میرے فلمی تعلقات (2)

میرے فلمی تعلقات (2)
میرے فلمی تعلقات (2)

  

اپنے فلمی تعلقات کی داستان کی دوسری قسط بیان کرنے لگا ہوں تو خاص خاص واقعات یاد آرہے ہیں لیکن ان کی ترتیب شاید صحیح طرح نہ بتاسکوں ۔ جس زمانے میں صحافیوں کی صرف ایک تنظیم ہوتی تھی اس وقت میں پنجاب یونین آف جرنلسٹس (پی یو جے) کا پہلے ممبر مجلس عاملہ اور اگلے سال جوائنٹ سیکرٹری منتخب ہوا۔ یہ بتانا اس لئے ضروری ہوا کہ جب وفاقی تنظیم کے منہاج برنا، حبیب غوری اور عبدالحمید چھاپرہ جیسے لیڈر لاہور میں سالانہ اجلاسوں میں شرکت کرنے آتے تو ہم پی یوجے کی طرف سے ان کی میزبانی کرتے۔ ہم شام کو ان کو تانگوں پر پرانے شہر کی سیر کراتے اور لاہوری کھانے کھلاتے۔ ان کے پروگرام میں ہمیشہ ایک وزٹ میں کم ازکم ایک دعوت فلم سٹار محمد علی کے گھر ضرور ہوتی تھی۔ محمد علی کے علاوہ وہاں زیبا بیگم سے بھی ملاقات ہوتی جو ایک ذمہ دار خاتون خانہ کی حیثیت سے چل پھر کر دیکھ رہی ہوتی تھیں کہ مہمانوں کا اچھی طرح خیال رکھا جارہا ہے یا نہیں۔ اُنہی دنوں میں نے زیبا بیگم کا تفصیلی انٹرویو بھی کیا۔ اس وقت میں سمن آباد سے شروع ہونے والے انگریزی ماہنامے ’’فلم اینڈ فیشن‘‘ کا ایڈیٹر بن چکا تھا۔ دراصل میرے بڑے اچھے صحافی دوست خالد چودھری کے محمد علی سے گہرے تعلقات تھے جس کے ساتھ میں کئی بار محمد علی سے سٹوڈیواور دوسرے مقامات پر ملتا رہا۔ اپنی فلمی ڈائریوں میں کئی بار محمد علی کا ذکر کیا لیکن ان کا باقاعدہ انٹرویو کبھی نہیں کیا۔ میں نے ’’فلم اینڈ فیشن‘‘ کے دور میں جو بہت سے انٹرویو کئے ان میں سے طارق عزیز کا انٹرویو بہت یادگار ہے۔ اس رسالے کا مالک ایس اے رحمن پیشہ کے اعتبار سے بہت معتبر فوٹو گرافر ہے ۔وہ طارق عزیز کا تقریباً ہم عمر ہے لیکن رشتے میں اس کا سگا ماموں ہے۔ رحمن نے اپنے بھانجے کا کمال کا فوٹو شوٹ کیا اور مجھ سے فرمائش کی کہ طارق عزیز کے فلمی،سماجی اور سیاسی تجربات پر مبنی ایسا انٹرویو لکھو کہ یادگار بن جائے۔ انٹرویو کرنے کے بعد جب میں نے لکھا تو میرا خیال ہے وہ واقعی یادگار بن گیا۔ نشو اور طارق عزیز کے انٹرویو انگلش لٹریچر کے لئے میرے قابل فخر تحفے ہیں۔

پھر ایک وقت آیا جب میری لاہور میں تمام صحافتی ملازمتیں ختم ہو گئیں اور میں شرمندہ شرمندہ سا ہوکر اوکاڑہ میں اپنے والدین کے پاس جا پہنچا ۔ میرا سارا بھرم ٹوٹ گیا اور صحافت کی معمولی تنخواہوں نے جو حقیقتیں چھپا چھپا کر رکھی تھیں وہ سب کھل کر سامنے آگئیں۔ میرا ایک کلاس فیلو جاوید اقبال پراچہ اس دوران ترقی کرکے پاکستان ٹیلی ویژن کے لاہور سنٹر میں نیوز ایڈیٹر بن کر آگیا۔ میں پہلے اس کا ذکر کرچکا ہوں کہ ’’فلم ورلڈ ‘‘ کے دفتر کی سیڑھیاں چڑھتے وقت وہ میرے ساتھ تھا۔ اس نے مجھے اوکاڑہ فون کرکے مذاق میں کہا کہ اگر تم میرے ماتحت کام کرنے کے لئے تیار ہو تو بتاؤ ہمارے پاس کنٹریکٹ پر نیوز پروڈیوسر کی ایک آسامی خالی ہوئی ہے جسے پر کرنے کا مجھے اختیار ملا ہے۔ کام وہی اخباری نوعیت کا نیوز روم میں خبروں کی ایڈیٹنگ کا ہے۔ میں نے کہا میں تو پہلے ہی لاہور سے اداس ہوں، مجھے منظور ہے۔ پی ٹی وی لاہور مرکز میں سال ڈیڑھ سال کام کیا اور پھر جمپ لگاکر لاہور ہی کے امریکن سنٹر میں ڈپٹی انفارمیشن ایڈوائزر بن گیا جس کی تفصیل بتانے کا یہ موقع نہیں ہے۔ لیکن امریکن سنٹر پہنچنے کا اس لئے بتایا ہے کہ ایک دو سال کے وقفے کے بعد میرے فلمی تعلقات کا یہاں سے ایک نیا دور شروع ہوا۔ لیکن ابھی پہلے دور کی ایک دو باتیں باقی ہیں۔

