اٹیکنگ سٹریٹجی کی وجہ سے ورلڈ کپ جیتے، ہارنے کا خوف آپ کو ہراتا ہے: عمران خان

اٹیکنگ سٹریٹجی کی وجہ سے ورلڈ کپ جیتے، ہارنے کا خوف آپ کو ہراتا ہے: عمران خان
اٹیکنگ سٹریٹجی کی وجہ سے ورلڈ کپ جیتے، ہارنے کا خوف آپ کو ہراتا ہے: عمران خان

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) چیئرمین تحریک انصاف و 92 ورلڈ کپ کے ہیرو عمران خان نے کہا ہے کہ ہماری ٹیم اٹیکنگ سٹریٹجی کی وجہ سے ورلڈ کپ جیتی تھی ، جب آپ کہتے ہیں کہ میں ہار نہ جاﺅں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ جیتنا چاہتے ہیں اور اگر کسی کرکٹر کو یہ نفسیات سمجھ آ جائے تو اس دن وہ جیتنا شروع ہو جاتا ہے۔

1992 ورلڈ کپ کی فتح کی سلور جوبلی کے موقع پر نجی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ 1987 کے ورلڈ کپ میں ہماری ٹیم فیورٹ تھی لیکن ہار گئی جبکہ 1992 کے ورلڈ کپ میں ایسی ٹیم تھی جس کا سٹار بلے باز سعید انور انجر ہوگیا تھا جبکہ میچ وننگ باﺅلر وقار یونس بھی ٹیم سے باہر تھا، آسٹریلیا کی کنڈیشنز بھی بہت مشکل تھیں ۔ ون ڈے کرکٹ میں اکثر ٹیمیں سپنرز کو اوورز دے کر رنز روکنے کی کوششیں کرتی ہیں لیکن میری اٹیکنگ سٹریٹجی تھی اور اسی وجہ سے ہماری ٹیم 92 کا ورلڈ کپ جیتی۔

پاکستان کے سابق کھلاڑی اعجاز احمد نے 1992کے ورلڈ کپ کے بعد کا انتہائی دلچسپ واقعہ سنا دیا

قومی ٹیم کی فٹنس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے اپنے کیریئر کا ایک دلچسپ قصہ بھی سنایا۔ انہوں نے کہا کہ ” میری ساری فٹنس ٹریننگ کاﺅنٹی کرکٹ میں ہوئی ، جب میں نیا نیا ٹیم میں آیا تو گراﺅنڈ میں دوڑ لگاتا اور جب ایک چکر مکمل ہو جاتا تو سرفراز نواز مجھے کہتا کہ بس کرو، زیادہ بھاگو گے تو میچ سے پہلے تھک جاﺅ گے“۔

عمران خان نے کہا جب میں 24 سال کا تھا تو ہم ویسٹ انڈیز کے دورے پر گئے ، فائن لیگ پر آصف محمود فیلڈنگ پر کھڑا تھا اور اس میچ میں مجھے بہت مار پڑ رہی تھی۔ میں جب بھی گیند کراﺅں تو کھلاڑی اسی طرف سٹروک کھیل دیتے جبکہ آصف محمود ہر دفعہ مس فیلڈ کردیتا ، مجھے بہت غصہ آیا اور میں کپتان انتخاب عالم کے پاس شکایت کرنے چلا گیا جس پر انتخاب عالم نے بجائے فیلڈر کو سمجھانے کے الٹا مجھے ہی کہا کہ تم دھیان سے باﺅلنگ کرو، تمہیں پتہ بھی ہے کہ فائن لیگ پر فاسٹ بولر ریسٹ کر رہا ہوتا ہے تو پھر تم اس طرف گیند کیوں دے رہے ہو۔

میں تو عمران بھائی کے خوف سے برگر نہیں کھاتاتھا:وسیم اکرم

عمران خان نے کسی بھی کام میں جیت کا نسخہ بتاتے ہوئے کہا جب آپ کہتے ہیں کہ ہار گئے تو آپ ضرور ہارتے ہیں لیکن جب آپ کہتے ہیں کہ میں ہار نہ جاﺅں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ جیتنا چاہتے ہیں ، جب کسی کرکٹر کو یہ نفسیات سمجھ آ جائے تو اس دن وہ جیتنا شروع ہو جاتا ہے۔

مزید : کھیل /اہم خبریں


loading...