متفقہ موقف کے لئے وسیع تر قومی مشاورت

متفقہ موقف کے لئے وسیع تر قومی مشاورت

  



قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر نے بدھ کے روز پارلیمینٹ کے دونوں ایوانوں کے پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس طلب کر لیا ہے،قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف اجلاس میں شریک ہوں گے، سپیکر نے اُن کی وطن واپسی پر سب سے پہلے انہی سے رابطہ کیا تھا،دوسرے شرکا میں سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی، سینیٹ میں قائد حزبِ اختلاف راجہ ظفر الحق، وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی، سینیٹ میں قائد ایوان شبلی فراز اور وزیراعظم کے مشیر برائے اقتصادی امور عبدالحفیظ شیخ شامل ہیں۔وزیراعظم عمران خان اس اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے، اجلاس میں ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دیئے جانے کا امکان ہے،جس میں کورونا وائرس کے معیشت پر اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔دوسری جانب پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی تجویز پر آل پارٹیز ویڈیو کانفرنس بُلائی گئی ہے، جس پر ان کی شہباز شریف، مولانا فضل الرحمن، چودھری پرویز الٰہی، اختر مینگل اور ایمل ولی خان سے ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی ہے۔ مزید رہنماؤں کی شرکت کا بھی امکان ہے۔

آزمائش کی اس گھڑی میں وسیع تر قومی مشاورت کا اہتمام خوش آئند ہے،ویسے بہتر ہوتا کہ آل پارٹیز کانفرنس کی تحریک حکومت کرتی اور وزیراعظم اس میں قائدانہ کردار ادا کرتے اور کھلے دِل کے ساتھ اپنے مخالف رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کرتے،جنہوں نے حکومت کو ہر طرح کے تعاون کی پیشکش کر رکھی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری تو اس موقع پر سیاسی مخالفت سے دستبردار ہو چکے ہیں اور شہباز شریف نے وطن واپس آتے ہی شریف گروپ کے تمام ہسپتال اور دوسرے طبی ادارے حکومت کو دینے کی پیشکش کی ہے،حکومت کو اس سے فائدہ اٹھانے میں کسی ہچکچاہٹ سے کام نہیں لینا چاہئے اور سکولوں وغیرہ کی عمارتوں میں آئسولیشن سنٹر بنانے کی بجائے جہاں تمام انتظامات نئے سرے سے کرنے پڑیں گے، اِن ہسپتالوں میں ایسے مراکز بنانے چاہئیں جہاں تمام تر سہولتیں پہلے سے موجود ہیں، مریضوں کے لئے بستر بھی ہیں اور ہسپتالوں میں ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل سٹاف بھی موجود ہے۔جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق بھی الخدمت فاؤنڈیشن کے تحت چلنے والے ہسپتال، اور ڈسپنسریاں حکومت کو پیش کر چکے ہیں۔یہ معلوم نہیں کہ ان پیش کشوں کا کیا جواب دیا گیا ہے۔ البتہ بالواسطہ جواب وزیراعظم کی معاونِ خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی جانب سے آیا ہے کہ سیاسی دکانداری چمکانا ٹھیک نہیں، ممکن ہے انہوں نے اپنی دوربین نگاہوں سے ان پیش کشوں کے اندر کوئی ”دکانداری“ دیکھ لی ہو، جو تاحال اُن کے سوا کسی دوسرے کو نظر نہیں آئی۔

وزیراعظم عمران خان نے اتوار کی دوپہر کہا تھا کہ لاک ڈاؤن کی ضرورت نہیں ہے،لیکن ان کے الفاظ کی باز گشت ابھی فضا میں موجود تھی کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا،جو ابھی کل تک وزیراعظم سے متفق تھے کہ لاک ڈاؤن ضروری نہیں ہے۔بہرحال اب انہوں نے فیصلہ کیا ہے تو ممکن ہے وائرس کے پھیلنے کے حوالے سے اُن کے پاس کچھ نئی معلومات آئی ہوں،جن کی روشنی میں لاک ڈاؤن ناگزیر ہو گیا ہو، اُن کے اس فیصلے کو سراہا جا رہا ہے،لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ فیصلہ پہلے ہو جاتا تو زیادہ اچھا ہوتا اور اب تک ایسے فیصلے کے مثبت اثرات نظر بھی آ رہے ہوتے۔عین ممکن ہے لاک ڈاؤن کے معاملے میں وزیراعظم کی رائے اب بھی وہی ہو جو قوم کے نام اُن کے خطاب میں سنی گئی،لیکن عملاً اب پورا ملک ہی لاک ڈاؤن ہے۔

وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے ”گھر رہیں، محفوظ رہیں“ مہم کا افتتاح کر کے لوگوں کو گھر سے باہر نہ نکلنے کی تلقین کی ہے تاہم یہ وضاحت بھی کر دی گئی ہے کہ لاک ڈاؤن کا مطلب کرفیو نہیں ہے، درست کہا گیا ہے،لیکن اگر لوگ اپنی آزاد مرضی سے گھروں سے باہر نہ نکلیں، یا حکومت کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے گھروں میں رہیں، دونوں صورتوں میں جوہری طور پر تو کوئی فرق نہیں،ویسے بھی مقصود تو یہ ہے کہ لوگوں کا میل میلاپ ختم ہو جائے تاکہ وائرس سے محفوظ رہیں،جو ایک انسان سے دوسرے انسان کو متاثر کرتا ہے، ملک میں امراضِ خون کے ممتاز ماہر ڈاکٹر طاہر شمسی نے خبردار کیا ہے کہ کورونا کی وبا اب ایسے مرحلے پر پہنچ گئی ہے،جہاں وائرس کی شدت میں تیزی آ جائے گی اور اس کا رُخ ایشیائی ممالک بشمول پاکستان کی طرف ہو گا۔صوبہ سندھ میں وائرس کی شدت میں اضافہ ہوا ہے،ان مشکل حالات میں قوم کو متحد ہونے کی ضرورت ہے اور ہر قسم کے سیاسی اور دوسرے اختلافات بھلا کر وسعت ِ قلبی اور کشادہ نگاہی کا رویہ اپنانے کی ضرورت ہے، ہر قسم کی تنگ دِلی اور تنگ نظری کو طاقِ نسیاں کی زینت بنا کر آگے بڑھنا وقت کا تقاضا ہے۔

جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں اس وقت تک آل پارٹیز ویڈیو کانفرنس کی سفارشات سامنے نہیں ہیں،لیکن امکان یہی ہے کہ اس کانفرنس میں حکومت کو ہر قسم کے تعاون کی پیشکش کی جائے گی۔ توقع یہی کرنا چاہئے کہ ایسی کسی پیش کش کا جواب بھی اسی جذبے سے دیا جائے گا اور حزبِ اختلاف کی سرگرمیوں کو روایتی نظر سے دیکھنے کا رویہ ترک کر دیا جائے گا۔حکومت اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ اسے اپوزیشن جماعتوں کا غیر مشروط تعاون بغیر مانگے مل رہا ہے،جہاں تک ہماری یاد داشت کام کرتی ہے حکومت نے اس سلسلے میں اپوزیشن جماعتوں سے کسی رابطے کی ضرورت محسوس نہیں کی اور مخالف جماعتیں جو بھی کر رہی ہیں،یکطرفہ طور پر کر رہی ہیں،حکومت شاید ان جماعتوں سے کسی مشورے کی ضرورت محسوس نہ کرتی ہو اور اپنے تئیں یہ سمجھتی ہو کہ وہ اکیلے ہی درپیش حالات کو سنبھالنے کی طاقت رکھتی ہے،لیکن نظر یہی آتا ہے کہ اس مرحلے پر اگر قومی اتحاد کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو صورتِ حال کی سنگینی پر قابو پانا مشکل ہو گا۔

سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے پارلیمانی رہنماؤں کا جو اجلاس طلب کیا ہے اس کا مقصد معیشت پر کورونا کے اثرات کا جائزہ لینا ہے،جن کا ابھی پوری طرح احاطہ اِس لئے نہیں کیا جاسکتا کہ ابھی یہ وبا جاری ہے اور نہیں کہا جا سکتا یہ کس حد تک پھیلے گی۔حکومت70 لاکھ دیہاڑی داروں کے لئے جس پیکیج کا اعلان کر رہی ہے اس پر بھی بھاری اخراجات ہوں گے اوربحران جاری رہنے کی صورت میں ان میں اضافہ ہو گا،اِس لئے معیشت پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ تو ابھی عبوری طور پر ہی لیا جا سکتا ہے۔ البتہ وائرس کی تباہ کاریوں کے سامنے قومی عزم کی مضبوط دیوار بنانے کے لئے جس قسم کے اتحاد کی ضرورت ہے اس کا آغاز حزبِ اختلاف نے کر دیا ہے، حکومت کو آگے بڑھ کر اس کا خیر مقدم کرنا چاہئے۔

مزید : رائے /اداریہ