’’الحمرا میں میلوں کے حساب سے خطاطی‘‘

’’الحمرا میں میلوں کے حساب سے خطاطی‘‘
’’الحمرا میں میلوں کے حساب سے خطاطی‘‘

  


الحمرا آرٹ گیلری کے ہال کی دیواروں پر سجے فن پارے دیکھ کر بے اختیار صادقین یاد آئے،تخلیق کے اس بہتے آبشار نے کہا تھا

ایک بار میں ساحری بھی کرکے دیکھوں

کیا فرق ہے شاعری بھی کرکے دیکھوں

تصویروں میں اشعارکہے ہیں میں، نے

شعروں میں مصوری بھی کرکے دیکھوں

خطاطی اور مصوری کے لیے ساری زندگی وقف کردینے والے صادقین سے جب فن کے بارے میں پوچھا گیا تو جواب آیا’’میلوں کے حساب سے خطاطی اور ایکڑوں کے حساب سے مصوری کی‘‘صرف 40برس کی فنی زندگی میں20ہزار سے زائد فن پارے تخلیق کیے یعنی ایک برس میں 500شاہکار،وہ بھی ایک سے بڑھ کر ایک۔الحمرا کی عمارت تلے دنیا بھرسے خطاطی کے فن پارے جمع کیے گئے ،جی ہاں 300 سے زائد پاکستانی خطاطوں کا آرٹ ورک پیش کیا گیا .حیران کن طور پرحاضری بھرپور تھی حالانکہ یہاں کوئی میلہ ٹھیلہ نہیں تھا۔اسلامی تہذیب کے زوال کی طرف جاتے ہوئے اس فن کی ترقی و ترویج کے لیے یہ ایک توانا کوشش تھی یہ سعادت غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کے ذمہ داران کو نصیب ہوئی۔

گیلری میں آویزاں فن پاروں سے خطاطوں کے فکری جذبات و احساسات ،مشاہدات ،سوچنے کے زاویے ، رب کائنات کے کلام سے محبت ،عشق نبیﷺ کا اظہار نمایاں دکھائی دے رہا تھا ،تقریب کے روح رواں عامر جعفری کے مطابق اس 4 روزہ قومی خطاطی نمائش کے انعقاد کا مقصد اسلامک آرٹ کو چھت فراہم کرنا اور خطاطی کرنے والے نوجوان ٹیلنٹ کو پلیٹ فارم مہیا کرنا تھا ۔ بلاشبہ ایسی کاوشیں عکاشہ مجاہد اور اشرف ہیرا جیسے نوجوانوں کا بھی حوصلہ بڑھاتی ہیں جن میں سے ایک نے خالصتاً 24 قیراط گولڈ کے ساتھ اللہ اور محمدﷺ کا نام لکھ کر اپنی عقیدت اور محبت کا اظہار کیا تو دوسرے کا نام 12 سال کی عمر میں گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج ہوا ۔

اس نمائش میں جہاں پاکستان کے علاوہ سعودیہ ، شارجہ ، بحرین ، ایران ، قطر ، انڈیا ، دبئی اور دیگر ممالک سے بھی پاکستانی خطاطوں نے اپنے فن پارے بھجوائے۔جبکہ نمائش میں موجود ان تخلیق کاروں سے لوگ درخواست کرکے اپنے اور عزیزواقارب کے نام خوشخط لکھواتے تھے،اس ناچیز نے بھی بزرگ آرٹسٹ سعید احمد ناز سے اپنا نام لکھوایا۔ جس خوبصورتی سے انہوں نے میرے دیکھتے ہی دیکھتے رنگ صفحے پر بکھیرے، یہ منظر خوشنماتھا، یقیناً اس کے پیچھے سالوں کی محنت اور ریاضت تھی ۔یہیں پر نوجوان علی حمزہ ،مینال اورسنبل سے ملاقات ہوئی جو اپنے فن کے جوہر دکھاکر شرکاء کی دلچسپی کا باعث بنے ہوئے تھے۔نوجوان لڑکے لڑکیوں کے فن پارے دیکھتے ہوئے دل میں خواہش جاگی کاش ہم دنیا کو یہ دکھا سکیں کہ پاکستانی اظہار کے لیے کونسا راستہ اختیار کر رہے ہیں ۔بلاشبہ اسلام میں دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں بلکہ خطاطی کا یہ فن ہمارے جمالیاتی ذوق اور فن شناسی کا عملی اظہار ہے۔یہ ہے ہمارے معاشرے کی حقیقی تصویر جسے نمایاں کرنے کی ضرورت ہے۔ایران میں یہی فن بہت ترقی پاچکا ہے۔ یہاں خط نستعلیق میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی کرائی جارہی ہے۔ ایران کے علاوہ ترکی، مصر اور پاکستان کے خطاط بھی اس شعبے میں اپنا مقام رکھتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں پاکستان میں اس فن کو گذرتے وقت کے ساتھ ساتھ اتنی پذیرائی نہیں مل رہی جس کا یہ حقدار ہے۔

خطاطی ایک ایسا فن ہے جس میں حروف کو منفرد اور دلکش انداز میں لکھا جاتا ہے۔ مگر خطاطی کے خوبصورت نمونے دیکھنے والوں کو اس بات کا اندازہ شاید ہی ہو کہ اس کے پیچھے محنت اور مسلسل ریاضت کارفرما ہوتی ہے۔

ابجد یعنی حروف تہجی کی ریاضیاتی پیمائش ایک ایسا منفرد فن ہے جس میں مہارت حاصل کرنے والوں نے اپنی عمریں صَرف کی ہیں، جو ایسی لگن مانگتا ہے کہ ’’خون جگر میں انگلیاں ڈبونی پڑتی ہیں‘‘۔دیگر تہذیبوں کے مقابلے میں خطاطی اسلامی تہذیب کا ایک اہم جزو ہے۔ خاص طورپر قرآنی آیات کی خطاطی، مساجد اور دیگر عمارتوں میں اس کے نمونے نظر آتے ہیں۔

مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ حضرت علیؓ نے خط کوفی میں خطاطی کرتے ہوئے قرآن مجید کی کتابت کی۔ بعض ازاں خطاطی کے جدید انداز کو متعارف کروانے کا سہرا عباسی دور حکومت میں ابن مقلہ کے سر جاتا ہے جنہوں نے ’’ثُلث‘‘رسم الخط بھی ایجاد کیا۔

فن خطاطی کے ماہرین کا فن خطاطی کے بارے میں کہنا ہے کہ آگاہی اور حکومتی سرپرستی کا فقدان ہی دراصل لوگوں کی اس شعبے میں عدم دلچسپی کا باعث ہے۔ ٹھیک جس طرح موسیقی میں سُروں کی ریاضت درکار ہوتی ہے ویسے ہی اس میں بھی ایک ایک لفظ کو اس انداز میں لکھنے کے لیے بہت محنت کرنا پڑتی ہے۔

اسلامی تہذیب کے اس معدوم ہوتے فن کوآگے بڑھانے کے لیے اس فن سے جڑے تخلیق کاروں کی شدید حوصلہ افزائی وقت کی ضرورت ہے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ


loading...