روشن کہیں بہار کے امکاں ہو ئے تو ہیں

روشن کہیں بہار کے امکاں ہو ئے تو ہیں
روشن کہیں بہار کے امکاں ہو ئے تو ہیں

  

جنو بی ایشیا کے ما ہر سٹیفن کو ہن نے ایک دفعہ کہا تھا ’’ امید ایک پا لیسی نہیں ہے اور نہ ہی ناامیدی، ایسا ہی بھا رت اور پاکستان کے تعلقات کے با رے میں کہا جا سکتا ہے‘‘

دو نوں ملک اپنے بنتے اور بگڑ ے تعلقات کی ایک تا ریخ رکھتے ہیں جس میں امن کم اور دشمنی کا رنگ زیا دہ ہے۔دو نوں ملکوں کے عوام ایک جیسا تا ریخی، سماجی، سیا سی اور تہذیبی پس منظر اور شعور رکھتے ہیں اس لیے مصنو عی تلخیوں اور تنا ؤ سے انہیں را بطوں اور نا رمل تعلقات کے مواقع سے محروم رکھنا بہت بڑی زیا دتی ہو گی۔

ان دنوں پاکستان کے دورے پر آ ئے ہندوستانی سکالر، سینٹر فار پیس اینڈ پرا گریس کے چیئر مین اوپی شاہ سے لا ہور کے دا نشوروں کی ملاقات ہوئی، ایک زبر دست شخصیت سے ذاتی ملا قات کی تشنگی با قی رہ گئی تو اگلے دن میں ان سے پھر ملا وہ اپنی گفتگو میں با ر بار اس نکتہ پر تکرار کر تے کہ دونوں ملکوں کے درمیان بڑے اور چھو ٹے تنازعات مو جود ہیں انہیں حل کرناتقریباً نا ممکن ہے مگر انہیں حل کیے بغیر چیلنجز کے اس دور میں آ گے بڑ ھنا بھی ممکن نہیں، یہ وہ حقیقت ہے جسے سب سے پہلے دونوں مما لک کے عوام کو سمجھنا ہے اس کے بعد اس کے اثرات ہمیں سیا سی اور سفارتی سطح پر دکھا ئی دیں گے۔

پا کستان میں جہاں لو گ سمجھتے ہیں کہ بھارت سے کشمیر کے بغیر بات چیت کرنا ایک لا حا صل کو شش ہے اسی طرح ہندوستان میں بھی اس مسئلہ کو پاکستان اور بھا رت کے درمیان بہتر اور نا رمل تعلقات کی راہ میں ایک بڑی وجہِ تنا زعہ سمجھا جا تا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے اس تاثرکی نفی کی کہ بھا رت کشمیر پر بات چیت کو نا ممکن سمجھتا ہے، بلکہ بھا رت تمام تصفیہ طلب معا ملات پر بات کرنا چا ہتا ہے مگر دہشت اور تخریب کا ری کا کو ئی نہ کو ئی وا قعہ اکثر معمول کی طرف جا تے تعلقات کا رخ بدل دیتا ہے۔میں ان سے ملاقات میں سو چتا رہا کہ دہشت اور نفرت کے واقعات سے توکسی بھی ملک کا کو ئی مقصد پورا نہیں ہو نا بلکہ نقصان دو نوں ممالک کا ہو نا ہے اور دونوں ملکوں میں نفرت کا کا روبار سجا نے وا لے سخت گیر عنا صر اور نان سٹیٹ ایکٹرز کو اپنا کھیل کھیلنے کی آ زا دی مل جا نی ہے۔جب جب وہ دہشت گر دی کے وا قعات پر ہندوستا نی پو زیشن واضح کر رہے تھے تب تب میرے ذہن میں مو دی جی کے وزرا سبرا مینن سوامی ، منو ہر پا

ریکھر اور اجیت ڈووال کی پاکستان مخا لف ڈا کٹرا ئن کا خیال آ رہا تھا،خود مو دی صا حب دو نوں ملکوں کو غریبی مکا ؤ کے بھا شن دیتے رہتے ہیں اور ان کے وزرا پاکستان مخا لف ما حول میں مزید شدت لاتے ہیں ، شرم الشیخ میں اس وقت کے وزیر اعظم یو سف رضا گیلا نی اور من مو ہن سنگھ کے درمیان یہ اصول طے پا گیا تھا کہ دو نوں مما لک خطے میں ہو نے وا لی دہشت گر دی کے با و جود آ پس میں تعلقات کی بحا لی کی کوشش کریں گے۔اب ایسے میں سفارتی ڈیڈ لاک کیسے ختم ہو جب پاکستان کہے سب سے پہلے کشمیر اور بھا رت سے جواب آ ئے پہلے دہشت گردی پر بات کریں۔ہندوستان ایک بڑا اور مختلف الخیال لو گوں اور متنو ع نظریات کا ملک ضرور ہے مگرپاکستان کے حوا لے سے ہندو ستا نی دا خلی سیا ست کا ایک اپنا رنگ ڈھنگ ہے، آ ر ایس ایس، شیو سینا اور ا س