دلیپ کمار کو اپنی فلم ’’دوپٹہ‘‘ میں نورجہاں کے مقابل ہیرو کے طورپر پہلی بار متعارف کرانے والے برصغیر کے چوٹی کے ڈائریکٹر سبطین فضلی کے آس پاس کافی رہا۔ ان سے علیک سلیک ضرور ہوتی لیکن ان کے ساتھ باقاعدہ مکالمہ کرنے کی کبھی جرأت نہیں ہوئی۔ ان کے سارے بیٹوں علی، اسد، اکو اور اظوکے ساتھ تعلق رہا جبکہ تیسرے نمبر والے اکبر فضلی یعنی اکو سے بہت دوستی تھی جس کے ساتھ شام کو عام طورپر پرانی پریس کلب میں ٹیبل ٹینس کھیلتے تھے۔ اس کو ہمیشہ سے موسیقی سے بہت لگاؤ تھا۔ انڈین گانوں سے صحیح معنوں میں اس نے مجھے روشناس کرایا۔ جب بھی کوئی نئی کیسٹ ریلیز ہوتی تو وہ اسے ضرور خریدتا اور مجھے اپنے گھر یا میرے گھر آکر مجھے ضرور سناتا ۔ اکو آج کل لاس اینجلس میں رہتا ہے۔ امریکہ آنے سے پہلے ایورنیو سٹوڈیو کے مالک اور پروڈیوسر سجاد گل کی تقریباً ہرفلم کا انتظام بطور ایگزیکٹو پروڈیوسر اکبر فضلی کے پاس ہوتا تھا۔ وہ دونوں ہم عمر اور آپس میں گہرے دوست ہیں۔ اکو کی وجہ سے میرے بھی سجاد گل کے ساتھ اچھے مراسم بن گئے اور جب بھی ایورنیو سٹوڈیو میں اظہر برکی کے ڈیرے پر جاکر بیٹھتا تو تھوڑی دیر کے لئے اٹھ کر سجاد گل کو ملنے ضرور جاتا ۔ سبطین فضلی سے میرا تعلق معمولی علیک سلیک سے آگے نہ بڑھا۔ اس وقت میں نے ابھی فلمی شاعری شروع نہیں کی تھی لیکن ایک واقعہ ایسا ہوا کہ فضلی خاندان میں میرا شاعر کے طورپر تعارف ضرور ہو گیا۔ اس وقت کی سب سے بڑی گرامو فون کمپنی ای ایم آئی نے ایک ریکارڈ تیار کیا جس کے ایک طرف میری کالج کے زمانے کی غزل اور دوسری طرف فضل کریم فضلی کی غزل تھی۔ میری غزل کا مطلع تھا :

تمنا تیرے بغیر، نہ ارماں تیرے بغیر

سب پیار کے اجڑگئے ساماں تیرے بغیر

یہ غزل ای ایم ائی تک کیسے پہنچی اس کی تفصیل بتانے کی یہاں گنجائش نہیں ہے۔ بتانا یہ ہے کہ فضل کریم فضلی جن کے ساتھ ریکارڈ پر میری غزل شامل تھی سبطین فضلی کے بھائی اور معروف شاعر اور فلم ساز تھے جنہوں نے اپنی فلم ’’چراغ جلتا رہا ‘‘ میں محمد علی کو متعارف کرایا تھا اکو نے بڑے فخر کے ساتھ اپنے پورے خاندان کو بتایا کہ ان کے تایا کے ساتھ جن کی غزل ریکارڈ میں شامل ہے وہ ان کا دوست ہے۔

