طالبان کے شیڈو چیف جسٹس کوئٹہ میں مارے گئے ، افغان دعویٰ

طالبان کے شیڈو چیف جسٹس کوئٹہ میں مارے گئے ، افغان دعویٰ
طالبان کے شیڈو چیف جسٹس کوئٹہ میں مارے گئے ، افغان دعویٰ

  


کوئٹہ( ویب ڈیسک) افغان میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان کے شیڈو چیف جج پاکستان میں قتل ہوگئے ہیں۔ افغان خبر رساں ادارے کے مطابق صوبہ غزنی کے پولیس سربراہ بریگیڈئر جنرل امین اللہ امرخیل نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان طالبان کے شیڈو چیف جسٹس مولوی اسحاق جلاد نامی شیڈو جج کوئٹہ کے نواح میں کچلاک کے علاقے میں ایک گروپ کے ساتھ جھڑپ میں مارے گئے اور ان کی میت گزشتہ رات غزنی ضلع کے علاقے اندر کے گاﺅں اوشن میں منتقل کردی گئی ہے۔

طالبان نے اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے تاہم افغان طالبان نے ذرائع ابلاغ میں سامنے آنے والی ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ ان کے نمائندوں نے کابل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے امکانات کے بارے میں بات چیت کے لیے پاکستان کا دورہ کیا ہے۔روس میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی گئی تو اس پر غور یا بات کرسکتے ہیں۔ طالبان ایک عرصے سے افغان حکومت سے براہ راست مذاکرات کو رد کرتے ہوئے اسے ایک "کٹھ پتلی" حکومت قرار دیتے ہیں۔ افغان طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے امریکی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ"ہم (ان میڈیا رپورٹ) کو سختی سے مسترد کرتے ہیں کیونکہ نا تو ہمارے کسی نمائندے نے اسلام آباد کا دورہ کیا اور نا ہی انہوں نے وہاں کسی عہدیدار سے ملاقات کی ہے۔"تاہم انہوں نے واضح طور پر ان اطلاعات کی تردید نہیں کی ہے کہ اگر افغان طالبان کو ماسکو میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی تو وہ اس میں شرکت کریں گے۔ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ "جب ہمیں دعوت دی جائے گی تو پھر ہی ہم اس پر غور کر سکتے ہیں یا اس پر بات کر سکتے ہیں۔"

طالبان کے ترجمان نے یہ بات امریکی خبررساں ادارے کی اس رپورٹ کے ایک دن بعد کہی، جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستانی عہدیداروں نے اسلام آباد میں 7 طالبان رہنماﺅں کی میزبانی کی اور اس کا مقصد طالبان پر دباﺅ ڈالنا تھا کہ وہ افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات میں شامل ہوں۔پاکستانی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار اور ایک انٹیلی جنس عہدیدار نے ”وی او اے“ کو بتایا کہ وہ ایسے "دورے یا بات چیت" سے آگاہ نہیں ہیں۔دونوں عہدیداروں نے یہ نام ظاہر نا کرنے کی شرط پر یہ بتایا کیونکہ وہ اس بارے میں بات کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔تاہم انٹیلی جنس عہدیدار نے کہا کہ "پاکستان افغان امن عمل سے متعلق مذاکرات کی میزبانی کرنے کے معاملے سے دور رہنا چاہتا ہے اور اس کی بجائے وہ اس بات کو ترجیح دے گا کہ کسی ایسے ملک میں (بات چیت) ہو جو سب فریقوں کو قبول ہو۔

مزید : کوئٹہ


loading...