’ہم نے 11 لاکھ روپے سے یہ شرمناک کاروبار شروع کیا تھا، آج اس سے ہر سال 6 ارب روپے کماتے ہیں‘ دو نوجوانوں نے ایسی بات کہہ دی کہ جان کر ہی انسان کو شرم آجائے

’ہم نے 11 لاکھ روپے سے یہ شرمناک کاروبار شروع کیا تھا، آج اس سے ہر سال 6 ارب ...
’ہم نے 11 لاکھ روپے سے یہ شرمناک کاروبار شروع کیا تھا، آج اس سے ہر سال 6 ارب روپے کماتے ہیں‘ دو نوجوانوں نے ایسی بات کہہ دی کہ جان کر ہی انسان کو شرم آجائے

  


لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)مغربی معاشروں کی مادرپدر آزادی نے کئی طرح کی خباثتوں کو جنم دیا ہے جن میں ’جنسی کھلونوں کا استعمال‘ بھی شامل ہے۔ اہل مغرب میں ان شرمناک کھلونوں کے استعمال کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایاجا سکتا ہے کہ برطانیہ میں دو دوستوں نے 15سال قبل صرف9ہزار پاﺅنڈ (تقریباً 12لاکھ روپے) سے اس کاروبار کا آغاز کیا تھا اور آج ان کے کاروبار کا سالانہ ٹرن اوور 5کروڑ 80لاکھ پاﺅنڈ (تقریباً 7ارب 58کروڑ روپے) تک جا پہنچا ہے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق برطانوی علاقے بیتھ سے تعلق رکھنے والے کا نیل سلیٹفرڈ اور رچرڈ لانگ ہرسٹ ٹیکنالوجی جرنلسٹ تھے۔ نوکری کے دوران انہیں احساس ہوا کہ برطانیہ میں ایک خاص قسم کے جنسی کھلونوں کی بہت مانگ ہے لیکن یہ ملک میں نہیں پائے جاتے۔ چنانچہ 2002ءمیں انہوں نے معمولی رقم سے Lovehoneyکے نام سے اس کاروبار کی بنیاد رکھ دی۔

’6سال پہلے ہم نے اس کام میں 15لاکھ روپے لگائے تھے اور اب اس سے 3 کروڑ روپے سالانہ کماتے ہیں‘ نوجوان جوڑے نے پیسے کمانے کا ایسا آسان ترین طریقہ بتادیا جو آپ بھی باآسانی آزماسکتے ہیں

رپورٹ کے مطابق آج ان کی فیکٹری میں 130ورکرز کام کر رہے ہیں۔ برطانوی ٹی وی ’چینل فور‘ کی میزبان کیتھرین ریان نے گزشتہ دنوں رچرڈ اور نیل کی فیکٹری کا دورہ کیا اور ان سے گفتگو کی۔ کیتھرین سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ”جب ہم نے کاروبار شروع کیا تو پہلے مہینے میں ہمیں صرف 3آرڈر موصول ہوئے تھے۔ بتدریج ہماری مصنوعات مقبول ہونے لگیں اور آج ہمیں روزانہ اوسطاً 10ہزار سے زائد آرڈر موصول ہوتے ہیں۔ہم اپنے گاہکوں کو ایک سال کی ’منی بیک گارنٹی‘ بھی دیتے ہیں۔ وہ ایک سال کے اندر ہماری مصنوعات واپس کرکے رقم حاصل کر سکتے ہیں خواہ چیز استعمال شدہ ہی کیوں نہ ہو۔ یہ ایسی آفر ہے جو دنیا میں اور کوئی کمپنی اپنے گاہکوں کو نہیں دیتی۔“رپورٹ کے مطابق جنسی کھلونوں کی ایک رینج کی مصنوعات میں معروف ناول ”ففٹی شیڈز آف گرے“ کی مصنفہ ای ایل جیمز بھی ان کی پارٹنر ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...