نقل کی روک تھام ،وزیر اعلیٰ سندھ کا والدین کو خط لکھنے کا فیصلہ

نقل کی روک تھام ،وزیر اعلیٰ سندھ کا والدین کو خط لکھنے کا فیصلہ

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ سیدمرا د اعلی شاہ نے ان والدین کے نام جن کے بچے آئندہ ہونے والے میٹرک اور انٹر میڈیٹ کے امتحانات میں شریک ہونے والے ہیں خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وہ اپنے بچوں کو امتحانات میں نقل اور اس طرح کے دیگر ذرائع کے استعمال کی روک تھام کے سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ انہوں نے کہاکہ یہ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے آئندہ کی نسل کو وقتی طور پر فائدہ لینے کے بجائے مستقبل میں ہونے والے سے بڑے نقصان سے بچایا جا سکے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں SSC اورHSC کے امتحانات کے حوالے سے جامع حکمت عملی وضع کرنے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ۔ اجلاس میں صوبائی وزیر تعلیم جام مہتاب ڈہر ، چیف سیکریٹری سندھ رضوان میمن ،وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری نوید کامران بلوچ، سیکریٹری تعلیم عبدالعزیز عقیلی، تما م ایجوکیشنل بورڈز کے چیئرمین اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی ۔وزیراعلیٰ سندھ سید مرا د علی شاہ نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کے انٹر میڈیٹ اور میٹرک کے امتحانات ایک اچھے ماحول میں ہوں اور چیٹنگ کو روکنے کے لئے جامع اقدامات کئے جائیں ۔سیکریٹری یونیورسٹی اینڈ بورڈ نوید شیخ نے وزیر اعلیٰ سندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سندھ میں سات بورڈز ہیں جس میں بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (بی آئی ایس ای ) لاڑکانہ ، بی آئی ایس ای سکھر ، بی آئی ایس ای شہید بینظیر آباد ،بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (بی ایس ای )کراچی ، بورڈ آف انٹر میڈیٹ ایجوکیشن (بی آ ئی ای ) کراچی ، بی آئی ایس ای حیدرآباد اور بی آئی ایس ای میرپورخاص شامل ہیں ۔انہوں نے کہا کہ صوبہ بھر میں 28مارچ 2017 سے ایس ایس سی کے امتحانات شروع ہو رہے ہیں جوکہ 8اپریل 2017 کو ختم ہوں گے جبکہ ایچ ایس ای کے امتحانات 28اپریل سے شروع ہوں گے اور 15 مئی کو ختم ہوں گے ۔انہوں نے کہاکہ نویں اور دسویں جماعت کے امتحانات میں685672 امیدوار شریک ہوں گے جبکہ گیارہویں اور بارہویں کے امتحانات میں 504907 شریک ہوں گے ۔ نوید شیخ نے کہاکہ نویں اور دسویں جماعت کے امتحانات کے لئے کراچی میں 330 مراکز قائم کئے گئے ہیں ، حیدر آباد میں 227 ، سکھر میں 211 ، لاڑکانہ میں 135 اور میرپورخاص میں 128 مراکز قائم کئے گئے ہیں اسی طرح XI اورXII کی جماعت کے لئے کراچی میں 112 مراکز ،حیدر آباد میں120 ، سکھر میں 110 ، لاڑکانہ میں 91 اور میرپورخاص میں 6 مراکز قائم کئے گئے ہیں ۔وزیر اعلیٰ سندھ کو مزید بتایا گیا کہ بورڈ آف انٹر میڈیٹ کراچی میں212427 طلباء جن میں99660 بوائز اور 112767لڑکیاں 28مارچ سے شروع ہونے والے امتحانات میں شریک ہوں گے ۔ ان 212427 طلباء میں 15875 پرائیویٹ اور 87480سرکاری طلباء XI جماعت کے لئے جبکہ کلاس XII کے لئے 17204 طلباء پرائیویٹ اور 91868 سرکاری اسکولوں سے ہوں گے ۔ بورڈ نے صبح کی شفٹ میں 112 مراکز قائم کئے ہیں اور شام میں 100 مراکز قائم کئے ہیں ۔ ان میں سے صبح کی شفٹ میں 29 مراکز کو اور شام کی شفٹ میں26 مراکز کو حساس قرار دیا گیا ہے ۔وزیراعلیٰ سندھ نے چیف سیکریٹری سندھ کو ہدایت کی کہ وہ امتحانی مراکز میں تمام تر ضروری اقدامات کو یقینی بنائیں ۔ موبائیل فونز پر پابندی لگائیں اور موبائیل فونز کے سگنلز کو جام کرنے کے لئے جیمرز لگائے جائیں ۔انہوں نے کہاکہ امتحانات کے دوران امیدواروں کے سہولت کاروں اور فوٹو کاپی مشینوں پر بھی پابندی عائد کی جائے ۔ انہوںے کہاکہ امتحانی پرچہ آؤٹ ہونے کی صورت میں متعلقہ بورڈ اس کا ذمہ دار ہو گا اور اس کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ میں یہ مشورہ دوں گا کہ آپ اپنے نظام کو فول پروف بنائیں تاکہ امتحانی پرچوں کی بروقت اور مناسب طریقے سے تقسیم کو بھی یقینی بنایا جا سکے ۔ سید مراد علی شاہ نے کہاکہ کسی بھی انٹر نل یا ایکسٹرنل یا انویجیلیٹر امتحانات میں چیٹنگ یا دیگر ذرائع میں ملوث پایا گیا تو وہ اسے ٹرمینیٹ کر دیں گے ۔انہوں نے کہاکہ اس کے ٹرمینیشن لیٹر پر میں خود دستخط کروں گا ۔ انہوں نے تمام بورڈ ز کے چیئرمینوں کو ہدایت کی کہ وہ انٹرنل اور ایکسٹرنل اور سپر وائیزز کی فہرست بمعہ ان کے رابطے کے نمبرز کے ساتھ انہیں بھیجیں تاکہ وہ یا ان کا سیکریٹریٹ ان کے ساتھ رابطہ کر سکے ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے چیف سیکریٹری سندھ کو ہدایت کی کہ وہ کے-الیکٹرک ، حیسکو اور سیسکو سے رابطہ کریں کہ وہ امتحانات کے دوران لوڈ شیڈنگ نہ کریں ۔انہوں نے کہاکہ میں یہ تجویز دوں گا کہ رات کے اوقات میں لوڈ شیڈنگ کے دورانیہ کو بھی کم کیا جائے تاکہ طلباء اپنے امتحانات کی اچھے طریقے سے تیاری کر سکیں ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ایک مثالی قدم اٹھاتے ہوئے فیصلہ ہے کہ والدین کو انگریزی ، اردو اور سندھی میں ایک کھلا خط لکھا جائے اور اسے بڑے اخبارات میں شائع کیا جائے اور اسے سو شل میڈیا پر بھی اپ لوڈ کیا جائے جس میں والدین پر زور دیا جائے کہ وہ اپنے بچوں کو اس بات کی تربیت دیں کہ وہ امتحانات میں نقل اور دیگر ذرائع کے استعمال سے گریز کریں ۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے بورڈ ز کے تمام چیئرمینوں کو ہدایت کی کہ وہ امتحانات سے بے ضابطگیوں اور مسائل کے خاتمے کے لئے اسٹڈی کریں اور انہیں مزید سہل ، شفاف اور فل پروف بنائیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں اساتذہ کے استعداد کار اور ان کی تدریس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے بھی کام کر رہا ہوں تاکہ اساتذہ اسکو لوں اور امتحانات میں نئے طو ر طریقے اپنائیں ۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...