تحفظ حقوق نسواں بِل کی اسلامی حیثیت

تحفظ حقوق نسواں بِل کی اسلامی حیثیت
تحفظ حقوق نسواں بِل کی اسلامی حیثیت

  

پنجاب اسمبلی نے جب سے تحفظ حقوق نسواں بل منظور کیا اور گورنر پنجاب کے دستخطوں کے ساتھ اسے قانونی شکل دے دی گئی ہے اس وقت سے ملک میں تحفظ کا سلسلہ وسیع ہوگیا ہے ، اس بل کی منظوری پرجمعیۃ علماء اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن نے اسے غیر اسلامی قرار دے کر اپنا ’’حقوق مرداں‘‘ بل پیش کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ان کی پیروی میں اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے اپنے بیان میں کہا کہ بل کی کاپی انگریزی زبان میں ہونے کی وجہ سے اگرچہ میں نے مکمل مطالعہ نہیں کیا مگر یہ بل سراسر غیراسلامی ہے اور پاکستان مسلم لیگ نون کی حکومت جب بھی برسراقتدار آتی ہے اسلام کے خلاف قوانین بنائے جاتے ہیں، غیر جمہوری حکومتوں نے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عمل کیا تاہم مسلم لیگ نون نے ہمیشہ خلاف اسلام قوانین کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن جو ملک میں اسلام کا نام لیتی ہے اسے اپنے طرز عمل پر سوچنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کے ارکان کے خلاف آئین کے آرٹیکل6کے تحت غداری کا مقدمہ دائر کیا جاسکتا ہے ۔(روزنامہ اسلام 4مارچ 2016ء)

مولانا فضل الرحمن کی طرف سے پنجاب اسمبلی کے اراکین کو تحفظ حقوق نسواں بل منظور کرنے پر انہیں ’’زن مرید‘‘ کے خطاب سے نوازا گیا ہے اور 27 مارچ تک حکومت کو بل واپس لینے کا الٹی میٹم دیا ہے جس کی بابت جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ لاہور میں مختلف مذہبی جماعتوں کے مشترکہ اجلاس میں مشترکہ اعلان بھی جاری کیا گیا ہے ، آیندہ لائحۂ عمل 27 مارچ کے بعد واضح کیا جائے گا، جہاں تک تحفظ حقوق نسواں بل کی بابت اظہار خیال کا تعلق ہے مولانا فضل الرحمن اور اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئر مین مولانا محمد خاں شیرانی نے جلد بازی اور جذباتی مظاہرہ کرکے معاملہ اُلجھا دیا ہے، اسکی بابت شروع میں ہی تمام مذہبی جماعتوں کے نمایندہ اجلاس میں ’’حقوق نسواں بل ‘‘ کی ایک ایک دفعہ اور شق پر بحث کرکے اس کی غیر اسلامی دفعات کی بابت رائے عامہ کو مطلع کرنا اور اس کی ہمدردیاں حاصل کرنی چاہیے تھیں مگر ان جلدباز مذہبی رہنماؤں نے نماز ادا کرنے کے بعد وضو کرلینے کی مثال صادق کردی ہے، نیز مولانا محمد خاں شیرانی نے اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین کے منصب جلیلہ کا بھی خیال نہیں رکھا اور جس مسلم لیگ نون نے انہیں اس عہدے پر فائز کیا ہے اسے بھی نظر انداز کرکے ایک جذباتی سیاست دان کا رول ادا کیا ہے جو حد درجہ افسوسناک ہے ۔

اگر مولانا محمد خاں شیرانی صدقِ دل سے ’’مسلم لیگ ن ‘‘ کو جب بھی سراقتدار آنے پر اسلام کے لئے مشکلات پیدا کرنے والی اور ہمیشہ مخالف اسلام قوانین بنانے والی جماعت سمجھتے ہیں تو اس کے عطاکردہ منصب پر کیوں متمکن ہیں؟ اور ان کی جماعت جمعیۃ علماء اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن سے لے کر مولانا عبدالغفور حیدری اور حاجی اکرم درانی تک کیوں وزیر اور مسلم لیگی حکمرانوں کے حلیف اور حاشیہ بردار بنے ہوئے ہیں، وہ حکومتی عہدے چھوڑ کر کیوں رائے عامہ کو اپنے حق میں استعمال کرکے اسلامی نظام کے نفاذ کی جدوجہد نہیں کرتے؟

جہاں تک ان مذہبی رہنماؤں کے اس اعتراض کا تعلق ہے کہ یہ اسلامی آئین کے خلاف ہے تو پاکستان میں ایک مدّت سے رائج نکاح رجسٹریشن فارم کے دفعہ نمبر 18 سے 22 تک کیا اسلام کے مطابق ہیں ؟جس میں نکاح فارم پُر کرتے وقت یہ دریافت کیا جاتا ہے کیا شوہرنے بیوی کو طلاق کا اختیار دے دیا ہے ؟اگر دے دیا ہے تو اس کی شرائط کیا ہیں؟نیز اسلامی تعلیم کے مطابق تو نکاح کے وقت دو شرعی گواہ ضروری ہیں؛ لیکن فارم میں آٹھ افراد کے نام بطور گواہ درج ہیں ان غیر اسلامی شقوں کے خلاف مذہبی رہنما کیوں احتجاج نہیں کرتے؟