سید نور کی پہلی بیوی رخسانہ آرزو کو، جو شادی کے بعد رخسانہ نور بنی، میں اس وقت سے جانتا تھا جب وہ میرے بعد کے دور میں ایم اے صحافت کرکے صحافت میں آئیں۔ان سے اور ان کی وجہ سے ان کے پورے خاندان سے میرے خاندان کے تعلقات آج تک قائم ہیں۔ وہ میری منہ بولی بہن بنی ہوئی ہیں، بعدکے دور میں ہماری دوستی کی مثلث میں معروف موسیقار امجد بوبی مرحوم شامل ہوا جن کا ذکر آگے جاکر آئے گا۔ سید نور کا چھوٹا بھائی سید قاسم اب خود ڈائریکٹر بن چکا ہے جو میری شاید اتنی ہی عزت کرتا ہے جتنی اپنے بھائی سید نور کی کرتا ہے اور مجھ سے ہمیشہ رابطے میں رہتا ہے اور اپنے فلمی معاملات میں بھی میرے مشورے کے ساتھ چلتا ہے۔

1978ء میں مَیں امریکن سنٹر میں آیا۔ اس وقت پشتو فلموں کے بانی ڈائریکٹر عزیز تبسم لاہور منتقل ہوچکے تھے اور اردو فلمیں بنارہے تھے۔ میں انہیں پشتو فلموں کا ’’بابائے قوم‘‘ کہا کرتا تھا کہ انہوں نے بدرمنیر کو ہیرو لے کر پہلی فلم کی ڈائریکشن دے کر یہ سلسلہ شروع کیا تھا۔ میری ای ایم آئی کے گراموفون ریکارڈ میں شامل غزل کے میوزک ڈائریکٹر ایم الیاس نے اسے ریڈیو پاکستان لاہور میں چلوانا شروع کردیا جسے عزیز تبسم نے بھی سن لیا۔ ایک روز اچانک عزیز تبسم امریکن سنٹر آئے اور چائے کی پیالی پر ایک اچھا تعلق بناکر چلے گئے۔ یہ میں نے کیا لکھ دیا وہ چلے نہیں گئے بلکہ میری زندگی میں مستقل شامل ہوگئے ،وہ جس نیت سے آئے تھے اس میں وہ کامیاب ہوگئے اور بالآخر مجھے فلمی شاعر بناکر ہی دم لیا اور اس کے بعد میرے فلمی تعلقات کی ایک اور راہ کھل گئی۔ میں نے اسے بہت سمجھایا میں ایک تو شاعری صرف اپنے اطمینان کے لئے کرتا ہوں اور اسے زیادہ نشرکرنا پسند نہیں کرتا اور دوسرے جس طرح کی فلمی شاعری ہورہی ہے وہ شاید میرے بس میں نہیں ہے۔ انہوں نے میری باتیں سنی ان سنی کرکے اپنا فیصلہ صادرکردیا۔ انہوں نے ٹھیک 30دن کی مہلت دی۔ اپنے سکرپٹ میں چھ گانوں کے جو مواقع انہوں نے پیدا کئے تھے ان کا بریف ایک کاغذ پر لکھ کر میرے حوالے کیا انہوں نے کہا کہ یہ گانے مجھے ایک ماہ میں تیار چاہئیں جس کے بعد پہلے گانے کی ریکارڈنگ سے اس فلم ’’نیویارک کے چکر باز‘‘ کا افتتاح ہوگا۔ میں نے اسے چیلنج سمجھ کر قبول کر لیا اور اس مہلت کے اندر یہ گانے لکھ کر ان کے حوالے کردیئے کہ میں نے شرط پوری کردی ہے لیکن میں نے گانوں کے لئے چونکہ اپنی شاعری کی ادبی حیثیت پر کمپرومائز نہیں کیا اس لئے ہوسکتا ہے آپ کو پسند نہ آئیں۔ وہ دودن بعد واپس آئے اور کہنے لگے کہ ان کے لئے پسند کا لفظ بہت معمولی ہے میں نے اس پائے کی فلمی شاعری پہلے نہیں دیکھی اور آپ نے تو سچوئیشن کے مطابق ایسے لکھا ہے جیسے آپ پہلے بھی یہ کام کرتے رہے ہوں۔

بہر حال حمیرا چنا کی آواز میں جس گانے سے فلم کا افتتاح ہوا اس کی استھائی یوں تھی :

