کرونا سے بچاؤ، نشتر انتظامیہ ان ایکشن، ٹیلی میڈیسن سروسز شروع

کرونا سے بچاؤ، نشتر انتظامیہ ان ایکشن، ٹیلی میڈیسن سروسز شروع

  



ملتان، راجن پور، کوٹ ادو، خان گڑھ، بہاولپور (نمائندہ خصوصی، سٹاف رپورٹر، کوٹ رپورٹر، ڈسٹرکٹ رپورٹر، تحصیل رپورٹر، نمائندہ پاکستان)کرونا وائرس سے (بقیہ نمبر9صفحہ12پر)

بچاؤ کیلئے نشتر میڈیکل یونیورسٹی ملتان کی انتظامیہ نے مریضوں کی آسانی کیلئے ایک بڑا قدم اٹھا لیا، نشتر ہسپتال میں مریضوں کی سہولیات کیلئے ٹیلی میڈیسن کی سروسز کا آغاز کردیا گیا۔ افتتاح کے موقع پر وائس چانسلر نشتر میڈیکل یونیور سٹی پروفیسر ڈاکٹر مصطفی کمال پاشا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر میں کرونا وائرس کے منڈلاتے ہوئے خطرات اور اس کے انسانی جانوں پر خطرناک اثرات سے بچاؤ کے لیے ٹیلی میڈیسن (طبی مشاورت کیلئے ٹیلی فونک سروسز) کی سروسز کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مریض ہسپتال آنے کی بجائے دستیاب سہولیات سے فائدہ اٹھائیں۔ اس حوالیسے انہوں نے مندرجہ ذیل فون نمبرز061-4540210-061-4540211-061-4540212-061-4540213-061-4540214-061-4540215جاری کرتے ہوئے بتایا ان فون نمبرز پر کال کر کے شہری 24 گھنٹے فری طبی مشورے لے سکیں گے،ٹیلیفون پر موجود طبی عملہ نہ صرف کورونا وائرس کے حوالے سے عوام کو آگاہی فراہم کرے گا بلکہ کسی بھی ایمرجنسی صورتحال میں میں مناسب مشورہ بھی دے گا۔ مزید برآں ٹیلی فون پر موجود عملہ مریضوں کو میڈیسن، سرجری، امراض اطفال، امراض نسواں اور آنکھوں کے امراض کیلئے سپیشلسٹ ڈاکٹروں سے مریضوں کی بات بھی کروائے گا۔ مزکورہ بالا فون نمبروں پر 24 گھنٹے رابطہ کیا جا سکے گا.نشتر ہسپتال ملتان میں جہاں اس وقت عام شہری کورونا کے شبہ میں مبتلا ہو کر آئی سو لیشن وارڈ میں زیر علاج ہیں وہیں نشتر ہسپتال کے مختلف وارڈ کے ڈاکٹر بھی بیمار پڑ رہے ہیں جبکہ گزشتہ روز پیرا میڈیکس شاہین یونٹی کا عہدیدار وارڈ سرونٹ ہمراز نیازی جو آئی سو لیشن وارڈ میں ڈیوٹی کر رہا تھا اسے کورونا کے شبہ میں آئی سو لیشن وارڈ داخل کر لیا گیا ہے اس حوالے سے ینگ نرسز ایسوسی ایشن نے نشتر ہسپتال میں آئسولیشن وارڈ میں اپنی نرسز کی حوصلہ افزائی کے لئے وارڈ کا دورہ کیا تاہم عہدیدران کا کہنا تھا کہ آئی سو لیشن میں کام کرتے بہنوں اور بھائیوں کی حالت دیکھ کر ہمارے حوصلے پست ہو گئے،آئسولیشن وارڈ جہاں پہ 8 مشتبہ کرونا مریض داخل ہیں, اور ہمارے نرسز ایک سادہ ڈسپوزایبل ماسک کے ساتھ وہاں ڈیوٹی کر رہی ہیں، سیفٹی کٹس تو دور کی بات ایک ڈسپوزایبل گاون تک نہیں ہے،وائی این اے نے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سے ملاقات کی اور سیفٹی کٹس کی فراہمی کے لئے آواز اٹھائی،مگر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے مطابق انکو کہیں سے حفاظتی کٹس نہیں مل رہیں،ڈاکٹر یاسمین راشد اس کڑے وقت میں جتنا ظلم کر رہیں اس کی مثال نہیں مل رہی،ادھر پیرا میڈیکس ایسوسی ایشن شاہین یونٹی کے صدر رانا عامر کا کہنا تھا کہ ہمارا پیرا میڈیک کورونا کہ شبہ میں آئی سو لیشن داخل ہو گیا ہم سب جان پر کھیل کر ڈیوٹیاں دینے کو تیار ہیں لیکن حکومت ایک قدم تو بڑھائے اور ہمارا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کم از کم کٹس تو دے اگر ایسا نہ کیا گیا تو پورا نشتر ہسپتال کا عملہ کورونا میں مبتلا ہو جائیگا۔ ڈبلیو ایچ او کی جانب سے جاری گائیڈ لائینز کے مطابق پہلی حفاظتی سٹیج کیلئے حفاظتی یونیفارم، گلوز ماسک اور کیپ لازم ہے جبکہ محکمہ صحت نے صرف ماسک اور گلوز ہی لازم قرار دئیے،ڈبلیو ایچ او کے مطابق دوسری حفاظتی اسٹیج پر کیپ، این 95ماسک،ڈسپوزبل میڈیکیٹڈ یونیفارم اور گلوز لازم قرار دئیے گئے جبکہ محکمہ صحت نے صرف گلوز، سرجیکل ماسک اور کیپ لازم قرار دی ہے،ڈبلیو ایچ او کے مطابق تیسری حفاظتی اسٹیج پر سرجیکل کیپ، این 95 ماسک، ڈسپوزبل میڈیکل یونیفارم، سانس لینے کیلئے حفاظتی مشین ضروری قرار دی گئی ہے جبکہ محکمہ صحت پنجاب نے لیول تھری پر صرف کیپ، این 95 ماسک گلوز اور گوگلز لازم قرار دئیے ہیں، اس حوالے سے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب،ینگ ڈاکٹرز ریفارمرز،پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اور پائینرز یونٹی کے عہدیدران ڈاکٹر مسعود الروف ہراج،ڈاکٹر شاہد راو،ڈاکٹر میاں عدنان،ڈاکٹر خضر حیات،ڈاکٹر فاران اسلم اور ڈاکٹر ساجد اختر سمیت دیگر کا کہنا تھا کہ محکمہ صحت پنجاب نے کہیں بھی حفاظتی یونیفارم کو لازم قرار نہ دے کر ہزاروں ڈاکٹرز پیرامیڈیکل اسٹاف اور نرسز کی جان کو خطرے میں ڈال دیا ہے،حفاظتی یونیفارم نہ ہونے سے ڈاکٹرز اور عملے میں وائرس پھیلنے کا اندیشہ پیدا ہو چکا ہے،محکمہ صحت پنجاب عملے کی حفاظت کیلئے غیر سنجیدہ ہے۔ بہاالدین زکریا یونیورسٹی انتظامیہ نے ملازمین کو حفاظتی سامان فراہم کردیا، جبکہ ملازمین کی چھٹیوں کیلئے شیڈول بنانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ڈیوٹی پر ا?نے والے سیکورٹی گارڈز، خاکروب، مالی بیلدار، مینٹیننس ونگ کے سٹاف کو بالترتیب چھٹیاں دی جائیں گی جس کے لئے شیڈول بنایا جارہے ہیں۔کرونا وائرس کے باعث بہاالدین زکریا یونیورسٹی کی شٹل سروس بند ہوگئی کرونا وائرس کی نئی ایڈوائزی کے بعد زکریا یونیورسٹی انتظامیہ نے آج سے نیا ٹرانسپورٹ شیڈول جاری کردیا جس کے مطابق بند بوسن کو ملازمین سے لانے اورلیجانے والا روٹ بند کردیاگیا، جبکہ یونیورسٹی اور نو نمبر چونگی سے ہر ا?دھے گھنٹے بعد چلنے والی شٹل سروس کو 6 اپریل تک مکمل طور پر بند کردی گئی ہے۔ملتان میں قائم قرنطینہ میں زائرین کو تفتان سے لانے والی بسوں کے 76 ڈرائیورز اور کنڈیکٹرز کے کورونا وائرس کے رزلٹ نیگیٹو آ گئے جس پر 29 بسوں کا قافلہ واپس بلوچستان روانہ ہو کر دیا گیا ہے۔29 بسوں کے 76 ڈرائیورز اور ہیلپرز گزشتہ شب قرنطینہ سے روانہ ہوئے۔زائرین 31 بسوں میں ملتان پہنچے تھے۔ بسوں کے 80 ڈرائیورز اور ہیلپرز کے بلڈ سکریننگ ٹیسٹ لئے گئے۔اب تک کل4 ڈرائیورز کے ٹیسٹ پازیٹیو آئے ہیں۔متاثرہ ڈرائیورز طیب اردگان ہسپتال میں داخل ہیں۔7ڈرائیورز اور ہیلپرز کے بلڈ ٹیسٹ ہونا ابھی باقی ہیں 1187زائرین کے بلڈ سکریننگ ٹیسٹ بھی لے لئے گئے اور ان کے سیمپل لاہور ارسال کر دئے گئے ہیں۔قرنطینہ میں صفائی ستھرائی کے انتظامات مزید موثر بنادیے گئے ہیں۔ مرکزی سڑک،بلڈنگز کے درمیان روڈ پر چھڑکاو اور لائم لائنگ کے علاوہ نادر آباد پھاٹک سے قرنطینہ آنے والی سڑکوں کی بھی صفائی ستھرائی کی جارہی ہے۔قرنطینہ میں سیکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کردئے گئے۔بلڈنگز کے اطراف میں خاردار تاریں لگا دی گئیں۔گورنمنٹ آف پنجاب سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کی کورونا ایکسپرٹ ایڈوائزری گروپ نے کورونا وائرس سے روک تھام کے حوالے سے کلورین اور ہائیڈروا?کسی کلورین کے استعمال پر تحفظات کا اظہار کر دیا ہے، سائنسی طور پر ابھی اتنے شواہد نہیں اس کو استعمال کیا جائے، اس کے سائیڈ ایفیکٹس ہو سکتے ہیں، نوٹیفکیشن تفصیل کے مطابق سیکرٹری سیشپلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے جبکہکورونا وائرس ایک بڑا چیلنج ہے اور اسے مل کر ہی شکست دیں گے۔حکومت پنجاب نے شہریوں کی زندگیاں محفوظ بنانے کے لئے بڑا اقدام اٹھایا ہے۔حکومت پنجاب نے صوبہ بھر میں 14 روز کے لئے جزوی لاک ڈاؤن کرتے ہوئے دفعہ 144 کا نفاذ کیا گیاہے۔یہ باتیں ڈپٹی کمشنر راجن پور ذوالفقار علی نے ایک میٹنگ کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہیں۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے عو

مزید : ملتان صفحہ آخر