پیر سید طالب حسین گردیزی ؒ کے 8 ویں عرس کی تقریبات اختتام پذیر

پیر سید طالب حسین گردیزی ؒ کے 8 ویں عرس کی تقریبات اختتام پذیر

لاہور ( پ ر) جمعیت علمائے پاکستان ضلع لاہور کے سابق صدر پیر سید طالب حسین گردیزی ؒ کا 8 واں سالانہ عرس مقدس جامعہ فاطمیہ تعلیم القرآن مغلپورہ لاہور میں ہوا۔ جس میں علامہ حافظ خان محمد قادری، مفتی محمد اقبال چشتی، پیر سید شاہد حسین گردیزی، علامہ غلام محمد سیالوی، میاں محمد حنفی سیفی، علامہ پیر عابد حسین رضوی، پیر سید معصوم شاہ مجددی، پیر سید افضال حسین زنجانی، پیر مسعود احمد صدیقی، صاحبزادہ غلام نصیر الدین فریدی، صاحبزادہ سید مختار رضوی، صاحبزادہ سید محمد قاسم گردیزی اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی، فرقہ واریت، انتہاء پسندی کے خاتمے کیلئے علامہ گردیزی ؒ نے بے مثال کردار ادا کیا۔ آج بھی امت مسلمہ کی بقاء اور خدا کی زمین پر امن آتشیں کے قیام کیلئے علامہ گردیزی ؒ کی فکر کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنا ہوگا۔ پاکستان جب تک نظام مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گہوارہ نہیں بنتا مسائلستان بنا رہے گا۔ قیام پاکستان سے لے کر آج تک جتنے بھی حکمران برسر اقتدار آئے انہوں نے نظریہ پاکستان پر عمل نہیں کیا۔ آج کا پاکستان دہشت وحشت ، فاقوں اور ناکوں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ مقررین نے کہا کہ غربت نہ انصافی، بدعنوانی نے پاکستانیوں کی زندگیاں اجیرن بنادیں ہیں۔ عوام مر رہے ہیں حکمران تجوریاں بھر رہے ہیں۔ بار بار اقتدار کے مزے لوٹنے والے ہی ملک کی تباہی کے ذمہ دار ہیں۔ اگر حکمران فرقہ وارانہ اور دہشت گرد جماعتوں کے سرپرست نہ ہوتے لوگوں کو مسجد جیسی مقدس عبادت گاہوں میں تلاشی دے کر نہ جانا پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مقام مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تحفظ کے لئے جان قربان کرنے والے مسلمانوں کے حکمران غیر ملکی آقاؤں کی خوشنودی کی خاطر اس اہم ایمانی مسئلے پر غفلت کا شکار ہیں۔ ناموس مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تحفظ دنیا بھر کے مسلمانوں کی متفقہ جدوجہد ہے۔ پاکستانی حکمران اور سیاست دان نادان نہ بنیں اور ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف حرزرہ سرائی سے باز رہیں ورنہ ہر سطح پر ایسے گستاخوں کا محاسبہ کریں گے۔ علماء نے کہا کہ اگر دہشت گردوں کے سرپرستوں کو قانو ن میں کھڑا کرکے سزا دی جاتی تو ضرب عضب کے بعد آپریشن ردالفساد کی ضرورت پیش نہ آتی۔ علماء ومشائخ ضرب عضب کے بعد ردالفساد کی مکمل تائید وحمایت کرتے ہیں اور فوج کو ایسے ٹھوس اقدامات اٹھانے پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ اگر برسر اقتدار مفاداتی ٹولہ ملک وقوم سے مخلص ہوتا تو فوج کو گلی کوچوں میں ردالفساد کے لئے نہ آنا پڑتا۔ نیشنل ایکشن پلان پر مذہبی جماعتوں کے تحفظات کو دور کیا جائے۔ پر امن محب وطن علماء کی گرفتاریاں آپریشن ردالفساد کو ناکام بنانے کی سازش ہے۔ ایسے سازشی عناصر پر چیف آف آرمی سٹاف کو گہری نظر رکھنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپنے سیاسی مخالف کو بھی دہشت گرد بناکر ردالفساد کے آپریشن کا حصہ بنادیا ہے۔ جس سے حکمرانوں کی بدنیتی ظاہر ہوتی ہے۔ا سلام پسند محب وطن پر امن علماء پر فور شیڈول کا اعلان کرکے آپریشن ردالفساد کو ناکام بنانے کی بھونڈی کوشش کی جارہی ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4


loading...