پنجاب پولیس نئی وردی میں!

پنجاب پولیس نئی وردی میں!

پرسوں(سوموار) سے پنجاب پولیس کی موجودہ وردی تبدیل ہو جائے گی اور ’’اولیو گرین‘‘ رنگ کی یونی فارم رائج ہوگی، یہ طے کیا گیا ہے کہ کانسٹیبل سے انسپکٹر جنرل پولیس تک سب اسی رنگ کی وردی زیب تن کریں گے اور کپڑے کی قسم بھی وہی ہوگی دوسرے معنوں میں پولیس میں اس حد تک تو مساوات کا عمل شروع ہو جائے گا۔معاصر کی خبر کے مطابق اس بار جو قواعدوضوابط مرتب کئے گئے ان کے مطابق اب یہ وردی نجی شعبہ تیار نہیں کر سکے گا اور اس کے لئے مکمل ممانعت ہوگی۔ اگر کسی بھی دوکان دار نے ایسا کیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، طے یہ کیا گیا ہے کہ اب کپڑا بھی سرکاری سطح پر خریداجائے گا تاکہ ایک ہی معیار کا مل سکے اور وردی ہر ضلع کی پولیس لائنز میں تیار کی جائے گی۔ جہاں باقاعدہ دوکانیں کھول کر درزی بٹھائے جائیں گے جوناپ کے مطابق وردی سیئیں گے، اب تک وردیاں تیار کرکے تقسیم بھی کی جاچکی ہیں اور سوموار سے یہی وردیاں نظر آئیں گی، اگرچہ پورے عملے میں تقسیم کے لئے مزید وقت درکار ہوگا، بہر حال اب یہ سلسلہ مکمل ہو ہی جائے گا۔

جہاں تک وردیوں کی نجی شعبہ میں فروخت اور تیاری پر پابندی کا تعلق ہے تو یہ اس خیال سے عائد کی گئی کہ وردی کا دہشت گردی کے لئے غلط استعمال ممکن نہ ہویہ بہتر فیصلہ ہے یوں بھی پہلے اصول اور قانون کے مطابق سرکاری ملازمین کے لئے وردی اور بیج وغیرہ تقسیم کرنے کے لئے دوکان داروں کو باقاعدہ اجازت نامے کی ضرورت ہوتی تھی جس کے تحت ان کے لئے ایسا رجسٹرمرتب کرنا ضروری تھا جس میں خریدار کا مکمل اندراج ہو اور غیر متعلقہ شخص کو فروخت نہیں کئے جاسکتے تھے لیکن اس پر عمل نہیں ہوتا تھا اور دوکان دار عام آدمی کو کسی پڑتال کے بغیر فروخت کردیتے تھے اب یہ فیصلہ درست یوں ہے کہ کم از کم سرکاری سطح پر تو وردی کسی غیر ملازم کو نہیں بیچی جائے گی۔وردی کی تبدیلی (رنگ اور کپڑا) سے یہ بحث بھی شروع ہے کہ کیا وردی کی تبدیلی سے کچھ ’’پولیس کلچر‘‘ پر اثر پڑے گا۔ حق اور مخالفت میں دلائل جاری ہیں، ہمارا خیال ہے کہ کلیتاً نہیں، کچھ اثر تو ضرور ہوگا اور ہونا بھی چاہئے کہ رنگوں کے اپنے اثرات شخصیت پر مرتب ہوتے ہیں۔

مزید : اداریہ


loading...