پندرہویں قسط،بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی شجاع قوم پٹھان کی چونکا دینے والی تاریخ

پندرہویں قسط،بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی شجاع قوم پٹھان کی چونکا دینے ...
پندرہویں قسط،بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی شجاع قوم پٹھان کی چونکا دینے والی تاریخ

  


جن علاقوں پر وہ قابض ہوئے گرفت مضبوط رکھی۔ افغانوں کو قندھار کے علاقہ میں بسایا اور ان کی تنظیم کی شیخ حمید کے بعد اس کے لڑکے نصیر کے وقت میں کوئی نئی فتوحات تو نہ ہو سکیں۔ البتہ اس نے اپنے باپ کے مقبوضات کو قائم رکھا۔ اس کے بعد نصیر کا لڑکا ابو الفتح داؤد ملتان میں حکمران رہا۔ اور قندھار، غور وغیرہ پر امیر محمد سوری افغان حکمران تھا۔ اس کے دور حکومت میں سلطان محمود غزنوی نے سر اٹھایا اور ہندوستان پر حملہ آور ہونے سے پہلے افغانوں سے چھیڑ چھاڑ شروع ہوئی۔ جس کے نتیجے میں افغانوں کو ہندوؤں کے انخلا میں رکاوٹ پڑی اور اس میں کافی عرصہ گزرا۔

چودہویں قسط پڑحنے کیلئے یہاں کلک کریں

سلطان محمود نے خراسان کا تمام علاقہ فتح کیا۔ درایئے سندھ سے باجوڑ تک سب علاقہ اس کے قبضے میں تھا۔ مگر ہندو اپنی جگہ پر بطور اس کی رعایا کے مسلط رہے۔ اس وقت افغانوں کے مساکن کے بارے میں کتاب الہند البیرونی (جلد اول ترجمہ سید اسغر علی انجمن ترقی اردو ہند دہلی ۱۹۴۱ء ص ۲۷۷ میں درج ہے

’’ہندوستان کے پچھم (مغرب) کے پہاڑوں میں مختلف افغانی قبیلے رہتے ہیں۔ جن کا سلسلہ ملک سندھ کے قریب ختم ہوتا ہے۔‘‘

محمد غوری کے دور حکومت میں افغانوں کا یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچا۔ انہوں نے باہم مشورہ کیا۔ کہ ہندو جو اس وقت غور سے جانب مشرق ڈیرہ اسماعیل خان تک اور جانب شمال کل علاقہ خراسان، باجوڑ، دیر، سوات ، وادی درایئے سند، گندھارا یعنی علاقہ پشاور، کوہاٹ، بنوں میں مسلط ہیں ان کو نکال کر ان کی جگہ افغانوں کو بسایا جائے۔ تاکہ پنجاب و ہندوستان می پیش قدمی کرنے میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ہو اور کمک بآسانی پہنچ سکے۔ کیونکہ پہلے ہندوؤں نے بہرام غزنوی کی حمایت میں غوریوں سے بمقام غور و غزنی سخت مقابلہ کیا تھا اگرچہ سخت شکست کھائی تھی۔ ہندو یہ نہیں چاہتے تھے کہ غزنویوں کے بدلے افغانوں کی سیاسی حکومت قائم ہو جائے کیونکہ اس میں ان کو نقصان تھا۔

چنانچہ اس ارادے کی تکمیل کے پیش نظر غوریوں نے ۵۷۶ھ میں پشاور کے علاقہ پر مکمل طور پر مع لاہور شہر کے قبضہ کیا۔ جس کا ذکر آگے آئے گا۔ غوری نے کئی اجتھے اشغر کے مقام پر جہاں ہندوؤں کا ایک پرانا قلعہ تھا، لیجا کر بسائے اور نو آبادیات قائم کرنے کا آغاز کیا۔ اس افتتاح پر کافی خوشیاں منائی گئیں۔ چراغاں کیا گیا۔ اور اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں مانگی گئیں کہ رب الکریم نے انہیں اپنا ملک واپس دیا۔ اس بارے میں تاریخ شروانی نامہ کے مصنف عباس خان شیروانی لکھتے ہیں کہ

’’بارہویں صدی کے آخر میں غزنیوں کے جانشین سلطان شہاب الدین محمد غوری نے سیاسی وجوہ اور ملک کے مفاد کی بنا پر قندھار سے لے کر ملتان تک پٹھانوں کو بسایا۔‘‘

یہاں سے محمد غوری نے پنجاب کی طرف پیش قدمی کی۔ اس پیش قدمی اور پشاور کے علاقہ پر قبضہ کے دوران ہندو اپنے اپنے مسکنوں سے نکل کر دریائے سندھ عبور کرتے گئے اور اپنے مسکن اور بت وغیرہ جن کو وہ پوجتے تھے بطور یادگار وہیں چھوڑ گئے جو اب تک آثار قدیمہ کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ ان آرین قبائل میں ۴۵ قبیلے وہ تھے جو اپنے آپ کو راجپوت کہتے تھے۔ اور ۸۵ قبیلے اور تھے جو مختلف ناموں سے یاد کئے جاتے تھے۔ ان کے کئی گاؤں اب بھی انہی ناموں سے موسوم ہیں مثلاً بھٹی کوٹ، سن بھٹی، متھرا، بلوگرام، نوگرام، ڈنڈی کوٹ، گوہاٹی، سنتا پور، است گرام، سونی گرا، کالنجر، اجمیر، اور ڈیلی وغیرہ۔

جاری ہے، اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پٹھانوں کی تاریخ پر لکھی گئی کتب میں سے ’’تذکرہ‘‘ ایک منفرد اور جامع مگر سادہ زبان میں مکمل تحقیق کا درجہ رکھتی ہے۔خان روشن خان نے اسکا پہلا ایڈیشن 1980 میں شائع کیا تھا۔یہ کتاب بعد ازاں پٹھانوں میں بے حد مقبول ہوئی جس سے معلوم ہوا کہ پٹھان بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے آباو اجداد اسلام پسند تھے ۔ان کی تحقیق کے مطابق امہات المومنین میں سے حضرت صفیہؓ بھی پٹھان قوم سے تعلق رکھتی تھیں۔ یہودیت سے عیسایت اور پھر دین محمدیﷺ تک ایمان کاسفرکرنے والی اس شجاع ،حریت پسند اور حق گو قوم نے صدیوں تک اپنی شناخت پر آنچ نہیں آنے دی ۔ پٹھانوں کی تاریخ و تمدن پر خان روشن خان کی تحقیقی کتاب تذکرہ کے چیدہ چیدہ ابواب ڈیلی پاکستان آن لائن میں شائع کئے جارہے ہیں تاکہ نئی نسل اور اہل علم کو پٹھانوں کی اصلیت اور انکے مزاج کا ادراک ہوسکے۔

مزید : شجاع قوم پٹھان


loading...