کچھ پتہ ہے میں نے کیا رات دیکھا

خوشیوں کا ست رنگ خواب دیکھا

پورے جوبن پہ بہتا ہوا

پیار کا چڑھتا چناب دیکھا

اس فلم کے ہیرو جاوید شیخ اور موسیقار امجد بوبی تھے اور اس طرح ان دونوں سے بھی دوستی کا آغاز ہوگیا۔ افسوس میری رخسانہ نور اور امجد بوبی کے ساتھ دوستی کی جو مثلث قائم ہوئی تھی وہ امجد بوبی کی ایک جان لیوا بیماری میں مبتلا ہوکر دنیا سے جلد رخصت ہونے کے باعث ٹوٹ گئی۔ میں نے اپنے دکھ کے اظہار کے لئے روزنامہ ’’پاکستان‘‘ کے لئے ایک پورے صفحے کا رنگین فیچر لکھا۔ سید نور نے ابھی صائمہ سے شادی نہیں کی تھی لیکن تعلقات کی افواہیں چل رہی ہوتی تھیں۔ مجھے اپنی منہ بولی بہن رخسانہ نور کے لئے ظاہر ہے ہمدردی بہت تھی لیکن ہم نے اس موضوع پر حجاب کے سبب کبھی براہ راست بات نہیں کی۔ رخسانہ مجھے کچھ نہیں بتاتی تھی لیکن امجد بوبی کے سامنے اپنا دکھ بیان کرتی تھی۔ پھر امجد بوبی مجھے تفصیل بتاتے۔ گزشتہ سال کے اواخر میں رخسانہ امریکہ میں بیاہی اپنی بڑی بیٹی عینی کے پاس لاس اینجلس میں آئی اس کا ہمارے پاس واشنگٹن ایریا میں آنے کا بھی پروگرام تھا لیکن وہ بیماری کے باعث ہسپتال داخل ہوئیں اور اس کے سبب وہیں سے واپس پاکستان چلی گئیں۔اتنا عرصہ جھجکتے رہنے کے بعد اب پاکستان سے لمبی لمبی کالیں کر کے وہ سب باتیں مجھے بتاتی رہتی ہے جو اس سے پہلے اس نے کبھی نہیں بتائیں۔ امجد بوبی کی خواہش یا یوں سمجھ لیں پرزور اصرار پر میں مختلف سچوئیشن کے اعتبار سے کچھ استھائیاں اور کچھ مکمل گانے لکھتا رہتا تھا۔ یہ سارا ریکارڈ میرے علاوہ بوبی کے پاس بھی تھا۔ سید نور دراصل مجھے گھر کی مرغی سمجھتا تھا۔ بوبی صاحب کی نوٹ بک پر میری کچھ استھائیوں پر دستخط کرکے انہیں تاکید کرتا انہیں میرے لئے محفوظ رکھنا یہ گیت کہیں اور نہیں جانے چاہیں۔ میں نے ہرچیز امجدبوبی پر چھوڑ رکھی تھی۔ پھر ایک سید نور کی پسند کردہ استھائی امجد بوبی نے جاوید شیخ کو طرز بناکر سنائی جس کا سید نور کو اس وقت پتہ چلا جب وہ گیت وارث بیگ اور شازیہ منظور کی آوازوں میں الگ الگ ریکارڈ ہوگیا۔ بقول خود جاوید شیخ کے ان کی فلم ’’چیف صاحب‘‘ کی کامیابی میں اس گیت کا بہت ہاتھ ہے جس کے بول تھے:

میں نے تجھے کھویا تو ایسا لگا

جیسے میرے پاس ہو کچھ نہ بچا

اس سے پہلے کہ میرے اس بیان کی دوسری اور آخری قسط میں جگہ باقی نہ رہے میں جلدی سے حبیب مرحوم سے تعلق کی بات مکمل کردوں جن کا آغاز میں ذکر ہوا تھا اور جن کے سبب اتنا طویل ’’اظہاریہ‘‘ تحریر ہوا۔ دراصل ڈائریکٹر ثقلین رضوی میرے پاس امریکن سنٹر میں آئے تھے اور انہوں نے منشیات کے موضوع پر اپنی نئی فلم میں مدد کی خواہش ظاہر کی تھی۔ اس پراجیکٹ کے فلم ساز حبیب تھے جو اگلی دفعہ ان کے ہمراہ ایسے آئے کہ ایک مستقل تعلق بن گیا۔ ہمارے ویک اینڈ پر لانگ ڈرائیو پر خاص طورپر رائے ونڈ کے علاقے میں جانے کا جو شغل تھا اس کا بہانہ پراپرٹی دیکھنا تھا۔ ہم اس میں سنجیدہ نہیں تھے ۔ باہر سارا دن آوارہ گردی کرتے، اوٹ پٹانگ کھاتے اور رات کو گھر واپس آجاتے ۔ حبیب صاحب بھی بہت نفیس آدمی تھے ان کے ساتھ بھی بہت اچھا وقت گزرا ۔

مزید :

کالم -