کرونا پر حکومتی انتظامات ناکافی پنجاب میں 12لاکھ افراد ہلاک ہوسکتے ہیں: پروفیسر محمودالحسن

کرونا پر حکومتی انتظامات ناکافی پنجاب میں 12لاکھ افراد ہلاک ہوسکتے ہیں: ...

  



لاہور(انٹرویوجاوید اقبال،تصاویر ذیشان منیر) ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سروسز ہسپتال کے چیئرمین اورشعبہ میڈیسن کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن نے کہا ہے کہ کرونا کے حوالے سے حالات انتہائی تشویش ناک ہیں اور محکمہ صحت ابھی تک کرونا وائرس کے علاج معالجہ کیلئے ایس او پیز ہی سامنے نہیں لا سکا۔ ماہرین انفیکشن ڈیزیز نے موجودہ انتظامات کو غیر تسلی بخش کرار دیتے ہوئے وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد اور وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار کو اپنی تشویش سے آگاہ کر دیا ہے۔ ماہرین نے کہا ہے کہ حکومتی انتظامات نا کافی اور غیر تسلی بخش ہیں اگر یہ وائرس بڑھا تو صرف پنجاب میں 10 سے 12 لاکھ لوگ لقمہ اجل بن سکتے ہیں۔ پاکستان فورم میں اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر محمود الحسن نے کہا کہ کرونا وائرس کا پھلاؤروکنے کیلئے صوبے میں لاک ڈاؤن کرنا اچھی بات ہے مگر یہ 15دن بعد کیا گیا جس کا خمیازہ قوم بھگتے گی۔ہسپتالوں میں علاج معالجہ اور صوبے میں آگاہی مہم آج بھی غیر تسلی بخش ہے۔ ہسپتالوں کے آؤٹ ڈورز کو مستقل بند کر کے وٹس ایپ ٹیلی میڈسن کا نظام فوری طور پر پورے صوبے میں چلایا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ دو دو ہزار ڈاکٹروں کا وٹس ایپ ٹیلی میڈیسن گروپ کا اجرء کرے اور لاک ڈاؤن کیلئے سختی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کا ابھی تک کوئی علاج دریافت نہیں ہوا یہ ایک انفیکشن ہے جو پھیپھڑوں کو متاثر کرتاہے اور انہیں کھا جاتا ہے جس سے سانس رک جاتی ہے اور مریض کو مجبورا وینٹی لیٹر پر ڈالنا پڑتا ہے جن کی زندگی ہو وہ صحت مند ہو جاتے ہیں۔ اگر عوام میں ملنا جلنا نہ روکا گیا تو اس میں تیزی آئے گی۔افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ابھی تک ماہرین صحت، ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کو کسی قسم کی سنٹرل گائیڈلائن فراہم نہیں کی گئی سب اندھیرے میں ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں جو انتہائی خطرناک ہے۔ گائیڈلائن سفارشات دینا ماہرین میڈیسن اور انفیکشن ڈیزیزکے ماہرین کا کام ہے مگر پنجاب میں ریٹائرڈ سرجنوں، حاضر سرجنوں اور بچہ سرجنوں سے گائیڈ لائن لی جا رہی ہے جس سے یہ لگ رہا ہے کہ پالیسیاں بنانے والوں کو یہ سمجھ نہیں آرہی کہ وہ کیا کریں۔ ڈاکٹر محمود الحسن نے کہا کہ عوام کو بھی اپنا لائف سٹائل بھی تبدیل کرنا ہو گا اور خود کو اور دوسروں کو اس وائرس سے بچانے کیلئے اپنا اپنا کردار نبھانا ہو گا۔ یہ بات بھی علم میں آئی ہے کہ بعض لبارٹریاں کرونا ٹیسٹ کے نام پر لوٹ مار کر رہی ہیں۔ڈاکٹر محمودالحسن نے انکشاف کیا کہ کرونا وائرس میں خون کے گروپ کا بڑا عمل دخل سامنے آیا ہے۔ چین میں جو لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوئے ان کے خون کے گروپ A+اور A-تھے جبکہ جو سب سے زیادہ کم لوگ متاثر ہوئے اور اگر ان پر وائرس کا حملہ ہوا بھی تو وہ جلد صحت یاب ہو گئے ان کے خون کے گروپ O+اور O-تھے۔

پروفیسر محمود الحسن

مزید : صفحہ آخر