قیدیوں کی رہائی،سنجیدہ مسئلہ؟

قیدیوں کی رہائی،سنجیدہ مسئلہ؟

  



کیمپ جیل لاہور میں مقید ایک قیدی میں کورونا وائرس کی تصدیق کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ سپرنٹنڈنٹ جیل کے مطابق قیدی نے بخار کی شکایت کی جس کے بعد ابتدائی سکریننگ میں وہ مشکوک مریض قرار پایا،اب مزید ٹیسٹ کے بعد مکمل تصدیق ہو گی۔فی الحال اُسے دوسرے لوگوں سے الگ کر دیا گیا ہے۔پاکستان میں جیلوں کا نظام اور حالت بھی دوسرے شعبوں کی طرح درست نہیں،جیلیں نہ صرف مرمت طلب ہیں،بلکہ ان میں گنجائش سے کہیں زیادہ حوالاتی اور قیدی محبوس ہوتے ہیں،اس سلسلے میں پہلے بھی قیدیوں میں امراض کی نشاندہی ہو چکی ہوئی ہے اور طبی سہولتوں کا بھی فقدان ہے، اسی حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اڈیالہ جیل کے حوالے سے درخواست دائر کی گئی۔عدالت عالیہ نے فیصلہ دیا اور406 قیدیوں کو ذاتی مچلکوں پر رہا کرنے کی ہدایت کی اور ایک سہ رکنی کمیٹی کے سپرد یہ کام کیا گیا کہ وہ تسلی کے بعد رہائی کے فیصلے کریں،جہاں تک کرونا کے پھیلاؤ کا معاملہ ہے تواس کی روک تھام کے لئے گنجان علاقوں پر توجہ دینے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے تو جیلیں بہت بڑی مثال ہیں، جہاں گنجائش سے کہیں زیادہ افراد محبوس ہونے کی وجہ سے ایک ایک کوٹھڑی میں دس دس بارہ بارہ لوگ بند کئے جاتے ہیں۔ یوں جیل میں کسی ایک کو وائرس کے چھو لینے سے بڑا المیہ جنم لے سکتا ہے،اسی حوالے سے اسلام آباد کی عدالت عالیہ کا فیصلہ مستحسن ہے، کہ معمولی جرائم والوں کو ذاتی مچلکوں پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے، تاہم اس سلسلے میں حکومتوں (وفاقی+صوبائی) کو وسیع تناظر میں فیصلے کی ضرورت ہے کہ جیلوں میں بھی جگہ پیدا کرنے کے لئے بڑا فیصلہ کیا جائے اور کم از کم زیر حراست حوالاتیوں کو فوری طور پر ضمانتوں پر رہا کر دیا جائے،اسی طرح جن سزا یافتہ لوگوں کی سزا کم رہ گئی ان کی باقی سزا معاف کرنے کا فیصلہ کیا جائے۔ایران کی مثال سامنے ہے کہ وہاں سزا، جزا کے سخت عمل کے باوجود کورونا کی وجہ سے ہزاروں قیدی رہا کر دیئے گئے،ہمارے ملک میں بھی یہ عمل جلد ہونا اور فیصلہ کرنا چاہئے تاکہ جیلوں میں جگہ بن سکے۔

مزید : رائے /اداریہ