ملک کا نام پاکستان لمیٹڈ کمپنی رکھ دیاجائے ،کیٹل مینجمنٹ کمپنی کے خلاف حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے ریمارکس

 ملک کا نام پاکستان لمیٹڈ کمپنی رکھ دیاجائے ،کیٹل مینجمنٹ کمپنی کے خلاف حکم ...
 ملک کا نام پاکستان لمیٹڈ کمپنی رکھ دیاجائے ،کیٹل مینجمنٹ کمپنی کے خلاف حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے ریمارکس

  

  لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے صوبہ بھر کی مویشی منڈیوں کا انتظام کیٹل مینجمنٹ کمپنی کے سپرد کرنے کے خلاف حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے قراردیا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ آئین کے آرٹیکل 140(اے )میں ترمیم کر کے ملک کا نام پاکستان لمیٹڈ کمپنی رکھ دے۔ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے یہ عبوری حکم اور ریمارکس ٹھیکیدار محمد یوسف کی درخواست پر دیئے ۔فاضل جج نے کیٹل مینجمنٹ کمیٹی کو تاحکم ثانی مویشی منڈیوں کا انتظام سنبھالنے سے روکتے ہوئے حکم دیا کہ آئندہ سے مویشی منڈیوں سے حاصل شدہ فیس سمیت ہر طرح کے فنڈز کی نگرانی متعلقہ ٹی ایم ایز ہی کریں گی ۔عدالت نے پنجاب حکومت ،متعلقہ محکمے اور ایڈووکیٹ جنرل کو نوٹس بھی جاری کردیئے ہیں ،عدالت نے مدعا علیہان کو 29مارچ تک تحریری جواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے ۔درخواست گزار محمد یوسف ٹھیکدار کی طرف سے عدالت میں موقف اختیار کیا گیاکہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت مویشی منڈیوں کا انتظام ضلعی حکومتوں کے پاس تھا تاہم حکومت پنجاب نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم کر کے مویشی منڈیوں کے انتظامی اختیارات کیٹل مینجمنٹ کمپنی کے سپرد کر دئیے ۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو آئینی تحفظ حاصل ہے ۔حکومت نے بلدیاتی الیکشن کی بجائے مختلف کمپنیاں قائم کرکے مقامی حکومتوں کے اختیارات ان کے سپرد کردیئے ہیں جبکہ ضلعی حکومتوں کی جگہ معاملات ایڈمنسٹریٹر چلا رہے ہیں جو کہ آئین کی منشااور قانون کے منافی اقدام ہے ۔آئین کے آرٹیکل 140(اے)کے تحت مقامی حکومتوںکا قیام آئینی تقاضا ہے جسے نظر انداز کردیا گیا ہے اس پر فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ اگر حکومت مقامی حکومتیں قائم نہیں کرنا چاہتی تو پھر اس آرٹیکل میں ترمیم کرکے ملک کا نام پاکستان لمیٹڈ کمپنی رکھ دیا جائے۔درخواست گزار کے وکیل نے مزید موقف اختیا رکیا کہ مویشی منڈیوں کا انتظام مذکورہ کمپنی کے سپرد کرنے سے بیوپاریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ مویشی منڈیوں کو دوبارہ ضلعی انتظامیہ کے ماتحت کرنے کے احکامات جاری کئے جائیں۔

رات کو بھی عدالت لگے گی ؟ وکلاءتنظیمیں 30مارچ کو فیصلہ کریں گی

دوسری طرف پنجاب حکومت کی طرف سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب انوار حسین نے موقف اختیار کیا کہ کیٹل کمپنیاں مفاد عامہ کے لئے قائم کی گئیں ہیں اور مڈل مین کا کردار ختم کر دیا گیا ہے ، کمپنیوں کے قیام کے بعد منڈیوں میں مویشیوں کی خریدوفروخت پر کوئی فیس عائد نہیں کی گئی بلکہ کوشش کی جا رہی کہ منڈیوں میں صحت مند مویشیوں کی خریدوفروخت ممکن ہو سکے تاکہ حفظان صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی نہ ہو۔عدالت نے درخواست گزار کے حق میں عبوری حکم امنتاعی جاری کرتے ہوئے مقدمہ کی مزید سماعت کے لئے 29مارچ کی تاریخ مقرر کی ہے ۔

مزید : لاہور