نو عیت کی تنظیموں کو بھا رت کے اجتما عی معا شرے کی آ واز اور خواہش کیسے نہ سمجھا جا ئے جب سمجھو تہ ایکسپریس سانحے پر کو ئی پیشرفت ہو سکی ہو، دا خلی طور پر مسلما نوں کے خلاف مجمو عی فضا کا عا لم یہ ہو کہ مسلم معا شرہ موثر ہو نے کی بجا ئے ایک متا ثر معا شرہ بن کر رہ گیا ہو۔مگر پھر بھی حکمت اور سفارتی تدبر کا تقا ضا یہی ہے کہ پا کستا نی قیا دت اور ملکی تقدیر کے مالک طا قتور طبقات کو اس پر کان دھر نے کی بجائے اعتما دسازی کی فضا کو بہتر بنا نے میں اپنے حصے کا کام کر نا چا ہئے اس سے ھندوستان میں رائے عا مہ دفا عی پو زیشن پر آ جا ئے گی کیو نکہ بھا رت میں بھی اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ لڑا ئی اور جنگ کو ئی آ پشن نہیں۔

پا کستان اور بھارت کو اپنے تعلقات معمول کی سطح پر لا نے کے لیے ترقی یا فتہ ملکوں اور مغرب کی معا شی قوتوں کی طرف نظر دوڑا نی چا ہئے کہ کیسے جر منی اور فرانس جیسے دشمن ہمسائے اپنے تعلقات کو بالآخر معمول پر لائے اور اس کے فوا ئد نے دونوں طرف کے عوام کی زندگی کو بہتر بنا دیا ہے ، جرمنی

اور فرانس میں دشمنی اور تلخی کا خا تمہ ہوا ہے اور دونوں یو رپی یو نین کی معیشت میں ڈرا ئیونگ فورس بن گئے ہیں اور عا لمی معا ملات میں فیصلہ کن قوت بن گئے ہیں۔ ترکی اور یو نان جیسے روایتی حریفوں کی قیا دتوں نے بھی ایک دو سرے کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑ ھا دیا ہے، بھارت اور پاکستان جیسے ممالک نے بھی بالآخر اپنے تعلقات کو معمول پر لا نا ہے، اس کے لیے پہلے مر حلے میں عوام سے عوام کا رابطہ ہر صورت بحال اور مضبوط ہو نا چا ہئے۔کسی نہ کسی سطح پر یہ کو ششیں ہو بھی رہی ہیں ، پاکستان بھارت میں امن اور نارمل تعلقات کا راستہ دو طر فہ ’’ پیپل ٹو پیپل‘‘ رابطہ ہے ،بھا رتی سول سو سا ئٹی کے او پی شاہ کا دورہ پا کستان بھی اس خا موش ٹریک ٹوسفارتکا ری کا آ غاز ہے او ر یاد رکھئے کہ یہ محض آ غاز ہے اگر اسے کسی مثبت انجام اورموڑ دینا ہے تو اس کے لیے دو نوں ملکوں کی حکومتوں کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا چا ہئے بھا رت چو نکہ ایک بڑی جمہوریہ اور ثقا فتی قوت ہے لہذٰا اس پر ذمہ داری بھی زیا دہ ہے اور وہ عوا می رابطے میں حا ئل رکا وٹیں پہلے ختم کر ے تا کہ مذاکرت کے لئے منا سب اور سازگار ماحول بنے۔ ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے پاکستان میں سیا سی بحران ختم ہو اور ملک میں ایک مضبو ط حکو مت قا ئم ہو جو سیا سی قوتوں کو ساتھ لے کر اسٹیبلشمنٹ سے اختیار اپنے ہاتھ میں لے (فی الحال ایسی کو ئی امید نہیں)۔ اس وقت جو تلخی دو نوں ملکوں کے درمیان ہے اس میں پا کستان کے اندر بیٹھ کر امن کی بات کرنے کے لیے بڑا دل چا ہئے اور بھا رت میں بھی بیٹھ کر امن کی خواہش تو پا لی جا سکتی ہے مگر بات کرنے کے لیے پہاڑ جتنا حو صلہ اور ہمت چا ہئے ایسے حالات میں ہندوستانی معا شرے کا اصل ضمیر اوپی شاہ جیسے لوگ دکھا ئی دیے جو گھٹن کے مو سم میں بہارِ تازہ کا جھو نکا ثابت ہو ئے ہیں، گو یا ہندوستان میں پا کستان مخا لف ہوا ؤں کے با جود امن کی خوا ہش رکھے ہو ئے ہیں بلکہ عملاً اس روش پر چل بھی رہے ہیں گو یا’’روش کہیں بہار کے امکاں ہو ئے تو ہیں‘‘حا لات نا رمل ہوئے تو وہ دن دور نہیں جب رمضان میں دعوتِ افطار سر حد کے اس پار ہو گا اور ہو لی کے تہوار پر پا کستا نی مہمانوں کو بھی بلا یا جا ئے گا ، ہما ری دعا ہے یہ میلے ٹھیلے اور صو فیا کے عرس ایک با ر پھر سے ایک ہو جا ئیں اور دونوں ملکوں کے شہری خلوص کے رنگ میں رنگ جائیں اور محبتوں کے رشتوں میں جڑ جا ئیں مگر دیکھنا کہیں سر حد پر گو لی چلنے سے میرا یہ خواب چکنا چور نہ ہو جائے۔

مزید :

رائے -کالم -