کیا اسلامی تعلیمات میں طلاق کا حق مرد کے پاس ہے یا عورت کے پاس؟ مغربی اقوام میں عورتوں کو طلاق کا اختیار دیا گیا ہے؛ نیز مولانا فضل الرحمن نے اپنے بیان میں اعتراف کیا ہے کہ لوگ ہمیں ووٹ تو نہیں دیتے لیکن ہم حکومتیں الٹانے کا خوب تجربہ رکھتے ہیں۔اس بیان کے بعد بھی مولانا فضل الرحمن کی جماعت انتخابات میں حصہ لے کر اسمبلیوں کے رکن منتخب ہوجانے اور نئے حکمرانوں کے ساتھ شریک اقتدار ہونے کی اہلیت رکھ سکے گی؟ جبکہ مذہبی جماعتیں عورتوں کے ووٹ سے محروم ہوگئی ہیں۔ پہلی مرتبہ جنرل محمد ایوب خان کو ووٹ دے کر اس کا اقتدار بچانے کی صورت میں اسمبلی میں قدم رکھنے کا اعزاز حاصل کیا تھا، بعد ازاں مولانا فضل الرحمن نے مختلف حکومتوں سے اقتدار کی خاطر ڈیل کی تھی اور چند وزارتوں اور چیئرمینی کے عہدوں پر فائز ہونے کی خاطر مسلم لیگ ن کے ساتھ حلیف بننے کا معاہدہ کیا تھا اور ممکن ہے چند روز کے بعد میاں نواز شریف صاحب کے ساتھ مولانا فضل الرحمن کی پھر ایسی ملاقات ہوجائے جو قوم کو یہ خوشخبری سنانے کا موجب ہو کہ میاں صاحب نے یقین دلادیا ہے کہ ان کی حکومت اسلام اور کتاب وسنت کے خلاف کوئی قانون وضع نہیں کرے گی لہذا حکومت کا تختہ اُلٹنے والا احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے اور ملک میں یہ نعرے گونجنے لگے:

تازہ خبرآئی اے نواز شریف بھائی اے

بھارتی ترانانہ گانے پر زبان کاٹنے کی دھمکی

بھارت کی انتہا پسند اور دہشت گرد حکمراں جماعت بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما شیام پرکاش دیودی نے کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی کے بھارت ماتا کی جے کا نعرہ نہ لگانے پر ان کی زبان کاٹنے والے کے لئے ایک کروڑ روپے کا انعام دینے کا اعلان کیا ہے نیز اس نے کہا ہے کہ اسد الدین کو بھارت میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

دوسری جانب بھارت پاکستان کرکٹ میچ کے آغاز میں ہندوفلمی اداکار امیتابھ بچن نے بھارتی ترانہ ’’جے جے ہند‘‘ غلط پڑھنے پر وہاں کے ایک شخص نے اس کے خلاف کورٹ میں مقدمہ دائر کردیا ہے۔ جہاں تک حیدر آباد دکن کی اتحاد المسلمین پارٹی کے رہنما اسد الدین کا تعلق ہے اس نے کہا ہے کہ بھارتی ترانا ملکی عوام کے جذبات واحساسات ملحوظ رکھ کر مرتب نہیں کیا گیا؛ جبکہ بھارت میں سب سے بڑ ی اقلیت مسلما ن ہیں۔ علاوہ ازیں عیسائی، سکھ، پارسی، کمیونسٹ، بدھ مت اور آزاد خیال باشندے موجود ہیں، قومی ترانہ صرف ہندودھرم کے پیش نظر مرتب کیا گیا ہے اسے پڑھنے پر کسی کو مجبور کرنا اور انکار کرنے والے کی زبان کاٹنے پر انعام مقرر کرنا بھارتی سیکولرازم کے سراسر خلاف ہے۔ دور حاضر میں جمہوریت اور سیکولرازم کی سب سے بڑی بھارتی مملکت کی دعوے دار بی جے پی حکومت کو انسانی حقوق اور مذہبی اقلیتوں کے جذبا ت کا احساس کرکے ترانہ زیرِ بحث نہ لانے چاہئیں۔ علاوہ ازیں بھارتی حکمرانوں کو سوچنا چاہیئے کہ پاک بھارت کرکٹ میچ میں جس ملک کے نمایندہ اداکار امیتابھ بچن نے دنیا کی مسلمہ کرکٹ ٹیم کے ساتھ مقابلے کے شروع میں اپنے ملک کا ترانہ ہی غلط پڑھا ہو بھارتی دہشت گردوں کو اس کی زبان کاٹنے کا اقدام کرنا چاہیے نہ کہ مسلمانوں کے مذہبی جذبا ت کو ٹھیس پہنچا کر ہندو مسلم فسادات کی چتا جلانے کی راہ ہموار کی جائے ، بھارتی انتہاء پسند وں اور دہشت گردوں کو اپنے جذبات قابو میں رکھنے چاہیں ور اشتعال انگیز طرزِ عمل سے دامن کش رہنا چاہیئے، اسی میں پاک بھارت تعلقات صحیح طور پر استوار ہوسکتے ہیں اور اس خطے میں امن قائم رہ سکتا ہے جبکہ آج دنیا تیسری عالمگیر جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے ایک شُعلہ بھی پوری دنیا کی آبادی بھسم کرسکتا ہے۔

مزید : کالم