، ’’حلقہء دامِ خیال‘‘، ’’پاکستان کا مستقبل‘‘، ’’حیات سعید‘‘، ’’نوبل انعام یافتہ مصنفین‘‘، ’’زندہ بھٹو مردہ بھٹو‘‘، ’’سورج بکف شب گزیدہ‘‘، ’’اگر مجھے قتل کیا گیا‘‘، ’’بھٹو مقدمہ اور سزا‘‘، ’’عدلیہ کا بحران‘‘، ’’عورت کی حکمرانی‘‘، ’’پاکستان کی خارجہ پالیسی‘‘ اس کے علاوہ انہوں نے بچوں کے کلاسیکی ادب کے ترجمے بھی کئے۔

مَیں جب ان کی کتابوں کی فہرست پر نظر دوڑاتا ہوں تو یہ سوچ کر کانپ کر رہ جاتا ہوں کہ ستار طاہر کتنے بڑے آدمی تھے اور ہم نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا؟پاکستانی جامعات میں ان پر ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالات لکھے جانے چاہئیں تھے ۔ سرکاری ادارے ان کی کتابیں چھاپنے سے ڈرتے ہیں۔ نیشنل بک فاؤنڈیشن اگر ان کی ساری کتابوں کی اشاعت کے حقوق حاص کرلے تو ادب، سیاسیات، قانون اور مقابلے کا امتحان دینے والے طلبہ و طالبات ، کتابوں کی تلاش کے لئے سب سے پہلے این بی ایف کی طرح رجوع کریں گے۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید کو وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید سے راہ نمائی حاصل کرکے ستار طاہر مرحوم کی تمام کتابوں کی مکرر اشاعت کا اہتمام کرنا چاہیے۔

مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں نے لاہور میں آتے ہی جن چند بڑے ادیبوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا شروع کیا ان میں جناب ستار طاہر سرفہرست تھے۔ میری ان سے زیادہ ملاقاتیں پاک ٹی ہاؤس میں ہوئیں یا اظہر جاوید کے ماہنامہ ’’تخلیق‘‘ کے دفتر میں ۔شہر میں منعقد ہونے والی ادبی تقریبات میں بھی ان سے ملاقات ہو جایا کرتی تھی۔ وہ نہایت سنجیدہ ادبی کام نہایت سنجیدگی سے کیا کرتے تھے لیکن محفلوں میں وہ ہمیشہ قہقہہ بار دکھائی دیئے۔

اس وقت میرے سامنے ستار طاہر مرحوم کی ایک نایاب کتاب ’’حیاتِ سعید‘‘ پڑی ہے اس کا فلیپ مظفر محمد علی نے لکھا ہے۔ اس فلیپ سے ایک چھوٹا سا اقتباس آپ ملاحظہ کیجئے:

’’ہزاروں صفحات پر پھیلی ہوئی ستار طاہر مرحوم کی رنگارنگ اور لگ بھگ ہر صنف میں لکھی گئی تحریروں کو یوں تو اتنے ہی خانوں میں بانٹا جا سکتا ہے مگر میں انہیں محض دو خانوں میں بانٹتا ہوں۔ ایک خانہ ان تحریروں پر مشتمل ہے جو مرحوم نے روٹی روزی کمانے کے لئے لکھیں اور دوسرا خانہ ان تحریروں کا ہے جنہیں مرحوم نے خالصتاً اپنی خوشی کے لئے اور اپنا فرض سمجھ کر لکھا۔ پھر ستار طاہر ویسے تو اپنی ہر تحریر میں اپنی زندگی کے راہ راست اور رنگارنگ تجربات مشاہدات اور مختلف موضوعات پر اپنے وسیع تر مطالعے کے بھرپور پَرتو کے ساتھ نظر آتے مگر جو کچھ وہ اپنی خوشی کے لئے کسی بھی صلے یا ستائش کی پروا کئے بغیرلکھتے اس کی تاثیر ہی کچھ اور ہوتی تھی۔ ’’حیاتِ سعید‘‘ ان کی ایسی ہی یادگار تحریروں میں سے ایک تھی‘‘۔

جس ادارے نے یہ کتاب چھاپی تھی وہ غالباً آج وقت کے اندھیروں میں گم ہو چکا ہے۔ یہ کتاب ادارہ ہمدرد کو خود چھاپنا چاہیے کیونکہ اس میں حکیم محمد سعید ویسے ہی نظر آتے ہیں جیسے وہ حقیقت میں تھے۔

یہ بات بہت سے قارئین کے لئے نئی ہوگی کہ انہوں نے شکم کی آگ بجھانے کے لئے بعض فلموں کی کہانیاں بھی لکھیں جن میں ’’میرا نام ہے محبت‘‘، ’’وعدے کی زنجیر‘‘ اور’’انسان اور آدمی‘‘ مشہور ہوئیں۔کیوں نہ لکھتے ؟آخر وہ مزدور تھے !مزدور روٹی کمانے کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہے۔

مزید : کالم