ملتان میں ایک ایسی بچی کی پیدائش کہ دیکھ کر ڈاکٹروں کو بھی اپنی آنکھوں پر یقین نہ آئے

ملتان میں ایک ایسی بچی کی پیدائش کہ دیکھ کر ڈاکٹروں کو بھی اپنی آنکھوں پر ...
ملتان میں ایک ایسی بچی کی پیدائش کہ دیکھ کر ڈاکٹروں کو بھی اپنی آنکھوں پر یقین نہ آئے

  


ملتان(مانیٹرنگ ڈیسک) بسااوقات ماں کے پیٹ میں موجود بچے کی نشوونما درست نہیں ہو پاتی اور وہ کسی عارضے کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ بچے کے ماں باپ کے لیے بھلے یہ دردناک صورتحال کا باعث ہو لیکن ڈاکٹروں کے لیے ایسے کیسز معمول کی بات ہوتے ہیں، البتہ گزشتہ دنوں ملتان میں ایک ایسی بچی کی پیدائش ہوئی جس کا عارضہ دیکھ کر ڈاکٹروں کے منہ بھی کھلے کے کھلے رہ گئے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق 22سالہ شائستہ زاہد نامی خاتون کے ہاں پیدا ہونے والی اس بچی کا دل اس کے سینے کے باہر لٹک رہا تھا۔

’میری 3 سالہ بیٹی بہت زیادہ خوبصورت تھی اس لئے میں نے اسے۔۔۔‘ باپ نے جج کے سامنے ایسی بات کہہ دی کہ کمرہ عدالت میں موجود ہر شخص کانپ اُٹھا

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ”بچی(جس کا نام لاریب رکھا گیا ہے) کے دل نے ایک انتہائی نایاب مرض کا شکار ہونے کے باعث جسم سے باہر نشوونما پائی۔تاہم یہ درستگی کے ساتھ دھڑک رہا ہے۔لاریب کا واحد علاج آپریشن ہے جس کے ذریعے اس کا دل جسم کے اندر منتقل کیا جائے گا لیکن یہ آپریشن پاکستان میں ممکن نہیں۔ اس کے لیے بچی کو یورپ لیجانا پڑے گا۔“رپورٹ کے مطابق لاریب کا 28سالہ والد زاہد بلوچ ایک غریب آدمی ہے اور کسی معجزے کے انتظار میں ہے ۔ اس نے حکومت اور مخیرحضرات سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کی بچی کا علاج کروانے میں مدد دیں۔

لاریب اس وقت لاہور کے چلڈرن ہسپتال میں داخل ہے جہاں ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ وہ ’ایکٹوپیا کورڈیس‘ نامی مرض کی شکار ہے۔ یہ ایک جینیاتی مرض ہے جو 1لاکھ 26ہزار نومولودوں میں سے کسی ایک کو لاحق ہوتی ہے۔اس مرض کے شکار بچے پہلے ہفتے میں ہی انتقال کر جاتے ہیں تاہم لاریب ڈاکٹروں کی کوششوں سے تاحال عافیت سے ہے اور کسی فرشتے کی منتظر ہے جو اس کا علاج کروا کے اس کی زندگی محفوظ بنا سکے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...